فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 زاویہ

اردوزبان میں جدیدتحقیق کا مرقع

مولانامحمدانواراحمدنظامی

 موجودہ زمانے میں تحقیق و ریسرچ، ایک مشینی عمل سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے نوجوان علما کو جب بھی کوئی علمی ضرورت درپیش ہوتی ہے وہ اسے گوگل کے سرچ انجن پر ڈال دیتے ہیں، پھر جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہی ’’تحقیق‘‘ کہلاتا ہے۔ حالیہ عرصے کے ’’فاضلین‘‘ کا یہی حال ہے ۔ بدنصیبی سے ان کے سامنے کوئی ایسا نمونہ بھی نہیں تھا، جو تحقیق و ریسرچ کے جدید رجحان سے واقف کرواسکے۔

زیر نظر کتاب نے اس کمی کو بہت حد تک دور کر دیا ہے۔ ڈاکٹر خوشتر نورانی بلاشبہ نئی نسل کے علما کے لیے مینارۂ نور ہیں۔ انہوں نے مولانا سید محمد حسین بدایونی (متوفی۱۹۱۸ء ) کی تصنیف  مظہر العلماء فی تراجم العلماء و الکملاء کی تحقیق، تدوین اور تحشیہ کا وقیع کام جدید متنی اصول کی روشنی میں انجام دیا۔

ہند و پاک کے ممتاز محققین نے ان کے اس ریسرچ ورک کی ستائش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کو اردو زبان میں جدید تحقیق کا مرقع قرار دیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر خوشتر نورانی نے اسے ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ برصغیر میں اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ایک ہزار علما، مشائخ اور اہل علم کا۱۲۵؍ برس قدیم تذکرہ ہے۔ ڈاکٹر نورانی نے اس مخطوطے کے متن پر۴۰۰؍سو صفحات کے حواشی اور تعلیقات تحریر کئے ہیں۔ یہ شاہکار تذکرہ۹۴۴؍صفحات پر مشتمل ہے ۔ دہلی یونیورسٹی نے انہیں اس تحقیق پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی ہے ۔ یہ کتاب ہند و پاک سے بیک وقت شائع کی گئی ہے۔ ادارہ فکر اسلامی (دہلی) ہندوستان میں اس کا ناشر ہے ۔

قدیم مخطوطات کی باز یافت ہمارے بزرگوں کا وطیرہ رہا ہے ۔ شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے قیام مدینہ منورہ کے دوران شیخ علی المتقی کی’’ کنز العمال‘‘ کو دریافت کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام فرمایا۔ حضرت مولانا ابو الوفاء الافغانی علیہ الرحمہ نے امام محمد کی کتاب ’’الآثار‘‘ ،’’کتاب الاصل‘‘ اور امام ابو یوسف کی کتاب ’’الآثار‘‘ جیسے نادر و نایاب مخطوطات کو تحقیق کے بعد پہلی مرتبہ شائع کیا۔

جامعہ نظامیہ کے سپوت نامور محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدرآبادی (فرانس) نے’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کی دریافت کی،جسے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا تحقیقی کام قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ عہد میں نوجوان محققین کو یہی رخ اپنانا چاہیے تاکہ علم و فضل کی نئی راہیں وا ہو سکیں ۔ مجھے خوشی ہے کہ مولانا خوشتر نورانی نے یہی کیا ہے ۔ انہیں یہ نسخہ مدرسہ عالیہ قادریہ، بدایوں شریف کے کتب خانہ میں دستیا ب ہوا،جسے انہوں نے دنیا کے سامنے لایا۔

خدا کا شکر ہے کہ عرصہ دراز کے بعد اہل سنت کے ایک فاضل محقق نے اردو زبان میں ایسا عظیم کارنامہ انجام دیا، تاہم ہماری جما عت کے بعض ناعاقبت اندیش اصحاب کے لیےیہ وقیع علمی خدمت بھی ناقابل ہضم ہوگئی۔ چنانچہ ہند و پاک میں اس کتاب سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے کے نامسعود کوشش کی گئی۔ میں خوشتر نورانی صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے پامردی کے ساتھ سازشوں کا مقابلہ کیا اور فنی حقائق کو منوانے میں کامیاب رہے ۔

یا للعجب! آج کل اصول تحقیق سے نابلد افراد محققین پر قدغن لگاتے ہیں اور جو مخطوطہ شناسی کی الف باء سے بھی واقف نہیں، وہ  دھڑلے سے اظہار خیال کرتے ہیں اور انہیں شرم و حیا کی ذراسی توفیق نہیں ہوتی۔

علمی معاملات میں بھی تشدد اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کسی مسئلہ کے دو پہلو نکلتے ہوں تو آپ وہی نظریہ اپنائیں گے جو اُن حضرات کو پسند ہے، ورنہ آپ کی خیر نہیں، وہ آپ پر جو چاہے الزام لگا سکتے ہیں۔ شاید دین و دیانت کا ان کے ہاں یہی مفہوم ہے۔

مظہر العلماء فی تراجم العلماء  والکملاء اپنی نوعیت کی عظیم تصنیف جس میں مصنف نے برصغیر کے ایک ہزار اہل علم کا احاطہ کیا ہے۔ اس میں جنوبی ہند کی نابغۂ روزگار شخصیت شیخ الاسلام، عارف باللہ، امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ تاہم جنوبی ہند میں حیدرآباد، ویلور،ارکاٹ، مدراس وغیرہ کے اُس عہد کے بعض نامی گرامی علما و مشائخ کی شمولیت رہ گئی ہے۔

ڈاکٹر خوشتر نورانی اگلی اشاعت میں مصنف کی فہرست پر اضافہ کر کے کچھ اہم ترین شخصیات کو شامل کرلیں تو یہ کتاب ’نور علی نور‘ ہو جائے گی اور برصغیر کو ایک شامل و کامل اردو تذکرہ ہاتھ آئے گا۔

’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘کو مکتبہ جام نور دہلی (ادارہ فکر اسلامی) ۲۳۲۸۱۴۱۸۔۰۱۱ (یا) ۲۳۲۷۱۴۱۸سے گیارہ سو روپئے قیمت ادا کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کار(ڈاکٹرخوشترنورانی) سے اس ای میل پر رابطہ  کیاجاسکتا ہے۔

K_noorani@yahoo.com

زیرنظرتبصرہ جنوبی ہندکے کثیرالاشاعت روزنامہ’’اعتماد‘‘حیدرآباد(دکن)میں ۲۲؍فروری ۲۰۱۹ء کو شائع ہوا(ادارہ)۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

مولانامحمدانواراحمدنظامی

مضمون نگارجامعہ نظامیہ حیدرآباد(دکن)میں نائب شیخ التفسیر ہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment