فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

Sept 2018 زاویہ

سیاست،ریاست اوراسلام

احمدجاوید

اسلام کا ظہور(۶۱۰ء)،اس کابرق رفتار پھیلاؤ اور پھر ریاست مدینہ کا قیام (۶۲۲ء) پیغمبراسلام ﷺ کی حیات طیبہ نبویہ کے دو مراحل میں سے ایک ہے اور یہ بھی دنیا کی معلوم تاریخ کا کوئی معمولی معجزہ نہیں تھا، لیکن اس کے دوسرے مرحلے(صرف دس سال) میںاس نوزائیدہ عوامی ریاست کا پورے جزیرۃ العرب میں پھیل جانا اورحجازو عرب کی سرحدوں کو عبورکرکے ایران و روم جیسی طاقتورسلطنتوں کے لیے چیلنج بن جانااس سے بھی بڑا اور ایک انتہائی محیرالعقول واقعہ ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ معجزہ کیونکر ممکن ہوااور اس کی اصل طاقت کیا تھی ؟ اسی سوال کے جواب میں مسلمانوں کے زوال،ان کی ذلت و خواری اورعالم اسلام یا ملت اسلامیہ کی بے وقعتی کے اسباب و عوامل اور ان جیسے دوسرے بہت سے سوالوں کے جواب بھی موجود ہیں۔ آپ ملت اسلامیہ کی بات کرتے ہیں، لیکن اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ کہیں موجود بھی ہے؟ اور اگر ہے تو اس کے جسد موجود میں اس کی روح بھی ہے یا نہیں؟

آپ انقلابات عالم کا جائزہ لیں ،پائیں گے کہ ہر انقلاب کے پس پشت سماجی و معاشی محرکات و عوامل کارفرما ہوتےہیں، لیکن اس کی روح کا کام ان کے ساتھ جنم لینے والے افکار ونظریات کرتے ہیں۔یہی قانون قدرت ہے اورقدرت اپنے اصولوں کے خلاف نہیں جایا کرتی ۔معجزے ہوتے ہیں ،لیکن روز روزنہیں ہوتے۔ یہ دیکھنا کہ رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے ذہن و فکر کو بدلنے پرکتنی محنت کی ، اس وقت تک کس صبرو استقامت سے کام لیااور وہ کیا ذہنی و فکری انقلاب تھا جس نے اتنا بڑا معجزہ ممکن بنایااور اس کے بنیادی اصول کیا تھے،نہ صرف ہماری بہت سی غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کا ازالہ کرتاہے بلکہ دین کی روح اور اسلام کی عصری معنویت تک پہنچنے میں مدد کرتاہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں مسجدکی چٹائی پربیٹھ کرخداکے رسولﷺ نے جس ریاست کی بنیاد رکھی وہ کیا تھی ۔پھر آپ پر فرد، ملت اور ریاست کے اسرار کھلنے لگتے ہیں،لیکن بدقسمتی سےہمارا عمومی مزاج یہ نہیں رہ گیا ہے۔آپ کو یہ دعوی تو ہے کہ اسلام دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا، لیکن یہاں آتے آتےکہ اس انقلاب کی اساس کیا تھی ،اس پرآپ کازوراسی طرح بہت کم ہوجاتا ہے جس طرح بہ مشکل تیس پینتیس سال بھی خلافت قائم نہیں رہ سکی اور ملوکیت گلے لگا لی گئی،رسولﷺ کی سنتوں کے بجائے قیصرو کسریٰ کی سنتیں اپنالی گئیںاوراہل بیت اطہار ، اولیائے کاملین اوراصفیائے امت کی بہت مختصر جماعتیں اپنے حلقوں اور طائفوںمیں خلافت علیٰ منہاج نبوت کی وارث و محافظ رہ گئیں ۔انیسویں صدی کے مشہور مفکر سید جمال الدین افغانی کا یہ قول مسلمانوں کے اسی مزاج پرایک تلخ تبصرہ ہے کہ’’ ایشیا میں مسلمان زیادہ ہیں اور یوروپ میں اسلام زیادہ ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو کیوں؟

مشہور مغربی مصنف فرانسس ڈبلیو کوکرنے اپنی مشہور کتاب’’ ریسنٹ پالیٹکل تھاٹ‘‘(تازہ سیاسی افکار) میں لکھا ہے کہ’’ ریاست کا وجود اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ تاریخ؛ اور سیاست کےاصول اتنے ہی قدیم ہیں جتنی کہ ریاست‘‘۔ لیکن وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ’’ قدیم مغربی مفکرین و مصنفین کو سیاسی سوالوں پر منظم ڈھنگ سے غورو فکر کی عادت نہ تھی۔ان کا رویہ اپنے وقت کے سیاسی نظام کو مذہب یا روایات سے تسلیم شدہ سمجھ کر یونہی قبول کرلینے کا تھا یا زیادہ سے زیادہ ان کے سیاسی غورو فکر کا موضوع راجا اور پرجا کی انفرادی خوبیاںتھیں‘‘۔ یہی حالت ہم قدیم ہندوستان میں بھی پاتے ہیں جہاںسماج چار ورنوں میں تقسیم تھا۔

منظم اور مرتب انداز میں سیاسی اصولوں پر غورو فکر کا سراغ پہلے پہل پانچویں صدی قبل مسیح کے یونانی فلاسفہ کے یہاں ملتا ہے۔ آج مشرق و مغرب میں جوباتیںسیاسی اصولوں کی حیثیت رکھتیں اور تسلیم کی جاتی ہیںان کا کوئی واضح ذکراس سے پہلے کی کتابوںمیں نہیں ملتا۔عرب میں اسلام کا ظہور ہوا تو یونان کے زوال کوکم ازکم سات صدیاں بیت چکی تھیں۔یونانی فلاسفہ کے افکار و نظریات ان تاریکیوں میں گم ہوچکے تھے جن کے جبر نے سقراط کوزہرکا پیالہ پینے پر مجبورکیا۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی صداقت ہے کہ فلاسفہ یونان اور ان کی کتابوں کو اسلام نے زندہ کیا۔ان کو اسلام کے ظہور کے بعد عربوں نے دنیا سے متعارف کرایا۔ سقراط، فلاطون اور ارسطو نے ریاست اور اس کے اصولوں پر جو بحثیں کی تھیں، مسلم فلاسفہ اور علمائے دین نےاس کو آگے بڑھائیں اور ان کی تنقیدو توضیح کی بنیادیںاستوار کیں۔

مغرب میںبارہویں صدی عیسوی تک سیاسی سوالوں کافکری جائزہ لیے جانے کی روایت نہیں ملتی۔ عہدوسطی کے یوروپ میں ریاستوں میں انسان کے سماجی رشتوں کا تعین کرنے میںچرچ اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر تشکیل پانے والےطائفے کاکردار ہی زیادہ تھا۔ یہاںبالعموم مذہبی اور اساطیری حکمرانوں کے متضاد دعووں کے سلسلے میں بحثیں ہوتی تھیں جن میں انجیل، پوپ اور راہبوں یا ان پرانی چیزوں کی دہائی دی جاتی تھی جن کو دونوں فریق مانتے تھے ،لیکن جن کے معنی دونوں کے لیےالگ الگ ہوتے تھے۔ کیا آج اسی کیفیت میں خود مسلمان مبتلا نہیں ہیں، اسلام کے کون سے اصول و عقائد بچ گئے ہیں جن میں الگ الگ مسلک و مشرب کے لوگوں کے الگ الگ موقف نہیں ہیں؟ یہاں تک کہ توحیدورسالت بھی تعبیرات کی زد میں ہیں۔

آپ دیکھتے ہیں کہ صلیبی جنگوں کے بعد شکست خوردہ یوروپ میںنئی بیداری پیدا ہونا شروع ہوئی، کلیساکے خلاف بغاوت اور انسانیت نواز اقدار کے احیا کے ساتھ سیاسی تنظیم کی ماہیت ، اس کے کردار اور اس کے کاموںپر وسیع پیمانے پر، زیادہ تعقل پسندانہ انداز میں اور تجربات پر مبنی غورو فکرکا آغاز ہوا اوراب پچھلی پانچ چھ صدیوں سے یہ غورو فکر مسلسل جاری ہے۔ یوروپ کی بیداری یا نشاۃ ثانیہ دراصل مغرب کے گم گشتہ علمی خزانے کی از سر نودریافت یا اس کا دوسرا جنم تھا۔ مغربی تہذیب کو مسلمانوں کے ہاتھوں ملنے والے قدیم یونانی فلسفے اور جدید اسلامی افکار و نظریات سے تحریک ملی۔انقلاب فرانس (۱۷۸۹ء) یوروپ کی اس بیداری کی وہ منزل تھی جس نے اقتدار کی بساط پلٹ دی،ریاست کو ازسرنو متعارف کرایا اوراس کی پرانی عمارت کو گراکراسےنئے چار ستونوں پر کھڑا کردیا۔

آج دنیا میں سیاست کے جو مکاتب فکر رائج ہیںاور دنیا کی چہارستونی جمہوری ریاستوں نے جن اصولوں کو اپنایا ہوا ہےان میںمثالیت یا عینیت ، اشتراکیت یا مارکسزم، انفرادیت، فاشزم، وطنیت یا قومیت ،بین الاقوامیت اور گاندھی ازم زیادہ اہم ہیں۔آپ ان سب کا جائزہ لیں، ان کی بنیادوں کو کھنگالیں،ان کی اصولوں کا مطالعہ کریں، پھر اسلام کو ان پر پیش کریں، آپ پائیںگے کہ اسلام کے سامنے وہ کہیں نہیں ٹھہرتے ، اسلام کی جامعیت و مانعیت اپنا جواب نہیں رکھتی ،لیکن دوسری طرف اسلام ہی ہےکہ ازکاررفتہ، مضحکہ خیز اورنامعقول تصور کیاجاتاہے،مذاق کا موضوع بنا ہواہے اور اس کی یہ صورت کسی اور سے زیادہ خود مسلمانوں نے بنائی ہے۔بعض جدیدیت پسند مسلم مفکرین و مصنفین آج اسلام کو ازسرنو دریافت کرنےکی وکالت کررہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مغالطے میں ہیںاور ان کی ذہنی حالت بارہویں صدی کے کلیسائی معاشرے میں الجھی ہوئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان اپنی ذہنی پستیوں میں کلیسائی عناصر رکھتے ہیں یا ان برائیوں میں گرفتار ہیں جن کا قرآن نے بار باربنی اسرائیل کے حوالے سےذکرکیا، لیکن اسلام کی تعلیمات نہ تو صحائف سابقہ کی طرح تحریف کا شکار ہوئی ہیں ،نہ فلاسفہ یونان کی کتب کی طرح گم کہ وہ دریافت کی جائیں۔ قرآن و سنت حرف حرف محفوظ و موجود ہیں، ضرورت ہے کہ مسلمان ان کو دل سے اپنائیںاور عملی صورت میں زمین پر اتاریں۔

ریاست مہذب معاشرے کاایک ناگزیرعنصرہے۔سماج وجود میں آتاہےتو ریاست ازخود وجود میں آجاتی ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی اقتدار، رقبہ یا جغرافیائی حدود ، آبادی اور حکومت ہیں۔ ریاست کا وجود اقتدار کے بغیر متصور نہیں ہوسکتا، اسی طرح یہ خلا میں وجود میں نہیں آتی، نہ ہی لامحدود ہوتی ہے۔غیرآبادصحرا یا بیاباں میںبھی ریاست وجودمیںنہیںآتی،آبادی کا ہونا ضروری ہے اوراسی طرح حکومت اس کا لازمی عنصر ہے۔ کسی غیر منظم، بکھری ہوئی آبادی کوجو کسی قانون یا حاکم کے تحت محکوم نہ ہو ریاست نہیں کہہ سکتےخواہ وہ اپناایک وسیع و عریض رقبہ پر ہی کیوں نہ رکھتی ہو۔

ریاست کےاجزائے ترکیبی میں اقتدار کو سب سے اہم مانا جاتا ہے۔آبادی ، رقبہ اورحکومت کسی بھی انسانی تنظیم میں ہوسکتی ہے، لیکن اقتدار کے بغیر وہ ریاست نہیں ہوسکتی۔اقتدار کیا ہے اور یہ کہاں پایاجاتا ہے، اس سلسلے میں ابتدا ہی سے مفکرین میں اختلاف رائے ہے۔بوداں کے لفظوں میں یہ عام شہریوں اور رعایا پر قانون کے ذریعہ دی گئی قدرت ہے۔ گروشیس کے بقول یہ ایسی قوت حاکمہ ہے جو اس میں مضمر رہتی ہے جس کے کاموںپر کسی اور کا کوئی اختیار نہیں رہتا اور جس کی خواہش نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ یہ حکومت چلانےکے لیے درکار ایک اخلاقی صفت یا قوت ہے۔جمہوریت اس طرز حکمرانی کو کہتے ہیں جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیںاور آزادی و مساوات اس کی بنیاد کے دو پتھر ہیں۔ان دونوں کو قانون بنیاد فراہم کرتاہے۔ قانون کے فقدان میں نہ کوئی آزادی قائم رہ سکتی ہے نہ مساوات ۔

اسلام دنیا کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ریاست مدینہ کا آئین انسانی تاریخ کا پہلا تحریری آئین ہےاوریہ چونکہ اپنی اصل صورت میں موجود ہے اس لیے ان صولوں کا جائزہ لینا مشکل نہیں ہےجو اس ریاست کی اساس یا اسلام کے سیاسی اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔اسلام اپنی نہاد میں ایک عالمی نظام بھی ہے اس لیے وہ اپنا ایک عالمی منشور بھی رکھتا ہے اور یہ منشور بھی اپنی اصل صورت میں موجودہے،رسول اکرم ﷺ کا آخری خطبہ حج۔ آپ ان دونوںدستاویز(میثاق مدینہ اور خطبہ حجۃ الوداع) کی روشنی میں اسلام کے اصول سیاست  کا جائزہ بہ آسانی لے سکتے ہیں۔

ریاست جن اجزا ئے ترکیبی سے وجود میں آتی ہے ان کا واضح تصوردنیا کو اسلام نے دیا اور یہ اصول بھی دیاکہ یہ افراد اورطائفوں کی خواہش اور باہمی رضامندی سے تشکیل پاتی ہے، لیکن یہاں اقتدار کااصل مرکزومنبع خدائے واحد ہے جو سارےجہانوں کا رب، قادرمطلق، حاضرو ناظراور حاکم و معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسلام یہ بتانےسے قاصر نہیں ہے کہ اقتدار کہاں ہے اورکس طرح وجود میں آتا ہے۔ یہ غیب مطلق ہےجو خود کو کتاب وسنت یعنی آئین و قانون میں ظاہر کرتا ہےاور وہ خود بھی خلاف قانون نہیں کیا کرتا۔ریاست میںاقتدار جسم میں روح کی طرح امر من اللہ ہے۔ اقتدارو حاکمیت کے اس تصور نے ان ساری خرابیوں کے دروازے بند کردیے جوکسی دوسری صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔یہاں فرد اور ریاست میں کوئی نسبت تباین نہیں۔ارکان ریاست حاکم و محکوم نہیں، سب کے سب اسی اقتدار اعلیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اب ریاست انسان کی خلوت و جلوت ہر جگہ موجودو حاکم توہے (جو بہ صورت دیگرمحال ہے) لیکن خارجی عوامل کی طرح نہیںبلکہ فردکی ذاتی آزادی اور اس کی خلوت کو متأثر بھی کرتی ہے اورکسی جبرو اکراہ سے بھی کام نہیں لیتی، حتی کہ اگر اس نے تنہائی میں ریاست کے مفاد (مفاد عامہ) کو نقصان پہنچایا تویہ اقتدار اعلیٰ اور اس کے بیچ کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ اگلی زندگی پر اٹھا رکھا گیا۔یہاں مقدر کاتصور ہے، لیکن یہ بھی فردسے اس کے عمل اور جدوجہدکی آزادی سلب نہیں کرتا (جس کے لیے اشتراکیت پسند فلاسفہ مذاہب کو ہدف تنقید بناتے ہیں )بلکہ یہ فرد کی قوت ہے جو اس کو مایوس سے مایوس کن حالات میں بھی مایوس نہیں ہونے دیتا ۔ یہ ریاست مقدس بھی ہے لیکن فرد اور اس کی خواہش کی قربانی نہیں مانگتی ،اس کو اپنا عقیدہ ، مذہب اور اپنی پسندناپسندکے ساتھ جینے کاحق دیتی ہے جب تک کہ وہ کسی کی جان یا ریاست کے وجوداور نظام کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

اسلام میں ریاست کے امور کی انجام دہی کے لیے اقتدار اعلیٰ نے جو غیب مطلق ہے، اپنانمائندہ، خلیفہ اور شارع، رسول ﷺکو بنایا ہے لہٰذا جہاں کہیں بھی کوئی اختلاف یا الجھن پیدا ہوگی، اس کے حل کے لیے رسول اکرم ﷺ کی طرف رجوع کیا جائےگااور یہ صرف آپ کی حیات ظاہری تک محدود نہیں ہے،ابداً لابعدتک کے لیے ہے۔اسلام نےریاست کو ایک حتمی، تحریری، مستقل اور ناقابل ترمیم و تنسیخ آئین دیا تاکہ ریاست لوگوں کا کھلونااور نظام حکومت اصحاب اختیار کی لونڈی نہ بن جائے۔ میثاق مدینہ ان بنیادی اصولوں پر مبنی ہے جو مستقل آئینی اساس کا درجہ رکھتے ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، رسول کا اس کا نائب مطلق، شارع اور مقتدر و مطاع مشہود ہونا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت، قانون کی حکمرانی، آئینی طبقات، مملکت کی اخلاقی اساس ،سیاسی وحدت کا تصور، امت واحدہ کا تصور،تقسیم اختیارات ،اقلیتوں کا تحفظ، خواتین کے حقوق ، معاشی کفالت ، سوشل سیکورٹی کا انتظام اور دیگر بنیادی اصول جوریاست مدینہ کے آئین کی اساس ہیں، اسلام کی تعلیمات کے ارتقا اور اگلے دس سال میں قرآن کریم کے نزول کی تکمیل تک موجود و برقرار رہتے ہیں بلکہ زیادہ واضح شکل اختیار کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں شریعت کے چار اصول ہیں اور حکومت بالترتیب ان ہی چاروںسے احکامات لیتی ہے (ا)کتاب (۲) سنت (۳) قیاس اور(۴) اجماع۔کتاب و سنت جو اصل الاصول ہیںان ہی کی روشنی میںعدلیہ استنباط سے کام لے گی اورضرورت پڑی تواس کےبعد اجماع سے مسائل اوراختلافات کا حل تلاش کیا جائےگا، کسی کو اختیار نہیں ہے کہ ان کے خلاف کوئی حکم دے، خواہ وہ خلیفہ یاامام( سربراہ مملکت )ہی کیوں نہ ہو۔ یہاںسربراہ مملکت کو خلیفہ ، امام یا امیرالمومنین کہا جاتا ہے جس سے مرادرسول ﷺ کا قائم مقام یا ریاست کےپرامن شہریوں کا سردار یا قائد ہے۔یہ ایک عوامی ادارہ ہے جو انتخاب سے منعقدہوتاہے جیساکہ رسول ﷺکے بعد حضرت ابوبکر صدیق کو انصارو مہاجرین نے منتخب کیا، پھرحضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی،حضرت علی المرتضی اور حضرت حسن مجتبیٰ(رضی اللہ عنھم) کو منتخب کیا گیا اور مسلمانوں نے ان کی بیعت کی۔ اس کے علاوہ جو صورتیں بھی ہیں، اور کچھ بھی ہوں، اسوۂ حسنہ نہیں ہوسکتیں۔

میثاق مدینہ میں مہاجرین، انصار ،مدینہ کے غیر مسلموں اور ان کے حلیفوںکو امت واحدہ کہا گیا ، اس ریاست کا سربراہ رسولﷺ کو تسلیم کیا گیا لیکن اس دستور کےمختلف طبقات و طائفات کو اس میں الگ الگ مشخص کر کے اختیارات اور ذمہ داریاں دی گئیں۔یہاں تک کہ ریاست کے دفاع کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کی گئی ہیں۔ پھر یہ آئینی التزام ہے کہ جب کبھی ان میںکسی چیز کے متعلق اختلاف ہو تووہ خدا اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کریںگے۔گویاسربراہ مملکت اور قاضی القضاۃ (عدلیہ)کا حکم آخری ہوگا۔ یہ تقریباً ’گرام سوراج ‘کا وہی تصور ہے جس کی وکالت گاندھی جی نے کی ہے۔اسلام نے دینی اور اعتقادی وحدت کے ساتھ ساتھ سیاسی اورمعاہداتی وحدت کا بھی تصور دیاہے۔ یہ تصور ریاست کے سیاسی مفہوم کی ایک ایسی توسیع تھا جس کی نظیر تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملتی۔ میثاق مدینہ اپنےمسلم و غیر مسلم فریقوں کو دنیا کے بقیہ لوگوں کے مقابلے امت واحدہ قرار دیتا ہے۔اسی کے ساتھ اس آئین نے ریاست کے آئینی فریقوں میںامت مسلمہ کو ایک الگ آئینی مرتبہ بھی دیا جس کو اس آئین کی شق ۱۹ میںاس طرح بیان کیا گیا کہ’ ’اور لوگوں کے مقابل مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔

یہی وہ مقام اور وہ نکتہ ہے جہاں مسلمانوں نے دھوکے کھائے اوران حدودو خطوط کی حفاظت نہیں کی جو اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتے اور جدید نظاموں پراسے اصولی فوقیت دیتے ہیں۔آپ مشرق و مغرب کا جائزہ لیں،جن ممالک میں ان کی اکثریت ہے،ان کی حکومت ہے وہاں بھی اورجہاں جہاں یہ اقلیت میں ہیں وہاں بھی ،کیا ان میں فرد، ملت اور ریاست کے رشتوں کی کوئی سمجھ نظر آتی ہے، ان کے دائروں کا احترام ہے،کیا یہ اپنے آئینی فریقوں کو تسلیم کرتے ہیںیا ان کے برتاؤ میں یہ نظر آتا ہے؟افرادتوکیا یہ جماعتوں اور قبائل تک کو ان کے ثقافتی تشخص کے ساتھ قبول نہیں کرتے، یاتو یہ ساری دنیا کو ایک ریاست سمجھنے کی ضد کرتے ہیں یا پھر نیشن اسٹیٹ(یک قومی ریاست) کے تصورپر ایمان لاچکے ہیںاور اسی کو اسلام تصور کرتے ہیں۔

آپ اگرعالمی صورت حال کا جائزہ لیں تو پائیںگے کہ اسلام نے اس حوالے سے ہمیں جو کچھ دیامہذب دنیا نے بہت بعد میں ارتقاکی منزلیں طے کیں اور اب بھی کئی معنوں میں کافی پیچھے ہے۔ ۲۶ جون ۱۹۴۵ء کو اقوام متحدہ کا چارٹر منظور کیا گیا،جس سے خطبہ حجۃ الوداع کا موازنہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔اقوام متحدہ کے قیام کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئےاس کےچارٹر کی شق ۱(۳) میں بنیادی انسانی حقوق کا تذکرہ آیا ہے۔ ۱۰؍دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کا ’’عالمی منشور حقوق انسانی‘‘ منظور کیا گیا، گرچہ یہ محض ایک اعلان تھا نہ کہ معاہدہ جس کی پابندی اقوام عالم پر ضروری ہوتی ، پھر بھی اکثر ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔آج کے ترقی یافتہ دور اور مغربی ممالک میں بھی بنیادی انسانی حقوق کی صورت حال گرچہ بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں، تاہم بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ ، قانون کی حکمرانی، سب کے ساتھ انصاف،امن ، آزادی اور مساوات کے ایجنڈوں پر یہ دنیا جس طرح آگے بڑھ رہی ہے،اس سے ظاہر ہے کہ اصولی طور پر اس دین کاغلبہ بڑھ رہا ہے جو دنیا کو حضرت محمد ﷺ نے دیا۔یہ اوربات ہے کہ وہ دل سے ان اصولوں کو قبول نہیں کرتےاوراس میں نام نہاد مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ اکثرمسلم اقوام اور ان کی حکومتیں ہی ان کے خلاف زیادہ طاقت سے کھڑی نظر آتی ہیں۔ایک آخری بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں اس وقت جو فکری و نظریاتی کشمکش اور اس کی بنا پر پیدا ہونے والے خلفشار و تصادمات نظر آتے ہیں ان میں سب سے اہم توحید و شرک کی کشمکش ہے۔ہندوستان جیسے ملکوں کے مشرکانہ معاشروں میں بھی اب شرک اپنا وجود خطرے میں محسوس کررہا ہےاور آپ ان میں اس کی بے چینی دیکھ سکتے ہیں۔ شرک صرف یہ نہیں ہے کہ آپ بتوں کو پوجتے ہیں یا ایک سے زائدخداپر ایمان رکھتے ہیں،شرک تویہ ہےکہ آپ سب کے لیے ایک قانون نہ رکھتے ہوں، الگ الگ لوگوں کے لیے آپ کے پاس قانون و انصاف کے الگ الگ پیمانے ہوں۔

(جام نورآن لائن،شمارہ ستمبر۲۰۱۸ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

احمدجاوید

مضمون نگارہندوستان کے معروف اخبارروزنامہ ’’انقلاب‘‘ بہارایڈیشن کے سینئیرریزیڈینٹ ایڈیٹراورمعروف قلم کار ہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment