فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

Sept 2018 دیوان عام

اکیسویں صدی اوراہل تصوف کی ذمہ داریاں

نورین علی حق

اکیسویں صدی کا ہندوستانی معاشرہ قعر مذلت کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہاں انسانیت، مذہبی رواداری، تحمل، برداشت،ترحم، رحم دلی، سوز دروں ،باہمی اتفاق واتحاد قصۂ پارینہ بن چکے ہیں،مذہبی انا اور ذات کی اکڑ سب سے اہم اور مذہب سے بھی زیادہ اہم شئے بن چکی ہے ۔ مذہب کے نام پر لامذہبیت کے فروغ کا دور دورہ ہے۔ مذاہب ایک دوسرے کے لیے بعدالمشرقین کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں ۔ایسا لگتاہے اب باہمی اتفاق واتحاد کا کوئی امکان بھی باقی نہیںہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر شخص اپنے ذاتی مسائل سے جوجھ رہاہے۔ کھانے کو روٹی ، پہننے کو کپڑے اور اپنے بچوں کو پڑھانے کی فیس تک نہیں ہے، ایسے نفسانفسی کے عالم میں انسانیت اندھیری رات میں صحرا میں بھٹکنے والی اونٹنی کی طرح بھٹک رہی ہے،اسے کوئی قندیل رہبانی نظر نہیں آتی، وہ کسی کی تلاش میں سرگرداں ہے، مگر جس جس کے ہاتھ انسانیت آتی ہے وہ اسے مزید بھٹکانے اوربے راہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ ایک عجیب افراتفری کا ماحول ہے۔ دہشت گردی،سیاست گردی، شدت پسندی، انارکی، اقتصادی کمزوری، کم علمی، ناخواندگی، جہالت،بے بصارتی اور بے بصیرتی اپنی انتہاکوپہنچ چکی ہے۔ ہر بڑا چھوٹے کو کھانے پر کمربستہ ہے۔ حق تلفی جیسے صدیوں کی عہد بستگی ہے، جو رکنے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ان ناانصافیوں اور مظالم کے باوجود ہر طبقہ ،ہر مذہب کے افراد اور ہر مسلک بردار بآواز بلند مذہبی نعرہ لگانے میں مست ہے۔

اکیسویں صدی کا ہندوستانی معاشرہ بلاتخصیص مذاہب ومسالک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اسے ایک قرار واقعی رہنما فکر کی اشد ضرورت ہے، جو اپنے درد کا درماں بلا تفریق مذاہب ، اہل تصوف کو سمجھتا ہے، مگر ان دنوں عوام کو اس طبقے سے بھی خاطر خواہ فیض نہیں پہنچ رہاہے۔ اس کے باوجود خانقاہوں اور درگاہوں پر حاجت روائی کی نیت سے آنے والوں کا مجمع کم نہیں ہوا ہے۔ عوام حاضر ہوتے ہیں روتے، گاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور ہم اپنے پندار کے اسیر ہیں۔ہم اپنے بچوں، اعزا اور اقربا کو ان کے حقوق ہی نہیں دے پارہے ہیں تو عوام کے حقوق کیااداکریں گے ؟المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذہنی وفکری قلاشی، ناکامی، نامرادی کا اعتراف بھی نہیں کرتے،اس کے باوجود کہ ہم اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ عزت و تمکنت اور احترام و اعتبار کا حرم سرا خاکستر ہورہاہے اورہم خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہورہے ہیں۔ بیدار ہوبھی جائیں تو ہم ان دواؤں کو بنانے کی استطاعت خود میں نہیں پاتے، جن کی تقسیم سے ہمارے آبا و اجداد دنیا میں سرخرو تھے اور دنیا کی سرخروئی ان کی آخرت کی سرخروئی کا سبب تھی۔ حالت یہ ہے کہ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، دکان اپنی بڑھا گئے اور باقی جو بچے ان کے پاس دواؤں کے نسخے تو موجود ہیں مگر ان نسخوں کو ان کے تقاضے اور اہلیت وصلاحیت کے ساتھ پڑھنا بھی ہمارے لیے کار دارد ۔

ایسے پر خطر حالات میں پوری دنیا میں جو آواز سنی جارہی ہے ، وہ بہت خطرناک اور ناقابل برداشت ہے، اس کے باوجود ہمارے خلاف آواز بلند کرنے والوں نے اپنے سیکولر ہونے کے دعوے کو درست قرار دینے کے لیے ایک کام تو کرہی دیااور وہ یہ کہ انہوں نے بآواز بلند یہ کہا کہ اس دور میں تصوف اور متصوفانہ نظریات ہی وہ روشن وتابناک امکانات ہیں ،جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے ، شدت پسندی کے مقابل تصوف کو کھڑا کیا جاسکتا ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر تصوف کی چند کتابوں اور نظریات کو پیش بھی کیا اور یہ سوچ کر کیا کہ جتنا ہم کہیں گے لوگ اتنا ہی سنیں گے ۔مگر اس سلسلے میں امکانات روشن ہوگئے عوام مولانا روم، حافظ شیرازی، شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی طرف راغب ہوئے اور انہیں پڑھناشروع کیا۔سوال یہ ہے کہ اب اس سلسلے کو آگے کون بڑھائے گا، تقریبا ایک صدی قبل اقبال نے کہا تھا

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

کہ تیری خانقاہی ہے فقط اندوہ دل گیری

اقبال کی تنقید اپنی جگہ مسلم، مگر انہیں بھی رسم شبیری کی ادائیگی کی امیدیں کسی اور سے نہیں ہم خانقاہیوں سے ہی وابستہ ہیں اور یہ اکیسو یں صدی اپنے وجود میں گزشتہ صدیوں کی بہ نسبت تصوف کے فروغ، ارتقا اور اس کے نظریات کی تفہیم وتعبیر اور تشریح وتفصیل کے لیے زیادہ موزو ں اور زیادہ مناسب ہے۔لیکن تصوف کے لیے اکیسویں صدی میں پائے جانے والے روشن وتابناک امکانات کو زمین پر اتارنے والے تقریباً ناپید ہیں ،ان امکانات کو بروئے کار لانے کی ہم نے تیاری ہی نہیں کی ہے۔ہم نے مجرمانہ طور پر تصوف اور خانقاہیت کو خاندانی اور موروثی دکان یا بزنس پوائنٹ کے علاوہ کچھ سمجھا ہی نہیں ۔

اکیسویں صدی میں تصوف کے فروغ وارتقا کے امکانات پر سمیناروں کے انعقاد اور کسی حد تک چند خانقاہوں میں ولی عہد کو پڑھا نے اور تعلیم یافتہ بنانے کے رجحان میں ایک آدھ فیصد کا اضافہ ضرور ہوا ہے۔مگر وہ فیصد تقاضے کے مطابق بالکل ناکافی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ابھی ہمیں بہت زیادہ خود مکتفی ہونے کی ضرورت ہے،جب تک ہم خود کو فکری سطح پر افکار صالح اور تنقید برائے تعمیر کو برداشت کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لائق نہیں ہوپاتے تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے اور جب تک مسائل حل نہیں ہوں گے تب تک عوام وخواص پر ہمارا اعتماد واعتبار بحال نہیں ہوگا اور جب تک اعتبار واعتماد بحال نہیں ہوتا تب تک خانقاہیت کو ہم سے نقصان ہوتا رہے گا اور بے راہ درگاہیت فروغ پاتی رہے گی اور ہمارا بنیادی مقصد یعنی’ ادعوا الی سبیل ربک بالحکمۃوالموعظۃ الحسنۃ‘ کے حکم کی احسن طریقے پر ہم ادائیگی نہیں کرپائیں گے اور جب تک یہ نہیں ہوگا نہ صرف ہم بلکہ دنیا میں پھیلی ہوئی پوری مسلم آبادی ذلت ورسوائی جھیلتی رہے گی ۔

ایک بار پھر باصرار کہہ دوں کہ ہندوستانی گنگاجمنی تہذیب وثقا فت کے خاتمے اور تحمل وبرداشت کے زوال کے اصل ذمہ دار ہم اہل تصوف ہیں، چوں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی یا اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لائق نہ رہے یا عوام ہم سے مطمئن نہیں ہوئے تو انہوں نے کہیں اورکا راستہ دیکھا ،کسی اور دروازے پر دستک دی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب وثقافت سے دور ہوتے چلے گئے اور ہم تجاہل اختیارکیے رہے ،گویا ہماری کوئی ذمہ داری تھی ہی نہیں،ہم نے دوسروں کی خامیاں تو گنوائیں، دوسروں کو برا بھلا تو کہا، منفی تشہیر کا جواب منفی انداز میں تو دیا مگر اس راہ کو اختیار نہیں کیا،جو مکی راہ تھی، ہجرت سے قبل کے عہد کو ہم نے فراموش کردیا اور مدنی زندگی کا خواب دیکھنے لگے، جو ظاہر ہے منچلے کاخواب ثابت ہوا ۔

آج ایک بار پھر مکی عہد خود کو دہرا رہاہے، ایک سنہری موقع ہمیں دستک دے رہاہے، آج اہل تصوف کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اس وقت اہل تصوف کی ضرورت کسی مخصوص طبقے کو ہی نہیںبلاتفریق مذاہب ومسالک پورے ہندوستان کو ہے۔ کیا ہمیںاس کا احساس ہے؟سب سے اہم سوال یہ ہے۔

اگر اس ناگفتہ بہ حالات میں یقینی طور پرہم ’الخلق عیال اللہ ‘ کے قائل ہیں تو خود کو سب سے پہلے اخلاق کے حربے سے ہمیں لیس کرنا ہوگا، کل کے تصوف مخالف بھی ’التصوف کلہ الاخلاق‘ کے قائل تھے ،آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہمارے اعزا واقربا ہی تصوف کی ہمہ گیریت اور ترحم کے قائل ہونے کے باوجود اپنی ہی خانقاہ کے ذمہ داروں کے اخلاقی رویوں کے شاکی ہیں۔چہ جائے کہ ہم دوسروں کی غربت وافلا س اور علمی و فکری منہج کی فکر کرتے، ہمارے خانوادے کا ہی کوئی بچہ غربت کی وجہ بے راہ روی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور ہم اپنے پندار انا کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہمارے گھر کا معاملہ سب ٹھیک چل رہاہے۔ ہمیں اب مزید فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہ فکر درست ہے تو ہمیں عوام یا اپنوں کی اخلاقی بے اعتدالیوں پر بھڑکنا نہیں چاہیے چوں کہ انہیں بے اعتدال کسی اور نے نہیں ہم نے بنایا ہے۔

امتداد زمانہ کے ساتھ عوام کے رویوں میں بھی تبدیلی آچکی ہے، عوام پر ہمارے جو حقوق ہیں اسے وہ ادا کررہے ہیں، اب وہ منتظر ہیں کہ ان کے حقوق ہم کب ادا کریں گے، اب ہمیں خانقاہ سے باہر نکلنا ہی ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا کوئی پڑوسی بھوکا تو نہیں، ہمارے پڑوسی کا کوئی بچہ علم کی روشنی سے محروم تو نہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی بچہ یا بچی اپنی تمام تر اہلیت کے باوجود تھوڑی مدد کے انتظار میں اپنی ذہنی وفکری اہلیت وصلاحیت کو تباہ کررہے ہیں۔الیدالعلیاخیرمن الیدالسفلی اب صرف لینے سے کام نہیں چلے گا، ہمیں دینے کا عادی بننا ہوگا ،تبھی مسائل حل ہوں گے،سات سو برسوں سے ہمارے عوام حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے حوالے سے ہم سے یہ گفتگو سن رہے ہیں کہ سلطان جی اس خوف سے سحری اورعشائیہ ترک کردیتے تھے کہ شہر میں کہیں کوئی بھوکا نہ سورہاہو، عوام ہم سے خاموش مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں قصہ نہ سنایا جائے،اب ہمیں اپنے عہد کے سلطان جی سے ملنا ہے، ہمیں احتسا ب کرنا ہوگا کہ کیا ہمارے اندر سلطان جی کا کوئی ایک وصف موجود ہے ؟

پوری دنیا میں علم وتعلم کا بول بالا ہے اس کے برعکس اکثر خانقاہو ں سے علوم وفنون کے ستون روز بہ روز گرتے چلے جارہے ہیں، اب ہمیں نئے علمی وفکری ستونوں کی تعمیر کے لیے مدارس اور اسکولوں کاانتظام کرنا ہوگا۔علامہ ابن جوزی کے فکری منہج سے کون واقف نہیں ،اپنے موقف پرتصلب کے باوجود انہوں نے اپنی تصنیف تلبیس ابلیس میں لکھا ہے  وماکان المتقدمون فی التصوف الا رؤسا فی القرآن والفقہ والحدیث والتفسیر (تلبیس ابلیس ص:۳۴۵) ہمیں ٹھہر کر غور کرنا ہوگا کہ غیرتو غیر کیا آج ہمارے اپنے بھی خوش دلی کے ساتھ قرآن وحد یث اور فقہ وتفسیر میں ہماری مہارت و یکتائیت کی شہادت دیں گے ؟

علم کے فروغ کے لیے ہمیں کئی سطحوں پر کوشش کرنی ہے ،جن میں چند ایک یہ بھی ہوسکتی ہیں ۔

سب سے پہلے تو خود کو مریدین کے حلقے سے باہر نکال کر مطالعے کا عادی بنانا ہوگا۔

اپنے بچوں سمیت اپنے پڑوسیوں ،اپنے خانوادے اورتمام مرید ین کے بچوں کے علم کے حصول کی راہیں ہموار کرنی ہوں گی ۔

اپنی خانقاہوں کے ذریعہ کم از کم ایک طالب علم کو اسکالر شپ دینی ہوگی، جو اعلی تعلیم حاصل کرسکے۔

ایسے مدرسوں کا قیام عمل میں لانا ہوگا، جہاں علوم قرآن وحدیث اور تفسیر و فلسفہ انگلش میڈیم کے ذریعہ پڑھائے جائیں، تاکہ ہمارے بچے،جو ہمارا مستقبل ہیں، کسی قوم کسی مبلغ اور کسی مشینری سے مرعوب نہ ہوں اوروہ دنیا جو ہم سے چھوٹی ہوئی ہے، وہاں پہنچ کروہ تصوف کی تعلیما ت عام کرسکیں ۔ آج ہمارے پاس تصوف کو اس کے تقاضے کے مطابق انگریزی زبان میں پیش کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ مجھ پر جو لوگ چاہیں فتوی دے سکتے ہیں،مگر اس ضرور ت سے انکار نہیں کرسکتے کہ آج انگریزی بولنے والے صوفیوں کی بہت زیاد ہ ضرورت ہے ۔

جب جب دہشت گردی اور شدت پسندی کے سدباب کی بات ہوتی ہے،ہم حکومتوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیو ں کے نصاب میں تصوف کو شامل کیا جائے، یہ بذات خود مشورہ تو اچھا ہے، مگر اس مشورے سے پہلے ہمیں اس امر پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہوگا کہ کتنے مدرسوں کے نصاب میں تصوف شامل ہے ؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کم از کم ان مدرسوں میں تصوف کو داخل نصاب کرنے کی تحریک شروع کرنی ہوگی، جو مدرسے خانقاہوں کے زیر انتظام چلتے ہیں،یا جو نظریاتی سطح پر تصوف کو قبول کرتے ہیں۔

ہمارے مدرسوں میں تخصص فی الفقہ، تخصص فی الحدیث، تخصص فی التفسیر، تخصص فی اللغۃالعربیۃ وآدابھا جیسے کورسز چلائے جاتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ تخصص فی الدعوۃوالتصوف یا تخصص فی الاحسان والتصو ف کا رواج اب تک مدرسوں میں نہیں ہوسکا۔اس کی ذمہ داری کون لے گا، کون کوششیں کرے گا۔ اس کے لیے بھی ہمیں ہی جدوجہد کرنی ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے علما کو اسلام واحسان کی اصل روح کو سمجھا نے کی ضرورت ہے۔اگر وہ سمجھ گئے تو عوام خود بہ خود سمجھ جائیں گے اور معاشرے میں دہشت وشدت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

ہمارے ملک میں کئی ایسے ادارے موجود ہیں،جو عالمیت وفضیلت کا مکمل کورس نہیں کراتے، مگرالمعہد العالی لتدریب الافتا والقضا کراتے ہیں۔ان اداروں میں ایک نام امارت شرعیہ، پھلواری شریف،پٹنہ کا بھی ہے۔ کیا اس طرز پر ہماری خانقاہیں المعہدالعالی لتدریب الاحسان والتصوف کے نام سے کورس شروع نہیں کرسکتیں؟ ہمارے ملک میں ایسی بے شمار خانقاہیں ہیں، جو بیس پچیس علما یا ولی عہد کے لیے یہ کورس شروع کرسکتی ہیں، جہاں علما اور ولی عہد کو عملی طور پر صوفی بنانے کی جدو جہد شروع کی جاسکتی ہے۔ اس کا فائدہ صرف عوام کو ہی نہیں خانقاہوں کو بھی ہوگا کہ آئندہ مسند نشیں ہونے والے حضرات تصوف کی چندماخذکی حیثیت رکھنے والی کتابیں پڑھ لیں گے اور عملی طور پر بھی تصوف کو سمجھ سکیں گے۔

ان امور پر توجہ دینے کے بعد سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تصوف کو شامل نصاب کرانے کے لیے اجتماعی،تنظیمی اور تحریکی سطح پر کوشش کرنی ہوگی تاکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے مثال اور نظیر کے ساتھ ہم مطالبہ کرسکیں اور تصوف کے داخل نصاب ہونے کے فوائد کو بھی ان پر منکشف کرسکیں۔کسی سمینار میں بات کرلینے اور مشورے دے دینے سے مسائل تو بہرحال حل ہونے سے رہے۔

اکیسویں صدی کے ہمارے ہندوستانی معاشرے میں بے شمار خواتین بیوہ اور مطلقہ ہیں، بے شمار ایسی لڑکیاں ہیں، جن کی شادیاں جہیز اور دیگر غیر ضروری مطالبات کی وجہ سے نہیں ہوپارہی ہیں، اگر ہمیں اپنی دعوت وتبلیغ میں کامیاب ہونا ہے اور اپنے آباواجداد کی تحریک کو کامیاب بناناہے تو عوام کے درد میں ہمیں شامل ہونا ہوگا۔ تبھی آئندہ زمانے میں کوئی لکھے گا کہ اہل تصوف کی حکمرانی جسموں پر نہیں دلوں پر ہوتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو آج کی طرح آئندہ بھی عوام ،ذاتی مفادا ت کے حصول کے لیے جینے والے علما، لیڈران اور سماجی کارکنان کی طرح ہمارے ساتھ بھی بے گانے پن کا رویہ اختیار کریں گے،جن کے دلوں پر ہماری باتوں کا نہ کوئی اثر ہوگا نہ ہم ان کے لیے معتبر ومعزز ہوں گے۔ ہمارے پاس نظام ہے، مگر وہ نظام بدنظمی کا شکار ہے۔ہمیں بیوہ، مطلقہ اور لڑکیوں کی شادیوں کے لیے فنڈ کا نظم کرنا چاہیے۔ کوئی ایسا نظام بحال کرنا چاہیے، جس سے شادیوں میں آسانیاں پیدا ہوں، اجتماعی شادیو ں پر زور دینا چاہیے، اس سے غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے گی اور مشائخ کے ذریعے ان کے مریدین کے درمیان خوش گوار رشتے ہموار ہوں گے اور معاشرہ آپس میں ایک دوسرے کے درد وغم میں شریک ہونے کا سبق بھی حاصل کرسکے گا،جو تصوف کے بنیادی مقاصد میں بھی شامل ہے۔

جب تک ہم یہ نہیں سمجھتے کہ پوری انسانیت کو جسد واحد بنانے کی ذمہ داری ہماری ہے، تب تک ہم ان امور کی انجام دہی کو غیر ضروری سمجھتے رہیں گے۔ ملت وقوم کو جسد واحد بنانے کی بات آگئی ہے تو یہ بھی کہتاچلوں کہ ہم اس وقت تک قوم و ملت کے درمیان اتحاد واتفاق پیدا نہیں کرسکتے، جب ہم خانقاہی خود آپس میں ایک نہ ہوجائیں، اکیسویں صدی میں ہماری آنکھیں کھل جانی چاہیے کہ جب شمالی اور جنوبی کوریا ایک ہوسکتے ہیں، جب یورپ کے ممالک اپنے دروازے ایک دوسر ے کے لیے کھول سکتے ہیں،جب سیاسی مفادات کے حصول کے لیے شمال وجنوب کے نظریات رکھنے والے ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیںتو آخر کیاوجہ ہے کہ ایک خانقاہ دوسری خانقاہ کے لیے اپنا دل اور دروا نہیں کرسکتی ، ہم ایک دوسرے سے کیوں نہیں خوش اسلوبی،خوش مزاجی اور کینہ پروری سے بالاتر ہوکر مل سکتے ہیں ؟اس زمانے میں مزید خانقا ہیں بنانے کی نہیں قرار واقعی خانقاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، صوفی مراکزکی نہیں صوفی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یاایھاالذین آمنوا آمنوا ایسے صوفی پیداکرنے کی ضرورت ہے،جس کے اعمال وافعال، اخلاق واطوار، کردار و مشن سے مصطلحات تصوف کی سچی تشریح وتعبیر اور تفسیر ہوسکے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر اقوام نے ہمارے نظام لنگر کو ہم سے مستعار لیا اور دنیا میں سرخرو ہوگئیں ۔ دنیا کی محبتیں سمیٹنے لگیں اور ہم نے اپنے نظام لنگر کو بڑی حد تک فراموش کردیا، گردواروں اور سڑکوںپر لگنے والے بھنڈاروں کو دیکھ کر دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ اے کاش ہم نے اپنے اس نظام کو نہ چھوڑا ہوتا یا کم از کم اب بحال کرلیتے، تاکہ’ الخلق عیال اللہ‘کے اصل افہم وفہام ہونے کا ہمارا دعویٰ بے دلیل ثابت نہ ہوتا۔

اس صدی میں اہل تصوف کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ خود پیری و مریدی اور بیعت وارادت کا اصل مقصد عملی طورپر سمجھنے کی کوشش کریں اور تقریباً نصف صدی سے جاری ٹینٹ، تمبو، لوٹا اور کار پکڑ کر کسی بھی حالت میں بیعت ہوجانے یا بیعت کرلینے کے رواج کو ختم کیا جائے۔ اس بے راہ روی پر زمانے گزر گئے، اب اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ طالب ارادت اور اس کے دل کی تالیف کی جائے ، اسے قریب کیا جائے،اس کی تفہیم کی جائے اور خود اسے اس کی حالت بتائی جائے، شرعی طورپر نامزد گناہوں سے توبہ کے علاوہ اسے ملک وملت اور حب وطن کا مطلب بھی سمجھنے پر مجبور کیاجائے، ملک کے اثاثوں کے تحفظ کی قسمیں لی جائیں،اکیسویں صدی میں دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھایا جائے، اگر اتنی باتیں نہ سمجھائی جاسکیں تو اسے صوفی ہونے یا صوفی بننے کا مقصد ہی سمجھا دیا جائے تو وہ یہ تمام باتیں خود بہ خود سمجھ جائے گا۔ میں اپنی ناقص فکر کے تحت پیری ومریدی کا مقصد یہ سمجھتا ہوں کہ جو شخص بذات خود مذہب، عقائد، دنیا وآخرت ،تعلیم وتعلم، خود احتسابی اور مخلوقات خداوندی کے ادراک کی اہلیت وصلاحیت نہیں رکھتا ، مشائخ اسے یہ سمجھاتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اسے منازل سلوک کی راہیں طے کراتے ہیں، اب ہمیں دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا ہوگا کہ کیا اس زمانے میں پیری و مریدی کے مقاصد کی تکمیل ہورہی ہے یانہیں ؟

آج دنیا کے ہرخطے اور ہرملک کے ہرشہر میں خانقاہیں پائی جاتی ہیں ، سجادہ نشینی کے لیے زیادہ تر خانقاہوں میں تنازعات بھی پائے جاتے ہیں، وقتا فوقتا عوام کا ازدحام بھی پایا جاتاہے، معاشی واقتصادی فراوانی بھی موجود ہے، اگرکوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے تو وہ خلوص وللہیت ، مزکیٰ نفوس ، اتحاد واحترام باہمی ہیں، ان سب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر خانقاہوں کے مسند نشیں نہ صاحب علم وتقویٰ ہیں، اپنے نہ عوام کے مخلص ومحسن بلکہ اگر تلخ حقیقت بیانی سے کام لیا جائے تو بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے صالح تسلسل کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ یہاں اپنی اولادوں کی فکر میں نہ جانے کتنے نوح سفینہ نجات لیے منتظر ہیں اور ان کی اولادیں مادی آلائشوں کے سمندر میں ڈوبتی چلی جارہی ہیں۔

خانقاہوں میں موجود نئی نسل کے سجادہ نشیں اور پیران سلاسل اپنے اسلاف واکابر کی کرامات کے بیان، ان کے اعراس اور اعراس میں زیادہ سے زیادہ بھیڑ اکٹھاکرنے کو ہی خانقاہیت کی خدمت، اصل تصوف اور اصل پیری ومریدی گمان کرتے ہیں۔

نئی نسل کے کتنے ہی سجادہ نشینان علم دین وشریعت اور طریقت سے سرے سے نابلد ہیں۔ کتنے ہی چند سال مدرسوں میں گزارکر فرا غت حاصل کیے ہوئے ہیں اور کتنے ہی علم کے نام پر جہالت پھیلانے والے مدرسہ بورڈوں کی صرف اسنادرکھتے ہیں ،جو نہ اعلیٰ خانقاہی اخلا ق کے حامل ہیں نہ انہوں نے کبھی اپنے بڑوں کی زندگیوں میں ان سے خانقاہی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ایسی ناگفتہ بہ صور ت حال میں خانقاہیت اورروحانیت اپنوں کے شکنجوں میں سسکیاں لے رہی ہیں اور احساس سودوزیاں بھی جاتا رہا کہ وہ اپنے ارد گرد جہالتوں کے بڑھتے ہالے کو بھی نہیں سمجھ پارہے ہیں۔ مسندمشیخت صاحبزادگان والا شان کو سن بلوغت سے قبل ہی پرکشش معلوم ہونے لگتی ہے۔ کتنے ہی صاحبزادگان گرامی مدرسے میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں مدرسہ میں کم مرید آباد اور اپنی خانقاہوں میں زیادہ قیام فرماتے ہیں اور اگر مدرسہ میں رہتے بھی ہیں تو وہاں بھی کچھ اساتذہ سوچی سمجھی سازش کے تحت اور کچھ اپنی نرمی اور اندھی عقیدت میں ان سے کسی طرح کی کوئی بازپرس نہیں کرتے ۔ ہمارے مدرسوں کے کچھ اساتذہ کی آنکھیں پیرزادوں اور سید زادوں کے سامنے جلال استاذی کا مظاہرہ نہیں کرپاتی ہیں تو کچھ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل انہیں جہالتوں کے اندھیروں میں بھٹکتا ہوا دیکھ کر ہوتی ہے اور جس مدرسے کے منتظم وسربراہ ان کے اسلاف واکابر ہوں وہاں بلاشرکت غیرے ان کی سلطنت قائم ہوتی ہے ایسی حالت میں کسی بھی فرد کا حصول علم کے لیے کوشاں اور سنجیدہ ہونا تقریبامحال ہے۔ پھر ان کی فراغت کے بعد ان سے پیغمبرانہ اسلوب دعوت وتبلیغ کا عملی وقولی مطالبہ بھی کارعبث کے سوا کچھ نہیں۔ اتنا ضرور ہوتا ہے کہ اس معاشی بحران اور بے روزگاری کے زمانے میں انہیں تلاش معاش کے لیے دربدر بھٹکنا نہیں پڑتا، وہ ایک عمر کے بعد گدی پر بیٹھ جاتے ہیں اور کاروبارجہان چلتارہتا ہے۔ ہماری انہی عدم سنجیدگیو ں ، بے علمیوں اور غیرحساسیت نے خانقاہیت کو درگاہیت میں بدل دیا۔

اس صدی کے تکثیری سماج کو یقین جانیں صرف آپ کی ضرورت ہے ،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم کہیں ہیں ہی نہیں، اگر ہم بہت سارے کام نہیں کرسکتے تو یہ تہیہ کرلیں کہ ہمیں صرف ایک دل بنانا ہے، جس میں درد ہو، جس میں کرب ہو، جس میں دھڑکنے کی صلاحیت ہو، جس میں صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط دیکھنے کی ہمت ہو، جس میں انا و انانیت نہ ہو، جس میں قولی و عملی تکبر نہ ہو، جس میں عشق کرنے کا جذبہ ہو، وہ عشق،جو دل مصطفی ہوتا ہے،وہ عشق جو دم جبرئیل ہوتاہے، جو کاس الکرام ہوتا ہے ۔چوں کہ عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام ۔

اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو صرف اپنے آپ کو دل بنالیں، صوفی بن جائیں گے اور باخدا تصوف سر بازار رسوا ہونے سے بچ جائے گا۔ اکیسویں صدی کے اہل تصوف کی ذمہ داریوں کا سب سے نچلا زینہ یہی ہے ۔ اگر اس زینے تک بھی ہم نہیں پہنچ سکے تو عنقریب’ طوی ذالک البساط‘ کے محاورے کو حقیقت میں بدلنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

(جام نورآن لائن،شمارہ ستمبر۲۰۱۸ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

نورین علی حق

مضمون نگارشعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment