جام نور  ایک تعارف

جام نورکی بنیاد:

بیس ویں صدی کے نصف آخر میں متحدہ ہندوستان کے اندر جو مشاہیر علمااور مذہبی قائدین گزرے ہیں ،ان میں علامہ ارشدالقادری (۱۹۲۵ء-۲۰۰۲ء)کا نام اپنی بے مثال خدمات کی وجہ سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے-علامہ قادری ایک جلیل القدر عالم دین،صاحب طرز مصنف، نکتہ رس خطیب،منجھے ہوئے مدرس، عالمی مبلغ،مناظر،معمار اور سیاسی مدبر تھے- اپنی ان تمام حیثیتوں کے ساتھ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے غیر معمولی خدمات پیش کیں،جن کا سلسلہ تقریباً چھ دہائیوں پر محیط ہے ۔

بیس ویں صدی کی ساتویں دہائی کے آغاز میں علامہ قادری نے کلکتہ (بنگال)سے پندرہ روزہ’’جام کوثر‘‘ کا اجرا کیا،جس نےبہت ہی مختصر عرصے میںمذہبی رسائل و جرائد کی دنیا میں اپنا مقام بنالیا،گو کہ جس زمانے میں جام کوثرکا آغاز ہوا،شعبۂ صحافت نے اتنی ترقی نہیں کی تھی،اس لیے ’’جام کوثر ‘‘بھی اپنے روایتی مذہبی طرز سے نکل رہا تھا،لیکن اس کی مقبولیت کی وجہ علامہ قادری کا انوکھا طرز نگارش اورمذہبی دنیا کاغیر معمولی اسلوب تھا،جس نے’’ جا م کوثر‘‘ کوامت کے تمام مکاتب فکر میں مقبول بنادیا -یہ رسالہ تقریباً دو برسوں تک نکلتا رہا،اس درمیان ۱۹۶۵ء میں جمشیدپور،بہار(موجودہ جھارکھنڈ) میں ہندومسلم فساد پھوٹ پڑااور’’جام کوثر‘‘ کی ادارتی حق بیانی پر حکومت نے حکم امتناعی نافذکردیااور علامہ قادری کو کئی ماہ قیدو بندکی مشقت بھی برداشت کرنی پڑی، اس طرح داعی حق کا یہ بے باک ترجمان بندہوگیا،مگر علامہ قادری حکومت کے سامنے سپرانداز نہیں ہوئے اور قید سے رہائی کے فوراً بعد ’’جام نور‘‘کے نئے عنوان سے ایک ماہ نامہ جاری کردیا -قارئین پر علامہ کی فکرانگیز تحریراوردلکش اسلوب کا خمارچھایا ہواتھا،اس لیے جیسے ہی یہ رسالہ منظرعام پرآیاہرمکتب فکر کے قارئین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیااور دیکھتے دیکھتے’’ جام نور‘‘ شہرت و مقبولیت کی بلندی پر پہنچ گیا،مگر افسوس علامہ قادری کی ملکی اور بین الاقوامی مذہبی، تصنیفی،ملی اور تبلیغی مصروفیات اس کی مسلسل اشاعت میں حارج ہوتی رہی،یہاں تک کہ دوڈھائی سال کے بعد’’جام نور‘‘کی اشاعت بھی بندہوگئی،جس کا علامہ قادری کو ذاتی طور پر بہت قلق رہا-اس کے بعد بھی علامہ قادری نے اپنے قائم کردہ ادارہ ’’ادارہ شرعیہ‘‘پٹنہ سے دورسالے پندرہ روزہ’’ شان ملت‘‘اور ماہ نامہ’’ رفاقت‘‘جاری کیے،مگر ان رسالوں کی وہ سرپرستی فرماتے رہے،جب کہ ادارتی فرائض دیگرعلما انجام دیتے رہے۔

فکری تشکیل نوکی ضرورت:

علامہ ارشدالقادری رحمہ اللہ کا وصال اپریل ۲۰۰۲ء میں ہوا،مگر ان کے سینے میں ہمیشہ یہ خواہش موجزن رہی کہ کاش ایک بار ’’جام نور‘‘کا اجرا ہوتا،اپنی  اس خواہش کو لے کر وہ اس دنیا سے گئے- علامہ کی اس خواہش کا ادراک ان کے جواں سال پوتے ڈاکٹرخوشتر نورانی کو تھا،اس لیے جب وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے فارغ ہوکردہلی لوٹے تو اپنے عملی میدان کے انتخاب پر غورو فکرکرنا شروع کیااوراس نتیجے پر پہنچے کہ  اپنے رویوں کی درستی، سرگرمیوں کا احتساب اورصحیح سمت اقدام کے لیے’’فکری راست بازی‘‘ کلیدی حیثیت کا درجہ رکھتی ہے، فکری نظام کی اصلاح کے بغیر نہ تو ایک سچا اسلامی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے او رامت کے عملی رویوں میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے-تاریخ میں جب بھی سیاسی، معاشی، مذہبی اورملی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے افکار وخیالات کی تبدیلی پر توجہ دی گئی، کیوں کہ ایک فکر کو تشدد، قوت  اورمخالفت سے نہیں دبایا جاسکتا ہے بلکہ ایک فکر کو دوسری مستحکم فکر سے ہی ختم کیا جاسکتاہے – یہ فکری تشکیل عملی انقلاب کی آمد کا پیش خیمہ ہوتی ہے- فکری رویوں میں تبدیلی کے بغیر جو انقلاب لانے کی کوششیں کی جاتی ہیں وہ سوفی صد ناکام ہوتی ہیں اور بغاوت کو دعوت دیتی ہیں-انھوں نے محسوس کیا کہ امت کے عملی رویوں میں تبدیلی اس وقت تک نہیں لائی جاسکتی، جب تک ان کے فکر ونظر کو نئے سانچے میں نہیں ڈھال دیاجاتا -گو کہ اجتماعی طور پر فکر ونظر کی تشکیل نو مشکل ترین کام ہے- پرانے افکارو خیالات پر جب ضرب لگتی ہے توصبر و شکیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے اور ردعمل کا اظہار شدت سے ہوتاہے-فکر ونظر کی تشکیل نو کاداعی مختلف خطرات سے دوچار ہوتاہے اور اسے الزامات واتہامات کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتاہے، لیکن نیت صالح اور جذبہ خیر ہو تو یہ معرکے بھی سر ہوہی جاتے ہیں۔

جام نورکاآغاز:

اس خیال کے ساتھ ڈاکٹرنورانی کی نظر انتخاب میدان تصنیف و تالیف اور میڈیا پر پڑی جو ان تمام مطلوبہ صفات کا آئینہ دار تھا، لیکن ہم خیال افرادی قوت کی کمی، وسائل کی محدودیت اور تجرباتی رسوخ صفر ہونے کی وجہ سے ملک گیر سطح پر نہایت کروفر کے ساتھ کسی میگزین کاآغاز نہیں کیا جاسکتاتھا، اس لیے محدود سطح پر ہی ماہ نامہ ’’جام نور‘‘کی نشاۃ ثانیہ کا اعلان کردیا گیا،اس فیصلے میں نہ صرف علامہ قادری کی روحانی خوشی کا خیال پیش نظر تھا بلکہ امت کے جس فکری تشکیل کا خواب وہ دیکھ رہے تھے ،اس کی تعبیر بھی اسی ذریعے سے ملنے والی تھی – اس طرح دہلی سے ماہ نامہ ’’ جام نور‘‘ کی اشاعت کا باضابطہ آغاز اکتوبر۲۰۰۲ء سے کیاگیا- اسلام اورملت کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ، اپنے کام کے ساتھ سچی لگن اور مشکل گھڑیوں میں ثابت قدمی نے چند برسوں میں ہی اسے ملک وبیرون ملک کے ارود مذہبی حلقے میں شہرت ومقبولیت کےآسمان پر پہنچا دیا، کیوں کہ جام نور کا آغاز محض ایک رسالے کی اشاعت کے طور پر نہیں بلکہ اسے ایک تحریک اورمشن کی حیثیت سے کیاگیاتھا،جس کااولین ہدف مذہبی اورمسلکی سطح پرہرشعبے میں فکری وعملی شعور کو بیدار کرنا تھا- اس کے باوجود اس بات کا قطعی دعویٰ نہیں کیاجاسکتا کہ جام نور امت کے ایک بڑے طبقےکی فکرونظرپراثراندازہواہے،ہاں! اس نے یہ ضرور کیاکہ پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی بے عملیوں اور کوتاہیوں کے سبب اکیسویں صدی کے دل ودماغ میں فکر وعمل کی جو چنگاری سلگ رہی تھی اسے شعلہ بنا دیا- بقول علامہ محمداحمد مصباحی(سابق شیخ الجامعہ،جامعہ اشرفیہ مبارک پور) :’’(جام نور نے )جماعت کے اہل علم وفکر کو کچھ سوچنے، کچھ لکھنے اور کچھ اظہارِ خیال کا حوصلہ دیاہے‘‘ اوربقول ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی(صدرشعبہ عربی، مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد):’’جام نور مجھ جیسے اور بہت سے لوگوں کے خوابوں کی تعبیر بن کر آیا اور بروقت آیا۔‘‘

جام نورایک تحریک:

’’جام نور‘‘کا یہ اختصاص رہا کہ بظاہر وہ ایک رسالے کی شکل میں منظرعام پرآیا،مگر کچھ ہی عرصے میں اس نے ’’تحریک‘‘کی شکل اختیارکرلی۔یہ تحریک تھی ’’فکری تشکیل نو‘‘ کی،جہاں حق کی پہچان شخصیات سے نہیں بلکہ ِشخصیات کی پہچان حق کی بنیادپرہو ، قرآن و حدیث کے علاوہ کسی کا فیصلہ یا تحریر محاکمے سے بالاتر نہ ہو،دین و مسلک کے تحفظ کے نام پر فرسودہ اور بے اصل روایات کی پابندی لازم نہ ہو،مسلکی اور مشربی گروہ بندی کی بجائے من حیث الامۃ ہمارا دائرہ وسیع تر ہو،دین و ملت کے وسیع تر مفادات میں کم ازکم کامن ایشوز پر تمام مکاتب فکرکا اشتراک عمل ہو۔جام نورکے ذریعے ’’فکری تشکیل نو‘‘کی یہ تحریک اٹھی اور نسل نو کے اُن ہزاروں نوجوانوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑکررکھ دیا،جنھوں نے تازہ افکار کے لیے اپنے دل و دماغ کا دروازہ کھلارکھاتھا ،بقول معروف صحافی احمدجاوید:

’’جام نور دہلی نے مذہبی صحافت کو جس طرح مناظرہ اور انشائے لطیف کے غلبے سے نکال کر مکالمہ، مذاکرہ اور مباحثہ کے رجحان کو فروغ دینے میںاہم کردار اداکیا، اسی طرح علمی تحقیق اور شائستہ ادبی مذاق کی آبیاری میں بھی کمی نہیں کی- قارئین کی زیادہ سے زیادہ شراکت و شمولیت کو اپناحصہ بنا کر لوگوں کے دلوں اورذہنوں میں جو جگہ اس نے بنائی ہے وہ اردو کی مذہبی صحافت کی تاریخ میں بہت کم رسائل وجرائدکے حصے میں آئی ہے۔‘‘

اب اگر بحیثیت ایک رسالہ اور ایک میگزین ’’جام نور‘‘کی اشاعت بند بھی ہوجاتی ہے تواس تحریک پر کوئی اثرنہیں پڑتا کہ چراغ سے چراغ جلنا شروع ہوگئے ہیں ۔

جام نورکی مقبولیت اوراس کے اثرات کی بنیادی وجہ:

کسی بھی تحریک کی کامیابی کی بنیادی وجوہات میں اخلاص، لگن، جذبہ، صلاحیت اوروسائل کی قوت ناگزیر تسلیم کی جاتی ہے- یہ عناصرکسی تحریک میں ایک جگہ جمع ہوبھی جائیں تب بھی بات نہیں بنتی، جب تک’’ ہم خیال باصلاحیت افراد‘‘اس تحریک کا اٹوٹ حصہ نہ بن جائیں۔

تحریک جام نور کی مقبولیت اور اثرات کی بنیادی وجہ بھی اس کی ’’ادارتی، قلمی اور فکری ٹیم‘‘رہی ہے، جو مختلف الجہات صلاحیتوں سے لیس اپنے نصب العین سے خوب اچھی طرح واقف تھی- اس تحریک کا اگر علمی، فکری اور قلمی کارواں نہیں بنتا تو منزل تک رسائی کا تصور ممکن نہیں ہوتا اور نہ’’جام نور‘‘ مسلسل پندرہ برسوں تک(چندشماروں کے استثنا کے ساتھ)شائع ہوتا رہتا-اپنے عہد کی بصیرت کو اجاگر کرنے اور شعور کوبیدار کرنے میں اس ٹیم نےمسلسل پندرہ برسوںمیں جس لگن کا مظاہرہ کیا ہے، اسے غیبی تائید سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

جام نورکی اوّلیات:

مذہبی صحافت کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں بلا تفریق مسلک بے شمار رسائل وجرائد نکلے اور اپنی اپنی سطح پر ان میں بعض مقبول ومعروف بھی ہوئے، لیکن عموماً تمام رسالوں نے پیش کش، مواد اور اسلوب کے لحاظ سے پارینہ روایات کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا- مذہبی صحافت کی تاریخ میں ’’جام نور‘‘ کا یہ اختصاص ہے کہ اس نے پیش کش، مواد اور اسلوب تینوں جہتوں سے اپنے عہد کے تقاضے کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ،جس کے نمایاں اثرات دوسرے رسائل پر بھی دیکھنے کو ملے -اس رخ سے اگر’’ جام نور‘‘ کا جائزہ لیا جائے تو ایسے بہت سے گوشے سامنے آتے ہیں جنہیں اگر جام نور کی خصوصیات یا ’’اولیات‘‘کہا جائے تو غلط نہ ہوگا- ان میں کچھ مسلکی سطح پر ہیں اورکچھ بلا تفریق مسلک،جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

ٹائٹل کور کو گنبدوں اور میناروں کی بجائے مضامین کے مطابق ڈیزائن کرنے اور ان پر ہیڈنگ لگانے کا آغاز کیاگیا۔(۱)

(۲)مذہبی صحافت کی تاریخ میں پہلی بار تسلسل کے ساتھ مشاہیرامت سے معاصر مسائل پر تفصیلی انٹرویوز لینے کی ابتدا کی گئی، ایک ہز ا ر صفحات پر پھیلی تین جلدوں پر مشتمل کتاب’’روبرو‘‘ کی اشاعت اس کا ثبوت ہے۔

(۳)مخصوص کالم نگاروں اور قلم کاروں کے ساتھ ساتھ عام قارئین کو معاصر مسائل سے جوڑنے کی شعوری کوشش کی گئی اور انہیں ان پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔

(۴)مذہبی، سیاسی، علمی، ادبی، تحقیقی اور فکری ہر طرح کے مواد کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ امت کا ہر طبقہ مذہبی صحافت سے وابستہ ہوسکے۔

(۵)پورے رسالے کو مستقل کالمز کے تحت نکالنے کا اہتمام کیا گیا تاکہ مشمولات میں انفرادیت ،ندرت اور رنگارنگی پیداہوسکے۔

(۶)معاصر مسائل پر تسلسل کے ساتھ’’تحریری مباحثے‘‘ کا آغاز کیا گیا۔

(۷)نسل نوکی تحریری تربیت کے لیے شعوری کوشش کی گئی اور باقاعدہ ’’تربیت گاہ ِ لوح وقلم‘‘ کاکالم متعارف کرایا گیا۔

(۸)نسل نومیںعلمی ، فکری اور تنقیدی شعور کی بیداری کے لیے نقدونظر پر مشتمل کالم ’’خامہ تلاشی‘‘ کے ذریعے ایک تحریک چلائی گی۔

(۹)جرأت گویائی ، امت کے ترجیحی اور معاصر مسائل پر ارتکاز کی دعوت اوربے سمتی، بے اصولی ، تشدد، شخصیت پرستی اور جمود کے خلاف آواز حق بلند کرنا ان پر مستزاد۔

جام نورکے مقبولیت کے تین ٹرننگ پوائنٹس:

مذکورہ خصوصیات اور ٹیم ورک کی وجہ سے جام نوراپنے اولین شمارے سے ہی دل چسپی کا باعث بنا اور امت کے ہر طبقے میں اپنی جگہ بنانے کی کامیاب کوشش کی، لیکن اس کی مقبولیت کے تین ایسے ٹرننگ پوانٹس ہیں جن میں اس کی ریڈرشپ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلاگیا- امت کے بڑے مذہبی حلقے میں جام نور کے تذکرے، نجی محافل ومجالس میں اس کے مباحث پر گفتگو اوراس کے محاسن و معائب پررد عمل کا اظہار قارئین کا محبو ب ترین مشغلہ قرار پایا-وہ تین ٹرننگ پوانٹس یہ ہیں:

پہلا : فروری ۲۰۰۳ء میں پدم شری حضرت بیکل اتساہی کا انٹرویو شائع ہوا، جس میں انہوں نے حافظ ملت مولانا عبد العزیز مرادآبادی بانی وسربراہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا عبد الحفیظ صاحب کی جانشینی اور سربراہی کی مخالفت کرنے والوں میں علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری کا غیر شعوری طور پر ذکرکردیا، جس پر بشمول علامہ موصوف ان کے حامیوں نے ہنگامہ برپا کردیاحالاںکہ اس کے معا بعد حضرت بیکل اتساہی نے معذرت نامہ شائع کروایا اور اپنے سہو کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اعلیٰ ظرفی اور بڑکپن کا ثبوت دیا، لیکن ان کی معذرت قبولیت سے سرفراز نہ ہوسکی، اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے بالواسطہ جام نور کو شہرت ومقبولیت کے پہلے دورمیں داخل کردیا۔

دوسرا: قارئین جام نور خصوصا نئی نسل میںعلمی، فکری اور تنقیدی شعور کی بیداری کے لیے نقدونظر پر مشتمل کالم’’خامہ تلاشی‘‘ کا آغاز اپریل ۲۰۰۵ء سے کیاگیا جودسمبر ۲۰۰۶ء تک کامیابی سے چلا-اس کالم نے خامہ تلاش کی فکر ونظر کی برنائی ،منفرد اسلوب تحریر ،ظرافت اور نقدوبحث کے اعلیٰ معیارکی وجہ سے مذہبی صحافت کی تاریخ میںمقبولیت اور اثرات کا نیاریکارڈ قائم کیا-  بقول حضرت سید محمد اشرف مارہروی’’خامہ تلاشی نے قارئین کے دل میں جیسی جگہ بنائی اس کی مثال عنقا ہے۔‘‘اس دور کو جام نور کی مقبولیت کا ’’زریں دور‘‘ کہا جائے توبے جا نہ ہوگا- اس کے قارئین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس کی شہرت ہندوپاک کے وسیع حلقے تک پہنچ گئی۔

تیسرا : اکتوبر/نومبر۲۰۰۷ء میںمدیر جام نور مولانا ذیشان احمد مصباحی کا فکر انگیز مضمون’’دعوت وتبلیغ کی راہیں مسددو کیوں؟‘‘دوقسطوں میں شائع ہوا- اس میں جماعت کی عملی وفکری کوتاہیوں کا محاسبہ کرکے صحیح سمت اقدام کی دعوت دی گئی تھی- اس مضمون کی اشاعت کے بعد جام نو ر کی مخالفت میں جس طرح طوفان کھڑا کیاگیا،ہائرکیے گئے مفتیان ذوی الاحترام سے اس کے مطالعے کے عدم جواز پر فتویٰ حاصل کیا گیا، دیگر رسائل میں تشدد پر مشتمل مضامین چھاپے گئے،اجتماعی جلسے منعقد کیے گئے ، کتابچے شائع کیے گئے ،بائیکاٹ کی تحریکیں چلائی گئیں اور سیکڑوں صفحات پر مشتمل ضخیم شمارے شائع کیے گئے- اس نے بالواسطہ جام نور کو مقبولیت اور شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا-

جام نورکی مقبولیت کا تاریخی سنگ میل:

جام نور اپنی اشاعت کے اوائل سے ہی پاکستان کے باذوق عوام وخواص تک پہنچتا رہاہے- ۲۰۰۵ء میں اس کی تعداد میں معتدبہ اضافہ ہوا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں اس کی ایجنسیاں قائم ہوگئیں- ۲۰۰۸ء تک اس کی تعداد سیکڑوں سے ہزاروں میں تبدیل ہوگئی، لیکن ۲۰۰۸ء کے بعد ہندو پاک کے سیاسی رشتے خراب ہونے کی وجہ سے رسل ورسائل کے امور بہت پیچیدہ اور گراں ہوگئے جس کے سبب پاکستان میں جام نور کی ترسیل بند ہوگئی- پاکستان میں جام نور کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے قارئین کے احتجاجوں اور شکایتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اورپھر اہلِ پاکستان کا احتجاج اور ان کی شکایت بڑھ کر پاکستان میں اس کی اشاعت کا سبب بن گئی- جام نورکی مئی ۲۰۱۰ء سے بیک وقت ہندوپاک دونوں ملکوں سےاشاعت شروع ہوئی- مذہبی صحافت کی ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں یہ اعزاز صرف جام نور کو حاصل ہے- یہ امر اگر ایک طرف جام نور کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تاریخی سنگ میل تھا تو دوسری طرف اس بات کا ثبوت کہ اگر موجودہ دور میں مذہبی صحافت عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اور سنجیدہ وعلمی لب ولہجے میں ہوتو نہ صرف وہ وسیع حلقے میں پڑھی جائے گی بلکہ اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

جام نورپرایم فل:

جام نور کی مقبولیت کا ایک تاریخی موڑ اس وقت آیا جب ’’گورنمنٹ کالج یونیورسٹی‘‘فیصل آباد(پاکستان)کے شعبۂ علوم اسلامیہ سے ایک طالب علم قیصرزمان خان یوسف زئی نے بعنوان’’ماہ نامہ ملت کا ترجمان جام نور دہلی کے مضامین تصوف کا تحقیقی جائزہ‘‘ ایم فل کے تحقیقی مقالے کے لیے خاکہ پیش کیا،جسے مذکورہ یونیورسٹی نے قبول کیااور پروفیسر مفتی عبدالکریم کی نگرانی میں یہ مقالہ لکھاگیا،جس پرقیصرزمان خان کو ۲۰۱۷ء میں ایم فل کی ڈگری ایوارڈ ہوئی ۔

آن لائن جام نور:

موجودہ عہد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا عہد ہے،اس ڈیجیٹل دور میں کسی بھی فکرونظرکی تبلیغ نسبتاً کافی آسان اوراس کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے،اس لیے جام نور نے بھی اپنی تحریک کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مارچ ۲۰۱۸ء سے آن لائن جام نور کا آغاز کردیا ہے،اس سے قبل بھی جام نورکے ہرماہ کا شمارہ ویب سائٹ پر دستیاب تھا،مگر اب اس کا باقاعدہ پورٹل بناکراسے شائع کیا جارہا ہے،جس کا ایک بنیادی فائدہ یہ ہوا کہ اس کے قارئین کی تعداد میں کئی گنااضافہ ہوگیا ہے۔

آخری بات:

جام نور کی اشاعت کا اولین مقصد اپنے اسلاف کے عقائد، نظریات اورروش پر قائم رہتے ہوئے ملت اسلامیہ کی ذہنی وفکری تشکیل ہے تاکہ ہمارے عملی رویے اسلام کی دعوت اوراس کی نیک نامی کا سبب بن جائیں- اس دینی جذبے میں یقیناً کبھی قلم کا تیور جارحانہ ہواہوگا، کبھی مطالب ومفاہیم پیچیدہ ہوگئے ہوں گے، کبھی ملت کے سفید پوشوں کی نقاب کشائی میں قلم کا رخ مسائل سے ذات کی طرف مڑگیا ہوگااور کبھی کوئی تحریرکسی کی دل آزاری کا سبب بن گئی ہوگی، لیکن جام نور کی نیت ہمیشہ خیر کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل رہی ہے- اکیسویں صدی کے اس ہمہ گیر میڈیم اور جدید اسلوب میں اصلاحی لٹریچرز کی اشاعت کے ذریعے ہم بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔