فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

Sept 2018 انٹرویو

فکراسلامی کی تشکیل نوکی شدیدضرورت ہے:پروفیسرابراہیم موسیٰ(امریکا)

بحیثیت اسلامی اسکالر او رتھنکرپروفیسر ابراہیم موسی مغربی دنیا کے علمی حلقےکا ایک معروف نام ہے۔موصوف کی جائے پیدائش ساؤتھ افریقا ہے، جب کہ آبائی وطن ہندوستان کا صوبہ گجرات ہے۔ آپ کی نشو و نما ساؤتھ افریقا میں ہی ہوئی ہے۔ابتدائی تعلیم انگلش اسکول میں ہوئی اور خاندانی رسم و روایت کے مطابق قرآن اور ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے زمانے میں ان کے اندر اعلیٰ اسلامی تعلیم کا ذوق بیدار ہوا، جس کے لیے انہوں نے ہندوستان کا رخ کیا۔ ہندوستان میں خاص طور پر انہوں نے دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماءمیں درس نظامی کی تکمیل کی۔اس کے بعدکچھ دنوں کے لیے وہ انگلینڈ چلے گئے ،جہاں انہوں نے کچھ میگزین اور رسائل میں صحافتی خدمت انجام دی۔ پھر اپنے ملک ساؤتھ افریقا واپس جاکر اپنی تعلیم مکمل کی اور یونیورسیٹی آف کیپ ٹاؤن سے امام غزالی کے علم کلام اور اصول فقہ پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے کچھ عرصے امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی فورڈ میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا،پھر ڈیوک یونیورسٹی(نارتھ کیرولینا،امریکا) میں تقریباً تیرہ سال تک اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ۲۰۱۴ء میں نوٹر ڈیم یونیورسٹی(امریکا) نے انہیں اعلیٰ پوزیشن آفر کی جس کو انہوں نے قبول کرلیا اور تادم تحریر وہ اسی یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جن میں’’ امام غزالی اور مدرسہ ڈسکورس‘‘ ان کی اہم تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں علمی اور فکری مقالہ لکھ کر شہرت حاصل کرچکے ہیں ۔ امریکی ریڈیو، ٹی وی اور میڈیا میں آئے دن ان کے انٹرویوز اور پروگرام آتے رہتے ہیں ۔ تدریس کے ساتھ آپ دنیا بھر کی مختلف فکری تنظیموں کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔امریکا میں بھی مختلف ادارے اور تنظیمیں ان سے فکری رہنمائی حاصل کرتی رہتی ہیں۔ ’’جام نورآن لائن‘‘ کے لیے مولانامنظرالاسلام ازہری نے ان سے مختلف موضوعات پر گفتگوکی،جس کے اہم قتباسات قارئین کی نذرہے۔ (خوشترنورانی)

 

جام نور(۱):  جام نورآن لائن میں آپ کا خیر مقدم ہے،آپ اپنے علمی سفر کے بارے میں مختصر بتایئے؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ: پہلے تو آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے جام نور میں میرا انٹرویو شائع کرنے کا ارادہ کیا، میرا مختصر تعارف یہ ہے کہ ہمارے آبا و اجداد کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہے ، بیسویں صدی کے اوائل میں میرے پر دادا ساؤتھ فریقا منتقل ہوگئے تھے ، میری پیدا ئش ساؤتھ افریقا میں ہی ہوئی ۔ ہمارا خاندان شروع میں ایک ایسے شہر میں بس گیاتھا، جہاں کا قانون نسلی تعصب پر مبنی تھا، اس لیے ہم لوگ ایک دوسرے شہر اسٹرین منتقل ہوگئے ، یہیں میری نشو و نما ہوئی ۔ اسی شہر میں ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی ،پھرہائی اسکول کے لیے کیپ ٹاؤن چلا گیا ۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا جس کا ذکر آپ سے کرتا ہوں، یہی واقعہ میرے دینی رجحان کا باعث بھی بنا۔ کیپ ٹاؤن میں تعلیم کے دوران کسی شخص نے ایک پم فلیٹ تقسیم کیا ، یہ پم فلیٹ عیسائیوں کی طرف سے تھا جس میں اسلامی اقدار ،نبی پاک ﷺ کی عزت اور قرآن کریم کے کتاب اللہ ہونے پر سوال اٹھایا گیا تھا ، اسکول کے طلبہ میں ایک بحث شروع ہوگئی ، میری تھوڑی بہت شناخت ہوچکی تھی، اس لیے طلبہ مجھ سے جواب پوچھنے لگے ،مگر اس وقت میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، مجھے خود بھی جواب جاننے کی خواہش ہوئی ۔ اپنے طریقے سے میں نے لائبریری اور اسلامی کتب میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا،بلکہ ان کتب کے مطالعے سے تجسس اور پریشانی میں اضافہ ہی ہوتا رہا ۔ قریب کی ایک مسجد میں تبلیغی جماعت کا مرکز تھا ، میں نے اس غرض سے کہ یہ لوگ دیندار ہیں اور اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں، انہیں اسلام کے بارے میں سب کچھ پتہ ہوگا ، تبلیغی جماعت جوائن کرلیا، یہاں آپ کو یہ بتادوں کہ ساؤتھ افریقا میں تبلیغی جماعت کا رجحان ہندوپاک سےمختلف ہے۔ بہر حال میں نے اپناسوال حل کرنے کی غرض سے تبلیغی جماعت جوائن تو کر لیا، مگر ایک عرصے تک ان کے ساتھ رہنے کے باوجود سوال کا جواب حاصل نہیں کر سکا، تاہم کچھ روحانی سکون ضرور ملا ۔ اس درمیان ہمارے دوستوں میں سے کسی نے کہا کہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے ہندوستان جارہاہوں ، میں نے کہا مجھے بھی لے چلو، حالاں کہ میں انجینئرنگ کرنا چاہتا تھا  ۔ یہاں سے مجھے دین کا تجسس پیدا ہوا، حالاںکہ میرے والدکی خواہش تھی کہ میں عصری تعلیم حاصل کروں ، گھر میں طویل بحث و مباحثے کے بعد میرے والد دینی تعلیم کے حصول کے لیے مجھے ہندوستان بھیجنے پر آمادہ ہوگئے ۔ہندوستان کا یہ سفر تبلیغی جماعت کے ساتھ ہوا، ان لوگوں نے میرا داخلہ بنگلور کے’’ مدرسہ سبیل الرشاد‘‘ میں کرادیا ، یہاں مجھے کچھ اچھا نہیں لگا تو کچھ دنوں بعد گجرات میں بھڑوچ کے ایک مدرسے میں چلاگیا جو میرا آبائی وطن بھی تھا ، وہاں بھی تشفی نہیں ہوئی تو دار العلوم دیوبند چلاگیا ۔وہاںپہنچ کراندازہ ہوا کہ یہاں جو کچھ مجھے پڑھا یا جارہا ہے اور ساؤتھ افریقا میں اسلام کو جن سوالات اورحالات کاسامناہے،وہ بالکل مختلف ہے۔ مجھے اب بھی تشفی نہیں ہوئی، اس لیے میں ندوۃ العلماء چلاگیا۔ یہاں مجھے کچھ اطمینان ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے کانپور یونیورسٹی سے بی اے کرلیا۔ اسی دوران میری ملاقات ایک مصری عالم سے ہوئی جو کسی اخبار سے وابستہ تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم لندن آکر میرے ساتھ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہو جاؤ، حالاں کہ میرا ارادہ ندوہ کے بعد ازہر جانے کا تھا، مگر ان کے اس آفر سے میں لندن چلاگیا اور’’ العربیہ‘‘ کے لیے بحیثیت صحافی کام کرنا شروع کردیا، پھر کچھ دنوں بعدمشرق وسطی سے متعلق ایک اقتصادی ڈائجسٹ وابستہ ہوگیا۔ اس وابستگی نے مجھے مشرق وسطی کے معاشی حالات جاننے کا موقع دیا ۔ پھریہاں سے اپنے ملک ساؤتھ افریقا واپس چلاگیا، وہاں بھی ایک اخبار میں سیاسی رپورٹر کی حیثیت سے نوکری کرلی ۔وہاں میرا تعلق مسلم معاشرے سے بھی رہا، اس لیے مجھے امامت و خطابت کے کئی آفرز بھی آئے ۔ اس دوران ساؤتھ افریقا میں یہ تحریک چلی کہ گورے نسل کے لوگ جو اقلیت میں ہیں، ان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اکثریت کی حکومت کی کوشش کی جائے ، میں بھی اس تحریک سے وابستہ ہوگیا ۔ یہاں مقصد میں کچھ کامیابی ملی ۔ اس دوران میں نے صحافت چھوڑ کرایک اور تحریک مسلم یوتھ موومنٹ کا ڈائرکٹر بن گیا اور ساتھ ہی یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں ایم اے میں داخلہ لے لیا۔یونیورسیٹی نے مجھے جونیر لیکچرار کی حیثیت سے نوکری بھی دے دی ۔ پھر اسی یونیورسٹی سے میں نے امام غزالی کے علم کلام اور اصول فقہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی اور ۱۹۹۸ء تک وہاں رہا۔ اسی دوران مجھے امریکا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں ویزیٹنگ پروفیسر کی دعوت مل گئی اور امریکا پہنچ گیا۔ کچھ دنوں بعد جب میں اپنے ملک گیا تو میرے گھر پرایک دہشت گردانہ حملہ ہوا ،جس میں میں اور میرے گھر والے بحمدہ تعالی بچ گئے ۔ جب اسٹین فورڈ یونیورسٹی(امریکا) کو پتہ چلا تو انہوں نے مجھے مستقل تدریس کی آفر کردی اور میں وہاں مستقل پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دینے لگا۔ اسی دوران مجھے امریکا کی ہی ایک دوسری یونیورسٹی ڈیوک سے ایک بڑے عہدے کے لیے پیش کش آگئی ، میں وہاں چلاگیا ۔ یہاں تیرہ سال تک سینئر پروفیسر کی حیثیت سے میں نے خدمت انجام دی ۔ اس کے بعد ۲۰۱۴ء میں مجھے ایک اور یونیورسٹی نوٹرڈیم کی طرف سے ایک اور بڑے عہدےکی پیش کش ہوئی، جہاں مجھے آزادی کے ساتھ اسلام کے کچھ خاص پہلو پر کام کرنے کا موقع تھا، میں نے اس آفر کو قبول کرلیا اور اس وقت میں اسی یونیورسٹی کے ایک انسٹی ٹیوٹ سے سینئر پروفیسر کی حیثیت سے وابستہ ہوں ۔میرا علمی کام بحمدہ تعالی زیادہ تر فقہ، اصول اور اخلاقیات سے متعلق ہے ۔آج کل میں اخلاقیات پر ہی زیادہ کام کرہا ہوں ، مختلف مقالے متعدد علمی جرائد و رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اور امام غزالی کی شخصیت اور مدارس اسلامیہ سے متعلق کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔

جام نور(۲):وہ کون سا محرک تھا ،جس نے آپ کو ہندوستان کے قدیم روایتی ادارے سے درس نظامی کا نصاب پڑھ کر فارغ ہونے کے باوجودامریکا کی معروف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا موقع فراہم کیا؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:پہلے سوال کے جواب میں، میں نے آپ کے اس سوال کا جواب دے دیاہےکہ اسلامی جذبہ اور دین کو سمجھنے کاتجسس مجھے یہاں تک لے آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان جانے کا فیصلہ بہت صحیح تھا۔ اپنے تجربات کی روشنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں قدیم علمی کتابوں کو پڑھنے کا جو طریقہ ہے وہ عالم عرب سے بہتر ہے۔ وہاں بڑی بڑی یونیورسیٹیاں ضرور ہیں، مگر ہندوستانی طریقے سے کتابیں پڑھانے کا رواج بہت کم ہے ۔ ہندستان میں تراث کی کتابیں متون کے ساتھ بڑے معقول طریقے سے پڑھائی جاتی ہیں، جبکہ عالم عرب میں یہ رواج محدود ہے۔ہندوستانی طرز تعلیم کی خوبی یہ ہے کہ آپ کو اس طرح قدیم ثقافت اور قدیم روایات کو سمجھنے کا بڑا سنہرا موقع ملتا ہے ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے ہاںہندوپاک میںوضع و قطع پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور اصول کی پابندی کم کی جاتی ہے ،جس کا تعلق روایت سے تو ہے ،مگر اسلامی اصول سے بہت کم ہے۔ یہ بھی ایک چیز تھی جو شروع میں میرے لیے بڑی جاذب تھی اور بعد میں اس سے مجھے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ یہ بھی ایک فکر اورطریقہ تھا جس نے میری اگلی منزل کی تلاش میں مدد کی۔

جام نور(۳):معروف یونیورسٹی نوٹر ڈیم(امریکا) کی بنیاد سخت گیر عیسائی نظریے پر رکھی گئی ہے،اس کے باوجودآپ وہاں شعبۂ اسلامی قائم ہے اورآپ اس شعبے کے سربراہ ہیں؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:یہ سوال مجھ سے عام طورپر کیا جاتا ہے۔دراصل نوٹر ڈیم یونیورسٹی کی لائبریری اور اسی طرح امریکا کی معروف یونیورسیٹیوں کی لائبریریوں میں اسلام  سے متعلق جس قدر کتابیں موجود ہیں، ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مدرسوں کی لائبریریوں میں اس کا عشر عشیر بھی موجو دنہیں ہے۔ یہ علمی ذخیرہ تمام اسلامی زبانوں مثلا ، انگریزی، اردو ، عربی، فارسی، افریقی اور انڈونیشین وغیرہ میں موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا میں علم و تحقیق کا رجحان اور اس کوحاصل کرنے کاجذبہ بہت زیادہ ہے۔ یہاں اگر کوئی طالب علم روس یا چین میں اسلام کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسباب و وسائل موجود ہوتے ہیں اور وہ بڑی آسانی سے چینی اور روسی زبان کے ساتھ ساتھ وہاں کے اسلامی ماحول میں تخصص کرسکتا ہے۔ اسی طرح اس فن کے متخصص پروفیسرز بھی موجود ہیں۔ امریکی یونیورسٹیوں میں دوسری زبانوں اور مذاہب کی تحقیق و تعلیم کی دو اہم وجہیں ہیں ، پہلی وجہ تو حصول علم کا جذبہ اور دوسری وجہ تمام ثقافتوں اورافکارونظریات سے آشنا ئی کا شوق ہے تاکہ امریکی قوم دنیا کے تمام ملکوں سے آسانی کے ساتھ اپنا معاملہ کرسکے اور ان سے اگر کچھ سیکھنا ہے تو یہ زبانیں اور تہذیب ان کی ترقی کے لیے مددگار بھی ثابت ہوسکیں ۔ اس کا استعمال وہ سیاسی مقاصد کے لیے بھی کرتے ہیں۔ امریکا میں پوری دنیا کی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔یہ علمی نہج تقریباً تمام یونیورسٹی میں موجود ہے، خواہ اُس یونیورسٹی کا تعلق عیسائیت سے ہو یا سیکولر نظریات سے۔کسی بھی تہذیب و ثقافت کی تعلیم اس طریقے سے دی جاتی ہے کہ اس تہذیب سے تعلق رکھنے والا سمجھتا ہے کہ یہی میری تہذیب ہے یا اس ملک کی تہذیب اور اس قوم کا دین ہے۔ اس میں پڑھانے والے بڑے امانت دار ہوتے ہیں، تعلیم میں خیانت کاکوئی تصورنہیں ہے اور علمی سوالات کا گوشہ اور تنقید کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے ۔ نوٹرڈیم یونیورسٹی بھی اسی نہج پرہے ۔

جام نور(۴): مسلم ملکوں بالخصوص بر صغیر کے مذہبی تعلیم یافتہ طبقے میں یہ فکر عام ہے کہ مغربی یونیورسیٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی کوئی جگہ نہیں ہے، اگر کسی یونیورسٹی میں اسلامی تعلیم کا شعبہ موجود بھی ہے تو اس کی کوئی علمی حیثیت نہیں، آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:اس کا جواب بھی میں نے پہلے دے دیا ہے۔بس اتنا سمجھ لیجیے کہ یہ تاثربالکل غلط ہے۔ یہاں اسلام،ملت اسلامیہ ،اسلامی تراث،تاریخ اسلامی،   فقہی اور مسلکی مذاہب و مسالک کے جن گوشوں پرتحقیقات کی جارہی ہیں،برصغیرمیں اُس معیارومنہج کو حاصل کرنے میں نہ جانے کتنی دہائیاں درکارہوں گی۔

جام نور(۵): عام تاثر یہ بھی ہے کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اکثر غیر مسلم ہیں ، یہ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ان کا مقصد بھی شفاف نہیں، وہ صرف اسلام پر اعتراض کی نیت سے اسلام پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، اس سلسلے میںآپ کی کیا رائے ہے؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:جیسا آپ نے کہا،استثنائی طورپربعض لوگ ایسے ہوسکتے ہیں ، ایک زمانے میں استشراق کا یہ نظریہ تھا ، وہ اسلام کو پڑھتے ہی اسی لیے تھے تاکہ ان کی سیاسی اورنظریاتی بالادستی قائم رہ سکے۔ ایڈورڈ سعید امریکی پروفیسروں کے درمیان ایک بڑا نام ہے، جو میرے دوست تھے، اب اس دنیا میں نہیں رہے، انہوں نے اس موضوع پر بڑی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ان کی کتاب ’’اورینٹل ازم‘‘ امریکی علمی حلقوں میں معروف بھی ہے۔تاہم اگرآپ موجودہ عہد کی بات کریں تو یہ بالکل مختلف ہے ۔جو لوگ آج اسلامی موضوعات پر مطالعہ کرتے ہیں وہ اکثر اسلامی پس منظر رکھتے ہیں یا تو اسلامی ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض ایسے بھی امریکی یا مغربی اساتذہ ہیں جنہوں نے اسلام کو پڑھ کر اسلام قبول کرلیا ہے۔آپ جب ان کی کتابیںپڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ بڑی سنجیدہ، علمی اور مذہبی فکری بنیاد پر وہ اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ کہنا زیادتی ہوگی کہ ان کو کچھ نہیں آتا اور وہ سب کے سب اسلام دشمن ہیں ،یہ تاثرغلط ہے۔ ہاںیہ ممکن ہے کہ آپ کو ان کے بعض افکار سے اختلاف ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو مستشرقین اسلام دشمنی میں لکھتے ہیں ان کی کتابیں بھی پڑھی جانی چاہیے تاکہ آپ کو ان کے اعتراضات معلوم ہوں اور اس کا صحیح حل پیش کرسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ امریکا میں عالم اسلام سے انجینئرنگ، ڈاکٹریٹ اور دنیا کے دوسرے فنون پڑھنے کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعدادآتی ہے،اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی اصل وجہ تعلیم و تحقیق کا معیار ہے ۔ جس طرح دنیاوی علوم و فنون کی تعلیم و تحقیق میں امریکا کی درس گاہوں کا معیار و منہج ہے، اسی طرح اسلامی علوم و فنون میں بھی ان کا بہت اعلیٰ معیارہے۔ جو لوگ یہاں کے تعلیمی مراحل سے گذرے ہیں، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔

اس طرح کے سوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عالم اسلام میں اس وقت بڑی مایوسی ہے، جب بھی میں ہندوستان جاتا ہوں تو یہی سوال کیا جاتا ہے کہ آپ وہاں دین کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ وہ اسلام کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں، بلکہ اکثر اوقات تو مجھے یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ میں امریکی حکومت کا آلۂ کار ہوں اور حکومت کے اشاروں پر کام کرتا ہوں ۔  جہاں تک امریکی حکومت اور اس کی سیاست سے متعلق بات ہے تو ایک بات یاد رکھ لیجیے کہ سیاست بالکل ایک الگ چیز ہے ،امریکا کی داخلہ پالیسی ،خارجہ پالیسی سے بالکل مختلف ہے ۔یہاںکوئی ضروری نہیں ہے کہ حکومت کے زیر سایہ ہر فرد اپنی حکومت کی پالیسیوں سے متفق ہو،اکثروہ کھل کر اپنی حکومت سے اختلاف کرتے ہیں ،یہاں تک کہ امریکی شہری بھی بڑی تعداد میں اس کے ناقد ہوتے ہیں ۔یہ اور اس طرح کے بہت سے معاملوںمیں امریکا کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

جام نور(۶):آپ فکراسلامی کی نشاۃ ثانیہ کی پیہم کوشش کر رہے ہیں،اس حوالے سے موجودہ زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے چیلنجیز کیا ہیں؟ اور کیا یہ چیلنجیز مغرب اور مشرق کے مسلمانوں کے لیے یکساں ہیں یا الگ الگ ہیں؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:مغرب اور مشرق کے چیلینجیز الگ الگ ہیں، مشرق میں معاشی ، سماجی، انسانی اقدار وغیرہ میں بڑی رکاوٹیں، مشرقی ملکوں کے بنیادی مسائل ہیں،جو عام طور پر مغرب میں نہیں ہیں۔ مغرب میں ایک ایسی تہذیب ہے جس کی بنیاد عیسائیت اور یہودیت پرہے ، یہاں اسلام ایک تیسرے پہلو کے طور پر نمایاں ہوا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اسلام اس میں اپنے آپ کو کیسے فٹ کرسکتا ہے؟ کیوں کہ اسلام کے لیے اخلاقی چیلنج بہت واضح ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو غالب تہذیب ہوتی ہے وہ ہمیشہ مغلوب یا کمزور تہذیب پر حاوی ہوتی ہے، اس اعتبار سے مسلمانو ں کو اپنے اخلاقی اقدار میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،مثلا عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات کا مسئلہ ، ہم جنس پرستی کا مسئلہ، اور اسی طرح اسلاموفوبیا کا مسئلہ۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ہیں۔ ان مسائل میں مسلمانوں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اس سے کس طرح نمٹا جائے اور اس کا ایک ایسا حل نکالا جائے جو امریکی اور مغربی معاشرے کا جز بن جائے۔تاہم سیاسی اقدار میں مغرب اور اسلام میں بڑی ہم آہنگی نظر آتی ہے، مثلا عد ل و انصاف کا مسئلہ۔امریکی غالب تہذیب اسلام کے ساتھ اس بارے میں متفق ہے کہ عدل و انصاف کا قیام ضروری ہے۔ آج کل مسلمان امریکا کی سیاست میں بہت پیش پیش ہیں، یہی حال یورپ کا بھی ہے ،جو بڑی خوش آئند بات ہے۔جب کہ دوسری طرف عالم اسلام کا حال دیکھئے تو وہاں سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استقرار ہے۔ اس کی بڑی وجہ میری نگاہ میں عالم اسلام میں دینیات کے سیاسی پہلو (جسے آ پ پولیٹیکل تھیالوجی کہہ سکتے ہیں) کا فقدان ہے، اسلامی ملکوں میں اس پہلو کو بالکل ہی نظر انداز کردیا گیا ہے اور وہاں قیادت، امامت اور سیاست کا صدیوں پرانا تصور ہے ۔ آپ یہ دیکھئے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، حکومت سازی کے کیسے کیسے نئے زاویے سامنے آچکے ہیں، جمہوریت اس کی ایک بڑی مثال ہے، مگر ہمارا عالم اسلام اور مسلم دانشور یا علماقدیم طرز فکر کی سیاست کا راگ آلاپ رہے ہیں، ان چیزوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ میں زور دے کر یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیں فکر اسلامی کی تشکیل نو کی سخت ضرورت ہے جس میں پولیٹیکل تھیالوجی کو خصوصی طور پر مد نظر رکھا جائے تاکہ ہم جمہوریت ، حقوق انسانی، معاشی عدل و انصاف کو اسلامی رنگ سے ہم آہنگ کر سکیں اور اس کو مسلم معاشرےمیںعام کریں تاکہ انسانی اقدار کی ترویج ہوسکے، جہاں مسلم اور غیر مسلم ایک ساتھ مل کررہ سکیں، ہر ایک اپنے اقداروفکر کے ساتھ آزادانہ زندگی گذار سکے ۔ میری نظر میں اگر اس پہلو پر توجہ دی جائے تو آج بھی مسلمانوں کو عالمی سطح پر قیادت مل سکتی ہے ۔ ’’ہیومن ڈیولپمنٹ یا انسانی اقدار و آزادی کا احترام‘‘ کے لیے کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ امریکا یایورپ میں ہی موجود ہوں، آپ مصر ، ہندوستان یا دنیا کے کسی بھی خطےمیں رہ کر اس کام کو انجام دے سکتے ہیں ، تاہم اگر آپ امریکا یا یورپ میں ہوں گے تو آپ کے پاس وسائل کی فراہمی ہوگی ۔برصغیرکے ملکوں میں اکثر لوگوں کے لیےوسائل کم ہوں گے ۔ میں اکثر کی قید اس لیے لگا رہاہوںکہ ان ملکوں کا جو خاص طبقہ ہے اس کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ہماری فکر یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس طبقے کے وسائل کا استعمال کیسے کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ ان میں سے کون ایسی جماعت یا ایسے افراد ہیں جو بڑا تعلیمی ادارہ یا اچھی معیاری یونیورسیٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جن کے خیالات اس طرف ہوں ان کا انتخاب کیا جائے اور ان کے سرمایےسے فائدہ اٹھاکر معیاری ادارہ قائم کیا جائے ،جہاں ہر طرح کی تعلیم کے ساتھ دینیات کی بھی معیاری تعلیم کا سب سے عمدہ نظام موجود ہو۔بر صغیر کے ملکوں میں اگر اچھی یونیورسٹی بنتی بھی ہے تو دینیات اور اس سے متعلق زبانوں کے شعبے بالکل ہی کمزور نظر آتے ہیں۔ ان شعبوں میں آپ کو کوئی فکرومنہج نظر نہیں آئے گا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دینیات کے شعبوں کے ذمہ داران اور اساتذہ صرف جامداورقدیم نظریات کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ آپ سنجیدہ علمی مباحثے اورنقدوشعور کی حوصلہ افزائی کیجیے، مناظراتی عمل سے پرہیز کیجیے، مکالمے کے عمل کو جاری رکھیے اور لسانی دہشت گردی جو بعض خطے میں عام ہوچکی ہے،اس سے اجتناب کیجیے۔ یہ جو ہمارا خاص طبقہ ہے ،یہ بڑا بزدل ہے، ایک طرف تو وہ علما کو گالی گلوچ کرتا ہے اور دوسری طرف علما کی خوشنودی بھی اس کا منشا ہوتا ہے ، یہ منافقت بہت نقصان دہ ہے، یہ اخلاقی نفاق ہے۔ یہی نفاق دیندار طبقے میں بھی ہے، جب وہ سرمایہ دار سے ملتے ہیں تو ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر وہ بات کرتے ہیں ،جس سے ان کا اپنا مقصد حاصل ہوجائے ، یہ بڑا تکلیف دہ اور خطرناک عمل ہے ، اس میں خلاقی اقدار کا جنازہ نکل جاتا ہے ۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمت عملی کے ساتھ مختلف طبقوں کے درمیان مکالمے کا عمل شروع کیا جائے ، ایک دوسروں کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، رواداری کا ماحول بنائیں اور تکفیری ذہن سے اجتناب کریں ،کیوں کہ یہ طریق فکروعمل اسلام اور ملت اسلامیہ دونوں کے لیے حددرجہ نقصان اور زوال کا باعث ہے۔

جام نور(۷): امریکا کے مسلم علمی طبقے نے’ ’پروگریسیو مسلم‘‘(ترقی یافتہ مسلم) کی اصطلاح ایجاد کی ہے، یہ اصطلاح کیاہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:یہ لفظ لوگوں کا دیا ہوا ہے ، میں اپنے لیے ایک الگ لفظ’ ’تنقیدی روایتی مسلم‘‘ کا استعمال کرتا ہوں ، مجھے پرانا اقدار پسند ہے، تاہم آنکھ بند کرکے اس کے ماننے کا قائل نہیں ہوں۔ بہ حیثیت انسان غلطی کا احتمال ہے، مجھ سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر میری کوئی بات اچھی ہوجائے تو اس سے تو قوم کا فائدہ ہی ہے اور اگر نیت اچھی ہو تو اللہ کے نزدیک اجربھی ہے۔ پرگریسیو کا مطلب یہ ہے کہ فکر اسلامی کی تشکیل نو پر توجہ دی جائے ۔دیکھئے مسائل تو بہت ہیں اور ان میں اکثر کی نوعیت ثقافتی اور رسم و روایت کی ہے، مگر وہ دین میں ناسور کی حد تک پیوست ہوچکے ہیں۔ نیا سیاسی نظام جس سے دنیا چل رہی ہے، نیا معاشی و جمہوری نظام اور سرمایہ دارانہ نظام جس پر دنیا کی نظام کی بنیاد ہے ، یہ سب اسلامی فکر سے کس طرح ہم آہنگ ہوسکتے ہیں، یہ سوچنا بہت ضروری ہے، اس لیے کہ اسلامی فکر ایک زندہ روایت کا نام ہے، جو ہردور کے مسائل پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، لہٰذا’’ پروگریسیو اسلام ‘‘کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کو اس طرح پیش کیا جائے کہ نئی نسل اس کو سمجھ سکے اور اسے اپنا سکے، جس سے ان کی زندگی میں آسانیاں ہوسکیں ۔

جام نور(۸): برصغیر کے مدارس کے فارغین کے لیے آپ گذشتہ تین برسوں سے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں، اس کا مختصر تعارف کرایئے؟کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس منصوبےسے مدارس کے فارغین جدید چیلنجیز کا معقول حل پیش کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:اس سلسلے میں ہمارا پروگرام یا پروجیکٹ یہ ہے کہ مدارس کے نئے فارغین طلبہ میں سے کچھ کا انتخاب کیا جائے اور انہیں عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے وسائل مہیا کرائے جائیں۔ یہ پروگرام ہفتے میں تین گھنٹے آن لائن طریقۂ تعلیم پر منحصر ہے ، ہم زیادہ توجہ ان کے سائنٹفک اور دینیاتی تعلیم پردیتے ہیں ، ہم انہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ جدید سائنس کا کیا فلسفہ ہے۔ اسی طرح ہمارے مدارس میں جن چیزوں کو درس و تدریس کا موضوع نہیں بنایا جاتا ہے، مثلا امام غزالی اور رازی وغیرہ کی کتابیں اور دیگر مفکرین کی بحثیں، ان کی فکروں سے بھی طلبہ کو روشناس کرانا ہمارا مقصد ہے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم انہیں کہیں کہ آپ یہ سوچیں اور آپ کو یہ سوچنا چاہیے، بلکہ ہم صرف اسباب اور ذرائع فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود ان سے استفادہ کر یں اور غور و فکر کر کے نئی سوچ پیدا کریں۔ ہم انہیں نئی روایت اپنانے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ قدیم روایت کو چھوڑ دیں بلکہ جدید و قدیم کو ملا کر ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالیں،جہاں مسلمان اپنی شناخت خود بناسکیں اور جدید چیلینچیز کو حل کرنے میں انہیں مدد مل سکے۔ اس سے ان کی دنیا اور آخرت دو نوں ہی سنور سکتی ہے۔ یہ ہمارے مدرسہ ڈسکورس کا پروگرام ہے ۔ہماری کوشش یہ ہے کہ اس کورس کے ذریعے کچھ فضلائے مدارس میں نئی فکر کی روح پھونک دی جائے اور کام کرنے کا نیا جذبہ پیدا کردیا جائے ۔ آپ کے علم میں یقینا یہ بات ہوگی کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے ہندو پاک کے مسلمان نصاب کی تبدیلی پر گفتگو کر رہے ہیں اور اس موضوع پر درجنوں کتابیں اور رسالے چھپ بھی چکے ہیں ،تاہم ابھی تک اس کا کوئی فائدہ سامنے نہیں آسکا ہے ، ہم ایک چھوٹا سا تجربہ کر رہے ہیں اور ہمیں بہت حد تک کامیابی بھی مل رہی ہے، ہمارے پروگرام سے جو لوگ وابستہ ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سوچ و فکر میں مثبت تبدیلی رونما ہورہی ہے، ان شا ء اللہ یہی لوگ آگے چل کر کچھ نہ کچھ کام انجام دیں گے ، ظاہر ہے کہ تبدیلی کا مالک خدائے وحدہ کی ذات ہے ، ہمارا کام سبب بن کر کوششیں کرنا ہے ،جو ہم کر رہے ہیں۔

جام نور(۹):امام غزالی کی شخصیت پر آپ کی معروف کتاب اہل علم سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہے اور وہ سال کی سب سے بہترین کتاب بھی قرار دی گئی ہے، امام غزالی کی شخصیت کا وہ کون سا اہم پہلو ہے جس کی وجہ سے وہ مغرب و مشرق میں یکساں مقبول ہیں؟ اور کیا بالعموم امام غزالی کی فکر آج کے زمانے سے ہم آہنگ ہوسکتی ہے؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:جہاں تک امام غزالی کی کتاب کا مسئلہ ہے ، بحمدہ تعالی اس کتا ب کو بڑی مقبولیت ملی ہے ،خاص طور پر مغربی دنیا میں میں نے یہ کوشش کی ہے کہ امام غزالی کے ساتھ ایک مکالمہ کیاجائے ، میں جدید عہد کا شخص ہوں اور جدید فکر سے ہم آہنگ ہونا چاہتا ہوں ، میرے سامنے جدید و قدیم کے تمام نامور فلسفی اور ان کی فکر بھی ہے، جن میں سر فہرست ارسطو، افلاطون کے ساتھ ساتھ امام غزالی اور رازی بھی ہیں۔ یہ سب علمی ذخائر ہماری وراثت ہے، اس وراثت کے ذریعے کوشش کی ہے کہ امام غزالی سے مکالمہ شروع کیا جائے، کیوں کہ مفکر خواہ کوئی بھی ہو، مثلا وہ ابن سینا ہو کہ غزالی ہو، یا ابن تیمیہ ہو ، ہمارے زمانے کے چیلینجیز کا تیارجواب کسی کے پاس موجود نہیں ہے ، جواب ہمیں خود تلاش کرنا ہوگا ۔ہمیں اس کے لیے خود محنت کرنی پڑے گی، ہاں یہ صحیح ہے کہ ان کی فکر سے ہمیں مدد ضرور ملتی ہے، اگر ہم یہ دیکھیں کہ انہوں نے اپنے زمانے کے چیلنجیز کو کس طرح حل کیا ، اس سے ہمیں اپنے مسائل کو سمجھنے میں ہمت ملے گی اور نئی سوچ قائم کرنے میں ان کی روش ہمارے لیے ممدو معاون ہوگی، ورنہ ہم خالص تقلیدی ماحول میں زندگی گذارتے رہ جائیں گے ۔ تقلید کا میں منکر نہیں ، میں خود تقلید کی تعریف کرتا ہوں اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ کوئی کام تقلید کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم تقلید کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کام ایک ہی طریقے سے ہوسکتا ہے ،اس سے مجھے اختلاف ہے ، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں ،ہماری ثقافت میں یہ ہے کہ ہمیں وہی کرنا ہے جیساکہ ہمارے بزرگوں نے کیا ہے ،بلکہ تقلید کا مفہوم بالکل الگ ہے ،ٍٍہماری ثقافت بالکل الگ ہے۔ہمارے فکروعمل میں جو دقیانوسیت آگئی ہے وہی ہمارے زوال کا سبب ہے۔ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے زمانے کے لوگوں کو کچھ فکری بصیرت فراہم کرسکیں۔ ہم نے امام غزالی کی شخصیت میں یہی دیکھا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے تمام فکری مباحث سے آشنا رہتے تھے اور ہر ایک سے استفادہ کرتے تھے، تصوف، علم کلام، اصول وغیرہ ،یہ تمام چیزیں ہمارے زمانے کی ضرورت ہے۔ وہ فقیہ بھی تھے،متکلم بھی اور صوفی بھی ۔’’الحکمۃ ضالۃ المومن‘‘، یہی ہمارانعرہ اور منشور ہونا چاہیے اور اس کو تمام حلقوں میں عام کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں اخلاقیات کی اشد ضرورت ہے، ایک مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے کیسے پیش کرے،انسانی تکریم بہت اہم چیز ہے ۔ یہ تمام چیزیں ہماری ثقافت کا حصہ ہیں ،مگر ہم نے ان پر توجہ ہی نہیں دی ہے۔ مغرب نے علم ، سائنس اور ٹکنالوجی میں برتری حاصل کرلی ہے، جس کے ذریعے ان کے معاشرےکو فائدہ پہنچا ہے، ہمارے ہاں بھی اس کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان سے اپنے اصول کی بنیاد پر استفادہ کریں جو کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے ۔ اگر تبدیلی کی ضرورت پڑے تو ہم تبدیلی بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں کہ غزالی کی فکر کو ہوبہو استعمال کریں تو مشکل ہوگا۔ امام غزالی یا قدیم مفکرین کو صرف نمونے کے طور پر ہم دیکھتے ہیں، محنت ہمیں کرنی ہے اوران کے افکارسے استفادہ کرتے ہوئے نئے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔

جام نور(۱۰):آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا، آپ کا بہت شکریہ، جام نور کے قارئین کے لیے کوئی پیغام؟

پروفیسرابراہیم موسیٰ:میں’’جام نور‘‘سے ۲۰۱۲ء سے اچھی طرح سے متعارف ہوں،اس کے متعدد شمارے بھی میری نظروں سے گزرے ہیں،میں نے محسوس کیا ہے کہ مسلمانوں کی فکری تشکیل نو کے لیے آپ لوگ کوششیں کررہے ہیں، آج کا سب سے اہم کام یہی ہے۔آپ اپنے حلقے میں کامیاب ہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ رسالہ میری فکر سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے اور نوجوان نسل میں قدامت کے ساتھ جدت کی روح پھونکنے کا کام کر رہا ہے ،اللہ آپ لوگوں کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے ۔

(جام نورآن لائن،شمارہ ستمبر۲۰۱۸ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ایڈمن

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment