فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 دیوان عام

تذکرۂ علمائے ہندوستان: مصنفہ بدایونی،مرتبہ نورانی

ڈاکٹرعارف نوشاہی

۱۹۶۱ء میں جب محمد ایوب قادری(۱۹۲۶-۱۹۸۳ء)نے مولوی رحمان علی ناروی(۱۸۲۹ – ۱۹۰۷ء) کاتصنیف کردہ تذکرۂ علماے ہند فارسی سے اردو میں منتقل کرکے اپنے شاندار مقدمے ، حواشی اور اشار یے کے ساتھ شائع کیاتووہ نہ ڈاکٹرتھے نہ پروفیسر، بلکہ سادہ بی اے تھے ۔ لیکن کام ایسا جاندار تھاکہ ڈاکٹر اور پروفیسرحضرات بھی اس پر رشک کریں۔میں نے یہ اشاعت اپنی نوجوانی اور طالب علمی کے دَور میں ستّر کی دہائی میںدیکھی تھی اور اسے ترجمہ کردہ تذکرے کی تدوین کا ایک عمدہ نمونہ پایا۔اس بات کو اب ۲۰۱۹ء آتے آتے۵۸ برس بیت گئے ۔ اس دوران علما کے کئی پرانے تذکرے تدوین ہوئے، کچھ نئے تذکر ے بھی لکھے گئے اور شائع ہوئے۔ہر ایک کی افادیت اپنی جگہ پر مسلّم ہے، لیکن قادری صاحب کے معیار کو کوئی نہ پہنچ سکا۔۲۰۱۸ء ختم ہونے کو آرہا تھا کہ ستمبر میں سید محمد حسین بدایونی(م: ۱۹۱۸ء) کے مصنّفہ مظہر العلما (تذکرہ علماے ہندوستان)مرتّبہ ڈاکٹر خوشتر نورانی کی بیک وقت ہندوستان اور پاکستان سے اشاعت ہوئی۔ تذکرہ مجھ تک بھی پہنچا ۔ یہ اشاعت دیکھ کر قادری صاحب کی یاد تازہ ہوگئی۔ ایک تو تدوینِ تذکرہ کے حوالے سے اور دوسرا ،یہ قادری صاحب ہی تھے جنھوں نے مظہر العلماکو سب سے پہلے علمی دنیا سے متعارف کروایا تھا۔بہرحال خوشی ہوئی کہ ایک عمر بتانے کے بعد،معنوی اور صوری محاسن سے آراستہ ایک عمدہ تذکرہ دیکھنے کو ملاہے۔

یہ تذکرہ جسے اس کے مصنف مولانا سید محمد حسین سید پوری بدایو نی (۱۲۷۸- ۱۳۳۶ھ؟ /۱۸۶۲-۱۹۱۸ء) [ اس کے بعد: مصنف ] نے مظہر العلماء فی تراجم العلماء و الکملاء سے موسوم کیاتھا، اس کے مرتّب ڈاکٹر خوشتر نورانی [ اس کے بعد : مرتّب]نے اسے  سہولت کے پیش نظر تذکرۂ علماے ہندوستان کا عرفی نام دیا ہے( ص ۴۱) اور اب یہ اسی جلی نام کے ساتھ بیک وقت پاکستان اور ہندوستان سے ستمبر ۲۰۱۸ء میں شائع ہوا ہے۔پاکستان میں اس کی اشاعت دارالنعمان پبلشرز ،اردو بازار ،لاہور سے اور ہندوستان میںادارۂ فکر اسلامی، مٹیا محل ،جامع مسجد، دہلی سے ہوئی ہے۔ دونوںاشاعتوں کی ضخامت یکساں یعنی نو سو چوالیس(۹۴۴) صفحات ہے۔ میرے پیش نظر پاکستانی اشاعت ہے ،لیکن میں نے اپنے کرم فرما ڈاکٹر عطا خورشید صاحب (علی گڑھ)سے رابطہ کرکے تصدیق کرلی ہے کہ دونوں اشاعتو ں میں سرِمُو فرق نہیں ہے ،سواے جلد کے رنگ کے ۔ پاکستانی اشاعت کی جلد سیاہ رنگ میں ہے ، جس نے سرورق پر لگی کسی قدیم عمارت کو بھی سیاہی میں رنگ دیا ہے اور تصویر میںیہ عمارت بالکل نظر نہیں آتی۔ چونکہ دونوں اشاعتیں ایک جیسی ہیں،زیر نظر تبصراتی مقالے میں محوّلہ صفحات کا اطلاق دونوں پر ہوتاہے۔

یہ تذکرہ یکم رمضان ۱۳۱۵ھ( ۱۸۹۷ء) کو شروع ہوکر ۱۲ ربیع الاول ۱۳۱۷ھ( ۱۸۹۹ء)کو اختتام پذیر ہوا(ص۶۹)اس کے نام مظہر العلماسے اس کی تکمیل ِتصنیف کا سال ۱۳۱۷ھ ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم مصنف جب تک زندہ رہے، اپنے مسودے پر اضافات کرتے رہے ۔ مصنف نے اس کی تصنیف کی ابتدا اور تکمیل کا سال ظاہر کرنے کے لیے کئی مادہ ہاے تاریخ نکالے جن کا مرتب نے ذکر کیا ہے (ص ۷۰)۔کتاب کے قلمی مسودے پر اس کا ایک نام محیّ التواریخ بھی لکھا ہوا ہے(تصویر ص ۴)۔اگر ہم اسے عربی قاعدے کے مطابق ’’محیی التواریخ‘‘ پڑھیں تو اس سے ۱۳۱۶ برآمد ہوتا ہے جو اس تذکر ے کے تصنیفی دور سے متعلق ہے۔

مصنف نے اپنا مسودہ دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلے حصے میںچھ سو ستتر(۶۷۷) شخصیات کے مفصل حالات ہیں، دوسرے حصے میں بطور تکملہ مزیدتین سو تریسٹھ(۳۶۳ )شخصیات کے اسما اور چند سطری کوائف لکھے ہیں جن کے حالات مصنف کو نہیں مل سکے۔کُل ملا کر یہ ایک ہزار چالیس ( ۱۰۴۰)شخصیات کے حالات پر مشتمل ہے۔ان سب شخصیات کا تعلق برّصغیر (متحدہ ہندوستان) اور اٹھارویں اور انیسو یں صدی عیسوی سے ہے۔ایک اچھی تعداد مصنف کے معاصرین کی ہے ۔

یہ اُس دور میں ہندوستانی علماکے بارے میں لکھا جانے والا تیسرا عام تذکرہ ہے ۔پہلا مولوی رحمان علی کا تذکرۂ علماے ہند(۱۳۰۸ھ/ ۱۸۹۱ء) اور دوسرا محمد ادریس نگرامی( ۱۸۵۸-۱۹۱۲ء) کا تذکرۂ علما ے حال(۱۳۱۳ھ/۱۸۹۵ء)۔ فرق یہ ہے کہ مولوی رحمان علی کا تذکرہ، فارسی میں ہے اور اس میں قدیم علما بھی شامل ہیںجب کہ باقی دونوں تذکرے اردو میںہیں اور متاخرین سے متعلق ہیں۔

مظہر العلماکے مسودے کی چند ایک نقلیںتیار ہوئیں لیکن بالفعل ایک ہی قلمی نقل مرتّب کو دستیاب ہوسکی جوبدایوں کی خانقاہ قادریہ کے کتب خانۂ قادریہ میں موجود ہے اور اسی کی بنیاد پر یہ تذکرہ مرتّب ہو کر اب شائع ہوا ہے۔

مرتّب کی یہ علمی کاوش در اصل ان کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو انھوں نے شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کو پیش کیا اور اس پر انھیںستمبر ۲۰۱۷ء میں ڈاکٹریٹ کی سند فضیلت تفویض ہوئی(ص ۴۸)اور اب ایک سال بعد جزوی ترمیم و تبدیلی کے بعد شائع ہواہے(ص ۴۸)۔مصنف کا سال وفات ۱۹۱۸ء اور اس تذکرہ کی اشاعت کا سال ۲۰۱۸ء ہے ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصنف کے انتقال کو سو سال پورے ہونے پر یہ ان کی حیات ِنوکا وسیلہ ہے۔صد سالہ برسی منانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

مرتّب نے اسے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے جس کا اجمال یہ ہے:۔

۱۔ مصنف کا تعارف( بقلم مرتّب)؛۲۔مخطوطہ (مظہر العلما )کا تعارف( بقلم مرتّب)؛ ۳ و ۴۔مظہر العلما کا متن مع تکملۂ مصنف؛ ۵۔ تعلیقات (بقلم مرتّب)؛۶۔اشاریۂ اشخاص( بقلم مرتّب)۔یہ سارا کام اس خوش اسلوبی ، خوش سلیقگی اور ٹھوس علمی اندازسے انجام پایا ہے کہ پروفیسر محمد اقبال مجددی صاحب بھی اس کی تحسین کیے بغیر نہیں رہ سکے( تقریظ بر پشت جلد)۔یہ بات میں نے اس لیے لکھی ہے کہ مجدد ی صاحب کی نگاہ، بلند اور ناقدانہ ہوتی ہے اور کم درجے کے کام ان کی نظر میں نہیں جچتے۔تذکرۂ علماے ہند کے ترجمہ و تعلیقات بقلم محمد ایوب قادری کے بعد، علما کے کسی تذکرے کی معیاری تدوین کا یہ گذشتہ نصف صدی میں واحد نمونہ ہے، جس پر اس کے فاضل مرتّب، دہلی یونیورسٹی اور پاک و ہند میں اس کے دونوں ناشرین مبارک باد کے مستحق ہیں۔

یہ تبصراتی مقالہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں ایک عمومی تبصرہ اور آرا ظاہر کی گئی ہیں؛ دوسرے حصے میں تدوین /کتابت/طبا عت کے مراحل میں کتاب میں در آنے والی چند معمولی اغلاط کی نشان دہی کی گئی ہے تاکہ اس کتاب کی آیندہ اشاعت ( جو یقینا ہوگی )میںاگر مرتّب مناسب سمجھیں تو ہماری معروضات کو بھی سامنے رکھیں۔سرِ دست تذکرے میں واقعاتی یا تحقیقی غلطیوں(اگر کوئی ہیں)سے تعرض نہیں کیا گیا۔

عمومی تبصرہ:

راقم کے خیال میں کتاب کے نام مظہر العلماء فی تراجم العلماء و الکملاء میں لفظ’’ علما ‘‘کی تکرار حسن بلاغت سے عاری ہے۔اس کے مقابلے میں مولوی رحمان علی کے تذکرۂ علماے ہند کا لقب  تحفۃ الفضلاء فی تراجم الکملاء زیادہ موزوں ہے اور یقینا مصنف نے اسی سے متاثر ہوکر اپنی کتاب کا نام رکھا ہے۔

اس تذکرے کی تصنیف میںخود مصنف کا مقصد یہ تھاکہ وہ ہندوستان میںبارھویں، تیرھویں اور چودھویںصدی کے علما، ادبا اور اولیاے کاملین کی تاریخ لکھیں(ص ۶۹)۔ظاہر ہے مکانی اور زمانی اعتبار سے یہ ایک وسیع موضوع ہے۔مصنف کے دَور میںہندوستان کی جغرافیائی حدود شرقاً غرباً چٹاگانگ سے پشاور تک تھی۔تقریباً اڑھائی ہزار کلومیٹر پر پھیلا ہوا مُلک اور اس پر تین صدیوں میں پیدا ہونے والے ہزاروں علما، ادبا اور اولیا کا حصر اور احاطہ کرنا ایک دشوار اور وقت طلب کام تھالیکن مصنف نے اسے محض ڈیڑھ سال میںانجام دے دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس میں ہندوستان میں ان تین صدیوں کے کئی علما، ادبا اور اولیا شامل نہیں ہوسکے۔ مصنف کا زور،ہند کے’’ علما ے اسلام ‘‘ کے حالات کی جمع آوری پر رہا(ص ۶۹)اور ادبا اور اولیااس میں اس طرح جگہ نہ پاسکے جس طرح علما۔یہاںمصنف کے قلم سے چھوٹ جانے والے ایسے متعدد علما کے نام گنوائے جاسکتے ہیں۔لیکن اس کا فائدہ تب ہوگا جب کسی کو اس کا تکملہ لکھنا مقصود ہو۔

تدوین متن میں مرتّب کی طرف سے جومسائل ہمیں نظر آئے ، وہ حسب ذیل ہیں:۔

  • یہ تذکرے کا مکمل متن ہے تاہم مرتّب نے کچھ مطالب کو حذف کردیا ہے۔ بعض محذوفات کا اعلان کیا ہے(ص۴۷۳) لیکن بعض محذوفات غیرعلانیہ ہیں اور مرتّب نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ جیسے مقدمۂ مصنف ، شجرۂ سادات سیدپور(بدایوں) اور قطعۂ تاریخ تصنیف از منشی محمد عزیز خان اوجھیانوی۔ تدوین متن /اشاعت کے وقت ان مطالب کو شامل نہ کرنے کامجھے کوئی علمی جواز نظر نہیں آتا،جب کہ مرتّب مصنف کے مقدمے کا بار بار حوالہ بھی دیتے ہیں (ص۶۸، ۶۹، ۷۷)۔
  • مرتّب نے صفحہ۵پر اپنے زیر استعمال مخطوطے کے جس صفحے (۲۲۷) کا عکس چھاپا ہے اس پر مولانا محمد عادل کان پوری کے حالات ہیں۔ اگر مخطوطہ میں درج عبارت کو مرتّب کی تدوین کردہ عبارت(ص ۳۴۸-۳۴۹) سے ملایا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مصنف نے اشخاص کے احترام کے لیے لفظ ’’ صاحب‘‘ کا استعمال کیاہے، لیکن مرتّب نے اسے ترک کردیا ہے۔یہی حال اس صفحے پر درج چند دعائیہ کلمات کا بھی ہے۔مصنف نے’’ شاہ مقبول احمددہلوی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ لکھا ہے لیکن مرتّب نے ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘نقل نہیں کیا۔اسی صفحے پر مصنف نے صاحب ِترجمہ کے لیے ’’سلمہ اللہ ‘‘ نیزمظہر الحق الہ آبادی کے ترجمے میں بھی مصنف نے ’’سلمہ‘‘ لکھا ہے(مخطوطہ:ص ۲۵۲) ، لیکن مرتّب کے متن میں ہمیں وہ بھی نظر نہیں آتا۔مجھے مرتّب کی عنایت سے مخطوطہ کے صفحات ۲۲۵،۲۲۶ ،۲۵۲بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے وہاں بھی متعدد ناموں کے ساتھ ’’صاحب ‘‘ موجود ہے لیکن شائع شدہ متن میں ایسا نہیں ہے۔’’صاحب‘‘ اور دعائیہ کلمات ترک کرنے کے اصو ل کا ذکر ہمیں مرتّب کے’’ملاحظات‘‘ (ص۴۱-۴۴)میں نہیں ملتا ۔ یا معشوق علی جون پوری کے حالات میں ایک جملہ یوں درج ہوا ہے: ’’قطعۂ تاریخ وفات من جانب منشی شیخ خادم علی [سندیلوی یہ ہے]‘‘ (ص ۳۷۱)۔ مخطوطہ(ص۲۵۲) میں یہ عبارت اس طرح لکھی ہے: ’’قطعۂ تاریخ وفات من طبع جناب منشی شیخ خادم علی صاحب مؤلف تاریخ جدولیہ‘‘۔یعنی مصنف کے الفاظ’’ مِن طبع جناب‘‘ کو’’ من جانب ‘‘پڑھا گیا ہے اور ’’مؤ لف تاریخ جدولیہ ‘‘ محذوف ہے۔

مرتّب سے متن کی نقل یا قرائت میں جومزید الفاظ چھوٹ گئے ہیںان کا ذکر مقالے کے دوسرے حصے میں آئے گا ۔ہم ان کو،سہو قرائت، سہو قلم یا غصّ بصر کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

  • مخطوطہ کا صفحہ ۲۲۷ دیکھ کر مجھے ایک اور الجھن پیدا ہوئی ۔ جسے بعد میں مرتّب سے براہ راست رابطہ کرکے دور کر لیا گیا۔اس کا ذکر بھی تدوین کے نقطۂ نظر سے ضروری تھا۔واقعہ یوں ہے کہ مخطوطہ کے صفحہ ۲۲۷ پر مولانا محمد عادل کان پوری کے حالات سے پہلے مولانا محمد عابد سندھی کے حالات ہیں۔لیکن مرتّب کے متن میں مولانا محمد عادل کان پوری کے حالات سے پہلے مولانا محمد ظاہر راے بریلوی کا ترجمہ ہے۔مرتّب سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے زیر استعمال مخطوطہ میں بعض شخصیات کے تراجم کا اندراج دو مقامات پر ہوا ہے اور جس مقام پر زیادہ جامع حالات تھے انھوں نے وہاں سے لیے ہیں اور دوسرے مقام کو نظر انداز کردیا ہے۔اس بات کا بھی مرتّب کے ’’ملاحظات‘‘ میں ذکر ضروری تھا جو نہیں ہوا۔لیکن خاص اس معاملے میںایک اور نکتہ بھی قابل ذکر ہے۔ ’’محمد عابد سندھی‘‘کا ترجمہ مصنف / کاتب نے دو مقامات -حرف ’’ع‘‘ اور حرف ’’م‘‘ -پر درج کیا ہے۔ مرتّب نے حرف ’’ع‘‘ والے ترجمے کو ترجیح دی اورحرف ’’م‘‘والا ترجمہ چھوڑ دیا۔نتیجۃً ’’محمد عابد سندھی‘‘کا ترجمہ حرف ’’ع‘‘میں شائع ہوا ہے حرف ’’م‘‘میں نہیں۔اصولی طور پر اسے حرف ’’م‘‘میں شامل ہونا چاہیے تھا کیونکہ ’’محمد‘‘ سے شروع ہونے والے بیشتر نام اسی باب میں درج ہیں(اگرچہ چند نام دیگر مقامات پر بھی درج ہوئے ہیں جیسے محمد ابراہیم-  الف میں، محمد جعفر -جیم میں، محمد دراز -دال میں وغیرہ)۔
  • مرتّب کی مدد سے مجھے مخطوطہ کا صفحہ۲۲۵دیکھنے کا اتفاق ہوا جس پر مولوی محمد صدیق دیوبندی کے حالات ہیں( متن مطبوعہ ص ۳۴۷)۔مخطوطہ میں مصنف/کاتب نے مولوی صاحب کے۲۱ شاگردو ں کا ذکر جس ترتیب سے کیا ہے( ترتیب کے لیے کاتب نے ہرنام کے ساتھ نمبر لگایا ہے)مرتّب نے اسے پس و پیش کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر مخطوطہ میں آخری نام ’’مولوی محمد رمضان‘‘ ہے لیکن مطبوعہ میں’’ مولوی قاری عبدالمجید‘‘۔ متن کی تدوین میں اس کا خیال بھی رکھا چاہیے تھا۔
  • مصنف نے کہیں کہیں اپنے کتابی مآخذ کا ذکر کیا ہے جیسے تذکر ۂ علماے ہند از مولوی رحمان علی(ص۱۶۵)،عمدۃ الصحائف( ص۳۴۹، ۳۵۴)۔ بہتر ہوتا مرتّب دوسرے باب’’ تعارف مخطوطہ‘‘ میں مصنف کے مآخذ پر الگ سے ایک مضمون باندھتے اور ان کا ایک تقابلی جائزہ لیتے۔
  • lمصنف نے متعدد تراجم میں قطعات تاریخ درج کیے ہیں۔ مرتّب نے ان قطعات میں وارد تاریخ تو ہندسوں میں لکھ دی ہے لیکن قطعے میں موجود مادہ تاریخ کو واضح نہیں کیا۔بہتر ہوتا کہ مادہ تاریخ واو ین میں لایا جاتا یا اس کے نیچے لکیر کھینچ دی جاتی۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ بعض قطعات سیدھے سادے نہیں ہیںبلکہ شاعر نے اس میں تعمیہ و تخرجہ رکھا ہے جس کی تخریج اوروضاحت مرتّب کی طرف سے حاشیے میں ضروری تھی۔پورے تذکرے میں اس کی متعدد مثالیںہیں، میں ص ۳۰۵-۳۰۶ پر مولانا فضل رسول عثمانی بدایونی کی وفات کی تاریخ کے قطعات کی مثال پر اکتفا کروںگاجو اسی نوعیت کے ہیں۔انوار حسین تسلیم سہسوانی کے قطعہ میں جس شعر سے تاریخ برآمد ہوتی ہے وہ اس طرح ہے:

شد جاہ از حقیقت ، ہم حال از طریقت

از فیض شد بلندی ، ہم وصف از کرامت

اس سے تاریخ کیسے نکلے؟مطبوعہ میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا لیکن مخطوطہ میں مصنف /کاتب نے طریقہ بتایا ہے ۔ فارسی میں لفظ ’’شد‘‘ کا مطلب چلے جانا بھی ہے یہاں شاعر نے یہ مراد لیا ہے کہ حقیقت (۶۱۸) کے اعداد سے جاہ(۹)کے اعداد نکل گئے، طریقت (۷۱۹)کے اعداد سے حال(۳۹) کے اعداد نکل گئے تو مجموعہ ۱۲۸۹رہ جاتا ہے یہی تاریخ ہے۔ مصرع ثانی میںبھی اگرچہ طریقہ وہی ہے لیکن یہاں شاعر کو دس عدد کی کمی کا سامنا ہے۔فیض(۸۹۰) سے بلندی (۹۶)اورکرامت(۶۶۱) سے وصف( ۱۷۶) کے اعداد نکالیں توباقی ۱۲۷۹ رہتا ہے،تاہم مخطوطے میں کاتب نے دونوں مصرعوں کے آگے ۱۲۸۹ ہی لکھا ہے۔ محب احمد عبدالرسول بدایونی اور عبدالمقتد ر بدایونی کی کہی ہوئی تاریخیں بھی تعمیہ و تخرجہ کے ساتھ ہیں لیکن تاریخ کی تخریج نہیں ہوئی۔

  • فارسی اشعاراور کہیں کہیں فارسی عبارات کے اقتباسات نقل کرنے میں سہو واقع ہوا ہے۔ اس کی نشان دہی مقالے کے دوسرے حصے میں کی جائے گی۔
  • اتنی بڑی کتاب میں کتابت کی چند غلطیاں باقی رہ جانا ایک طبعی امر ہے۔آج کل کسی بھی کتاب کو اس سے مفر نہیں ہے۔ اس کی نشان دہی بھی مقالے کے دوسرے حصے میں کی جائے گی۔
  • مرتّب نے زیر نظر کتاب کا چھٹا باب ’’وضاحتی اشاریہ‘‘ کے لیے مختص کیا ہے۔ان کا بیان ہے کہ اس میں شخصیات، اماکن اور کتب کا اشاریہ مرتّب ہوا ہے(ص۴۹)۔لیکن اشاریے کے مقام پر انھیں وضاحت کرنا پڑی کہ اسے صرف اشخاص تک محدود رکھا گیا ہے (ص ۸۳۷)۔ ایک ایسا تذکرہ جس میں صاحبانِ تراجم کی متعدد کتب کے اسماء آئے ہوں اور بنیادی طور پر یہ’’ تذکرۃ المصنفین و المصنفات‘‘ ہو، اس میں اسماء کتب کا اشاریہ نہ ہونا ،بہت بڑا نقص ہے۔یہی حال اماکن کا ہے۔ایسے تذکروں کے ساتھ نہ صرف مذکورہ تینوں اشاریوں کا ہونا ضروری تھا بلکہ اس میں مرتّب کی طرف سے مزید متنوع اور جزئی اشاریوں کا اضافہ کرکے کتاب کومزید مفیدبنایا جاسکتا تھا، جیسے تاریخ ولادت یا وفات کے اعتبار سے شخصیات کا اشاریہ ، مکانی نسبتوں کے اعتبار سے شخصیات کا اشاریہ، مسلک و مشرب کے اعتبار سے شخصیات کا اشاریہ،مادہ ہاے تاریخ کا اشاریہ وغیرہ۔ہمیں معلوم ہے کہ برّصغیر کے اکثر ناشر اور اشاعتی ادارے اشاریوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور کتاب کی اشاعت میں اسے ایک اضافی بوجھ تصوّر کیا جاتا ہے ۔ شاید اس معاملے میں ناشرین کو یہی دشواری درپیش ہو۔
  • مرتّب اہلِ زبان ہیں ۔ ان کی زبان پر گرفت کرنا مجھ ’’نااہل زبان‘‘ کو زیب نہیں دیتا،لیکن بعض مقامات پرزبان و بیان کے حشو وزوائد موجود ہیں۔چند مثالیں:۔

٭ ’’ مدوّن و مرتّب نے تدوین متن کے ضمن میں کسی عبارت کا اضافہ کیا ہے وہاں اس بریکٹ [] کے اندرکیاہے۔ یہ بریکٹ اس بات کی علامت ہے کہ متن کے درمیان اضافہ یا تصحیح مدوّن و مرتّب کی جانب سے کی گئی ہے۔‘‘(ص ۴۲) ایک ہی بات دو بار بیان کی گئی ہے۔

٭ ’’ ادب میںسب سے دشوار ترین کام تنقید ہے۔‘‘(ص ۴۵)،جب صفتِ تفضیلی’’ترین ‘‘ موجود ہے تو ’’سب سے‘‘ زائد ہے، یا ’’سب سے دشوار‘‘ مناسب ہوتا۔

٭’’ قلمی مخطوطے حاصل کیے۔‘‘ (ص۴۷ )مخطوطہ کے ساتھ قلمی زائد ہے۔مخطوطہ میں قلمی کا مفہوم پوشیدہ ہے۔یا قلمی نسخے لکھا جاتا ۔

٭مرتّب نے بعض ایسے انگریزی الفاظ استعمال کیے جن کا اردو مترادف نہ صرف موجود ہے بلکہ رائج بھی ہے:۔

جن اہم لائبریریوں کا سفر اور وزٹ کیا(ص۴۷)/ دیکھا یا ملاحظہ

علمی و تحقیقی اسپرٹ/اسی اسپرٹ کے ساتھ ( ص ۵۱)/علمی و تحقیقی جذبے/روح

اس ریسرچ ورک (ص ۵۱مکرر)/اس تحقیقی کام

ان کے تنقیدی ایڈیشنز تیار کیے(ص ۶۷)/تنقیدی اشاعتیں

جن کے ریفرنس کے بغیر(ص ۶۷)/ حوالے

  • مرتّب کے مقدمہ، تعلیقات، کتابیات میںڈاکٹر محمد ایوب قادر ی کا نام متعددحوالوں سے آیا ہے۔بعض جگہ وہ ان کا پورا نام اور بعض جگہ صرف ایوب قادری لکھتے ہیں۔عام بات کرتے یا سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے آدھا نام لینے میں مضائقہ نہیں ہے لیکن فہرست ’’کتابیات‘‘ میں جہاں جہاں صرف ایوب قادری لکھا ہے(بطور مثال ص ۹۳۶، ۹۴۱، ۹۴۳)مرتّب کو پورا نام محمد ایوب قادری لکھنا چاہیے تھا۔ محمد اقبال مجددی کو بھی صرف اقبال مجددی لکھا ہے(ص۶۹۷، ۹۴۲)۔
  • مرتّب نے حواشی و تعلیقات نویسی میں تقریباً تین سو مستند تذکر ے اور معاصر قلمی نسخے دیکھے(ص ۴۷)۔ ہماری راے میں مرتّب نے کئی اہم تذکروں کی طرف رجوع نہیں کیا جو پاکستان میں شائع ہوئے ہیں (ممکن ہے وہ ان کے علم یا دسترس میں نہ ہوں)۔اسی طرح مرتّب نے صرف کتبِ تذکرہ پر انحصار کیا ہے۔حالانکہ ایک ایسا تذکرہ جس میں تسلسل کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو تصانیف کا ذکر ہوا ہے،اس کے حواشی کے لیے فہارس کتب و مخطوطات سے رجوع کرنا ضروری تھا۔ لیکن ہمیں مرتّب کی فہرست ’’کتابیات‘‘(ص ۹۳۱-۹۴۴)میں ایک بھی کتابِ فہرست نظر نہیں آتی۔ہندوستان میں جو فہارس کتب و مخطوطا ت شائع ہو چکی ہیں،ان سے قطع نظر ، پاکستان اور غیر ممالک میں چند مفید کتب حوالہ شائع ہوئی ہیںجن میں برّصغیر کے علما اور مصنفین کی عربی، فارسی، اردو تصانیف کا ذکر ہوا ہے۔ان سے مدد لینا از بس ضروری ہے ۔ ان سے کتب کے مخطوطہ یا مطبوعہ ہونے کی نشان دہی بھی ہو تی ہے ۔ مرتّب کی آگاہی کے لیے ہم چند کتب حوالہ کے اسما ء درج کرتے ہیں:۔

آثار الاولیا،محمد اکرم اکرام، لاہور،۲۰۰۰ء

آثار الشعرا،محمد اکرم اکرام، لاہور، ۲۰۰۸ء

آثار العلما،محمد اکرم اکرام،لاہور،۲۰۱۶ء

برّ صغیر کے امامیہ مصنفین کی مطبوعہ تصانیف و تراجم(اردو کتب )،سید حسین عارف نقوی ، اسلام آباد، ۱۹۹۷ء، ۲ جلد

تذکرہ علما و مشایخ پاکستان و ہند، محمد اقبال مجددی، لاہور،۲۰۱۳ء ۲ جلد

تذکرہ علماے امامیہ پاکستان، سید حسین عارف نقوی، اسلام آباد ، ۱۹۸۴ء

تذکرہ علماے امامیہ، سید حسین عارف نقوی، اسلام آباد، ۱۹۸۲ء

تذکرہ علماے اہلسنت و جماعت (پنجاب)، محمد نذیر رانجھا، لاہور،۲۰۰۹ء، ۲ جلد

ثلاثۂ غسالہ(بنگال میں تصنیف ہونے والی عربی،فارسی، اردو کتب)،حکیم حبیب الرحمان، مرتّبہ عارف نوشاہی، لاہور،۱۹۹۵ء

دانشنامہ زبان و اد ب فارسی در شبہ قارہ،زیر نظر فرہنگستان زبان و ادب فارسی، تہران، ۲۰۰۵-۲۰۱۶ء ،اب تک ۵ جلد

دانشنامۂ ادب فارسی : ادب فارسی در شبہ قارہ، زیر نظر حسن انوشہ ، تہران،۲۰۰۱ء، ۳ جلد

فہرس المخطوطات العربیۃ فی باکستان، احمد خان، ریاض، ۱۹۹۷-۲۰۱۶ء، ۹ جلد

فہرست مشترک نسخہ ہاے خطی فارسی پاکستان، احمد منزوی، اسلام آباد، ۸۳-۱۹۹۷ء،۱۴ جلد

فہرست نسخہ ہاے خطی فارسی پاکستان، عارف نوشاہی، تہران، ۲۰۱۷ء ، ۴جلد

فہرستوارۂ کتاب ہاے فارسی، احمد منزوی، تہران، ۲۰۰۳- ۲۰۱۶ء، ۱۲جلدیں

کتاب شناسی آثار فارسی چاپ شدہ در شبہ قارہ،عارف نوشاہی ، تہران، ۲۰۱۲ء ، ۴جلد

معجم المطبوعات العربیہ فی شبہ القارۃ الہندیۃ الباکستانیۃ منذ دخول المطبعۃ الیھا حتی عام ۱۹۸۰م، احمد خان، ریاض، ۲۰۰۰ء

اب ہم اس تبصراتی مقالے کے دوسرے حصے میں داخل ہوتے ہیں۔یہاں راقم نے صفحہ بہ صفحہ اپنے ملاحظات پیش کیے ہیں۔یاد رہے کہ ان ملاحظات میں بعض باتیں ممکن ہے قارئین کے لیے بہت معمولی ہوں، لیکن مجھے یقین ہے کہ مرتّب کے لیے مفید ہوں گی۔

ص۵۵: ’’ شہر مشہد[عراق ]‘‘۔ کھڑے بریکٹ[] میں اضافہ مرتّب کی طرف سے ہے۔ معروف ترین مقام مشہد،عراق میں نہیں بلکہ خراسان/ایران میں واقع ہے۔

ص ۵۹: ’’ مشہور و منطبع می گرداند۔‘‘ درست: مشہود

ص ۶۰:’’ رخصت دارم۔‘‘ درست: رخصت دادم۔

ص ۶۵: ’’ابتداء صوفیہ اور مشایخ کے تذکرے مرتّب کیے‘‘۔ درست: ابتداء ً ( یعنی تنوین کے ساتھ)۔

ص۶۶: محمد اسلم پسروی۔ درست: پسروری

ص ۶۶: مرتّب نے مجمع النفائس، نتائج الافکار  کو اردو شعرا کے فارسی تذکروں میں شمار کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ بنیادی طور پر یہ فارسی شعرا کے تذکرے ہیں۔اگر ان میں ایسے شعرا کا ذکر ہوگیا ہے جو فارسی کے ساتھ اردو شعر بھی کہتے تھے تووہ الگ بات ہے ۔

ص ۷۴: مرتّب نے دَور اوّل میں فارسی تذکروں میں نثر نگارو ں کو نظر انداز کرنے کا گلہ کیا ہے (ص ۷۴)۔بالعموم یہ بات درست ہے لیکن تیرھویں صدی ہجری میں ہمیں نثر نگاروں کے کم از کم دو مستقل بالذات ہندوستانی تذکرے ملتے ہیں۔ایک صحائف شرائف(عسکری حسینی بلگرامی) اور دوسرا مجمع الافکار(عبرتی عظیم آبادی)۔

ص ۸۷: کرم گستر اخ ما را بنی را۔مصرع سقیم اور مبہم ہے۔

ص ۱۱۱: سال تاریخ فوت۔۔۔؛ مرتّب نے اس مصرع میں نقطے لگائے ہیں ،لیکن نقطے لگانے کی وضاحت نہیں کی۔

ص ۱۵۸: آغا باقر بہائی۔ درست: آغا باقر بہبہانی

ص ۱۶۰: مومن با تولا ہوں۔ تولّا تشدید کے ساتھ ہوتا تو بہتر تھا ۔

ص۱۶۲: بعزم کوچ زد زیں کو چگہ کوس۔ مرتّب نے کوالگ اور چگہ الگ لکھا ہے ۔اسے ملا کر کوچگہ (کوچ/گہ )لکھا جاتا تو بہتر تھا۔

ص۱۸۱سطر۲۰: لفظ تصنیفات کی ت سطر سے الگ ہوگئی ہے۔

ص ۱۸۹: فراغ حولگی۔ درست: فراخ حوصلگی

ص ۱۹۲: فتویٔ جہاد؛بوجۂ کثرت۔ دونوں الفاظ میں ہمزہ کی بجاے کسرہ کا مقام ہے۔(ہمزہ کا یہ غلط استعمال اس کثرت سے اردو تحریروں میں ہو رہا ہے ،لگتا ہے کچھ عرصے بعد اسے ہی درست تسلیم کر لیا جائے گا اور جو گنے چنے لوگ ایسی ترکیبات میں درست طور پر کسرہ کا استعمال کرتے ہیں انھیں غلط ٹھہرایا جائے گا)۔

ص ۱۹۳: پدر دارم ہمیشہ مہرباں بود۔ درست: پدر وارمہمیشہ مہرباں بود

ص۲۰۸: جناب مولوی عبد رب آں/کہ وقت وعظ دل می شد شکارش

دونوں مصرعوں میں سقم ہے۔ شاید اس طرح ہوں:۔

جناب مولوی عبد البر آں/کہ وقت وعظ دل می شد فگارش

ص ۲۲۶: ذرّۂ کی می تواند کرد وصف آفتاب۔ذرّہ کے اوپر ہمزہ لگانا قدیم طریقۂ املا ہے۔ جدید طریقۂ املا کے مطابق اسے ذرّہ ای لکھیں اور پڑھیں گے۔یہی مسائل ص ۳۹۹پر الفاظ پیشۂ، کوچۂ اور ص ۷۶۵ علمیٔ باصفا میں ہیں۔

ص ۲۹۲:بر خ کشید زا  بر عدم نقاب ۔ یہاں ’ابر‘ملا کر اور’ ز ‘کو الگ کرکے لکھا جانا چاہیے تھا۔

ص ۲۹۵: در  ونِ دل۔ درون ملا کر لکھاجانا چاہیے۔

ص ۳۰۴: مسکنش گر دید جنت النعیم۔ گردید ملا کر لکھاجاناچاہیے۔

ص ۳۰۵: بر طرز نو رقم زد تسلیم سال حلت۔ درست: بر طرز نو رقم زد تسلیم سال رحلت

ص ۳۰۶: از سر بر چہار مصرع۔ درست:  از سر ہر چہار مصرع

ص ۳۱۸؛ ۸۸۵: خواجہ عبیداللہ احراری۔ درست:خواجہ عبیدا للہ احرار،خود خواجہ عبیداللہ کا لقب احرار تھا۔ان سے نسبت رکھنے والے احراری کہلاتے ہیں۔

ص ۳۲۶: ترجمہ دراسات البیب۔ درست: ترجمہ دراسات اللبیب

ص: ۳۴۷: بن سید محمد عطا حسین میرٹھی۔ مخطوطہ کے مطابق :بن حکیم سید محمد عطا حسین میرٹھی۔

ص ۳۴۸: فیض جاری و ساری ہے، مخطوطہ کے مطابق: دریاے فیض جاری و ساری ہے۔

ص ۳۴۸: خلف مولوی قمرالدین۔ مخطوطہ کے مطابق: خلف الصدق مولوی قمرالدین۔

ص ۳۴۹: خرقۂ خلافت سلاسل خمسہ کی عطا ہوئی۔ مخطوطہ کے مطابق: خرقۂ خلافت سلاسل خمسہ کی عطا فرمائی۔

ص ۳۴۹: اکتساب الثواب ببیان حکم ابدان۔ مخطوطہ کے مطابق: اکتساب الثواب فی بیان حکم ابدان

ص۳۷۱: آپ کی تصنیفات سے ۔۔۔مظہر السالکین۔درست نام: مظہر السلوکین، یہی نام مخطوطہ کے صفحہ ۲۵۲ اور تذکرہ علماے حال (طبع محمد اقبال مجددی، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۱۴۳)میں درج ہے۔

ص۳۷۱: از دوی بگزشت و گم شد در یکے۔ درست املا اس طرح ہے: از دوی بگذشت و گم شد در یکے۔ دوی کا فصیح املا’’دویی‘‘ ہے اگر چہ ’’ دوی‘‘ بھی لکھا ملتا ہے۔

ص ۳۷۱: زین سبب ہاتف یکے کرد و گفت۔یہ مصرع بھی سقیم ہے۔مخطوطہ کے مطابق یوں درست ہے:

زین سبب ہاتف یکے کم کرد و گفت

ص۳۸۰:عزیز خاطر آشفتہ معالاں۔درست:  عزیز خاطر آشفتہ حالاں

ص ۳۸۰: کمیت خامہ ام زادہ روانی۔ درست: کمیتِ خامہ ام را  دِ ہ روانی

ص ۳۹۴: زدنیا ہر دو چشم خویش نہفت۔ درست: زدنیا ہر دو چشم خویش بنہفت

ص۳۹۶: در شریعت بود ماہ برج ماہ دین۔ مصرع سقیم ہے۔اس طرح درست ہوسکتا ہے:

در شریعت بوہ ماہ برج دین

ص۳۹۶: ناگہان امر نداہی ارجعی۔ درست: ناگہان امر ندای ارجعی

ص۳۹۶: از جماد و عین ششمین/کوئے سو خلد بریں آید نیاز

دونوں مصرعوں میں سقم ہے۔واللہ اعلم پہلا مصرع کیا ہے ،دوسرا مصرع یوں لکھا جانا چاہیے:۔

گو سوے خلد بریں آید نیاز

ص۳۹۹: جُبہ فرسایش بود شاہ و گدا ، شیخ و شباب۔ درست: جُبہ فرسایش بود شاہ و گدا وشیخ و شاب

ص ۳۹۹: کے تو  اند کردن او فیض بصیرت اکتساب۔ درست: تواند ( ملاکر) لکھنا چاہیے۔

ص۴۰۰: توبہا کردم۔ مروّجہ املا ’’توبہ ہا کردم ‘‘ہونا چاہیے۔

ص۴۰۰: زین سخن از پیردانش شور و غوغا شد بلند۔ درست: زین سخن از پیروانش شور و غوغا شد بلند

ص۴۹۶: یہ کتاب ۔۔۔شائع کروایا۔ درست: شائع کروائی۔

ص ۵۴۴: مسکن القوب۔ درست:مسکن القلوب

ص ۵۶۴: سال وصل آنشہ والا تبار۔ درست املا: آن شہ

ص ۶۹۵: قلعہ مہیا سنگھ۔ درست: قلعہ میہاں سنگھ

ص۶۹۷:ڈاکٹر اقبال مجددی۔درست: محمد اقبال مجددی

ص۷۳۶،۷۳۷: بندۂ عشقم وہر دوجہاں آزادم/نیست بر لوح دلم جز الف قامت/چہ کنم حرف دگر یاد ندادم استادم

یہ تینوں مصرعے دو بار سقیم نقل ہوئے ہیں۔ درست قرائت اس طرح ہے:۔

بندۂ عشقم وازہر دوجہاں آزادم

نیست بر لوح دلم جز الف قامت دوست

چہ کنم حرف دگر یاد نداد استادم

ص۹۳۶:مرتّب نے تعلیقات نویسی میں تذکرہ علماے ہند مترجمہ محمد ایوب قادری ، طبع اول ۱۹۶۱ء سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ’ ’’کتابیات‘‘ سے معلوم ہوتا ہے ۔اس تذکرے کی طبع دوم جو ڈاکٹر خضر نوشاہی اورڈاکٹر انصار زاہدخاںکی ترمیم و تصحیح کے بعد کراچی سے ۲۰۰۳ء میں ہوئی ہے۔بہتر ہوتا مرتّب اس کا حوالہ دیتے۔

ص ۹۴۱:فقہاے ہندمحمد اسحاق بھٹی مطبوعہ دہلی ۲۰۱۴ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مرتّب نے جلد کا شمارہ نہیں لکھا۔پاکستان میں اس کتاب کی پہلی پانچ جلدیں فقہاے ہند نام سے اورآخری تین جلدیں فقہاے پاک و ہند نام سے ادارۂ ثقافت اسلامیہ ،لاہور نے شائع کیں۔

ص ۹۴۳:ایشائے غربی۔ درست: ایشیاے غربی

تذکرہ علماے ہندوستان کی اشاعت بہ اہتمام ڈاکٹر خوشتر نورانی ، سال ۲۰۱۸ء کو مدّ نظر رکھتے ہوئی قدما اور مصنف کے تتبع میں، میری درخواست پر برادرم ڈاکٹر خضر نوشاہی صاحب نے چند مادّہ ہاے تاریخ نکالے ہیں،یہ مضمون ان کے اندراج پر ختم کرتا ہوں:۔

۱۔ وفی السماء رزقکم و ما توعدون کتاب نورانی

۲۔ حاضرین بزم کتاب نورانی

۳۔ تذکرہ ٔعلماے قدسیان نورانی

۴۔ تذکرہ ٔپاک سیرت

۵۔ تذکرۂ ارباب یقین نورانی

۶۔ تذکرہ ٔبلند درجات

۷۔ تذکرۂ مردم واقفان معانی

۸۔ تذکرہ ٔمردم گروہ مقبول

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ڈاکٹرعارف نوشاہی

ادارۂ معارف نوشاہیہ، اسلام آباد(پاکستان)۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment