فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 اظہارخیالات

اظہارخیالات

نصف صدی کے بعدایسا ہمہ جہت اورکثیرالاستفادہ تذکرہ سامنے آیاہے

پروفیسرڈاکٹرمحمدطاہرالقادری

سربراہ :تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل،لاہور( پاکستان)

کچھ عرصے قبل ڈاکٹرخوشترنورانی صاحب کی نہایت تحقیقی کتاب ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان ‘‘ موصول ہوئی۔میں نے مختلف مقامات سے اس کا مطالعہ کیا،جس سے بے حدعلمی و روحانی مسرت ہوئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ’’تذکرۂ علمائے ہند‘‘مرتبہ پروفیسرمحمدایوب قادری مرحوم کے نصف صدی کے بعدعلمی دنیا میں اٹھارویں اورانیس ویں صدی کے علمائے برصغیرکا ایک ایساہمہ جہت،عمومی اور کثیرالا ستفادہ تذکرہ سامنے آیا ہے،جسے تحقیق وتدوین کا نمونہ کہا جاسکتاہے۔ اس تحقیقی پروجیکٹ پر دہلی یونیورسٹی نے نورانی صاحب کو۲۰۱۷ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی،جس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ڈاکٹرنورانی کا تعلق ہند کے ایک باوقارعلمی و روحانی گھرانے سے ہے،یہ نسبت اپنی جگہ،مگروہ اپنے علمی و تحقیقی کاموں کی وجہ سے پاک و ہند میں خوداپنی شناخت رکھتے ہیں۔’’تذکرۂ علمائے ہندوستان ‘‘ان کے تحقیقی کاموں کا عروج ہے،مجھے یقین ہے کہ ۱۲۵؍برس قدیم یہ نادرمخطوطہ اہل علم و تحقیق کی توجہ کا مرکز بنے گا اورتذکروں کی دنیا میں مستند حوالہ قرار پائے گا۔

اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تذکرہ کسی مسلکی ،مذہبی،ادبی،علمی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہوکرلکھاگیاہے۔ہر فن کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں،فن تاریخ و تراجم کا تقاضہ ہے کہ جذبات سے پرے ہوکراپنے عہدکے شخضی ،دینی،معاشرتی اورعلمی حقائق کو بیان کیا جائے، چنانچہ دنیا میں جتنے بھی عربی،فارسی اوردیگرزبانوں کے اہم تذکرے لکھے گئے،وہ اسی نہج پرلکھے گئے اور اسی خصوصیت کی بنیادپروہ علمی دنیا کے لیے حوالہ بن گئے۔ یہ تاریخ و تراجم کی کتابیں ہی ہیں جن کے ذریعے ہمیں مختلف عہد کی شخصیات ،ان کے کام،تحریکیں،جماعتیں اور ان کے عقائد و نظریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔اگرجذبات سے مغلوب ہوکر اپنی پسند و ناپسند اور مخصوص نظریات کی بنیاد پر تاریخ و تراجم کی کتابیں لکھی جاتیں توصدیوں کے مذہبی،مسلکی،علمی اور معاشرتی حقائق پر تعصب کا دبیز پردہ پڑا ہوتااورپھر حق و باطل کے درمیان ہم کبھی بھی خط فاصل نہیں کھینچ پاتے ۔ ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان ‘‘بھی اٹھارویں اورانیس ویں صدی کے ایسے تقریباً ایک ہزار مشاہیرعلما کاعمومی تذکرہ ہے جو داعیان اسلام تھے،جس کے ذریعے اُس عہد کا  مذہبی،مسلکی اورعلمی منظرنامہ واضح ہوجاتاہے۔اِس تذکرے کی یہی فنی خوبی اِس کو جہان علم میں اعتبار و استنادبخشے گی۔اس کی معیاری تدوین،مثالی تحقیق،عمدہ ترتیب،گراں قدرحواشی اور اشاریہ سازی اس پر مستزاد۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ کریم اپنے حبیب مکرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے توسل سےڈاکٹرخوشترنورانی کے اس علمی کام کو قبول فرمائے اوران کے علم و عمل میں مزید اضافہ فرمائے،آمین۔

بہت عرصے کے بعد اس زمرے میں ایک معیاری تحقیقی کتاب مطالعے میں آئی ہے

پروفیسرمعین الدین عقیل

سابق صدرشعبۂ اردو،کراچی یونیورسٹی،کراچی(پاکستان)۔

جناب خوشتر نورانی صاحب۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم

آج کچھ دیر پہلے عزیزی صبیح رحمانی صاحب نے آپ کی تازہ کاوش’’ تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ سے نوازا، جی خوش ہوا۔ آپ نے بے حد جستجو و عرق ریزی سے نہ صرف عمدہ متن تیار کیا بل کہ نہایت ضروری و مفید اور حد درجہ معلوماتی تعلیقات و حواشی کا اضافہ کرکے اس تصنیف کی اہمیت بڑھادی۔ بہت عرصے کے بعد اس زمرے میں ایک معیاری تحقیقی کتاب مطالعے میں آئی ہے،بے حد خوشی ہے۔ اس عمدہ و معیاری کام پر تہ دل سے مبارکباد قبول کیجیے۔

کچھ برسوں میں کراچی سے چند ایسی کتابیں بطرز تذکرہ چھپی ہیں جن میں مختلف شہروں کے رجال کا ذکر شامل ہے۔ کاش وہ بھی آپ کی رسائی میں ہوتیں۔ خود میں نے ایک ’’تذکرہ علمائے سیتا پور‘‘ مصنفہ الیاس سیتا پوری ترتیب دیاہے، جو غیرمرتب و غیر مطبوعہ تھا۔ اس میں اوائل بیسویں صدی تک کے علما شامل ہیں۔ آپ امریکا میں ہیں، جہاں علمی ذخائر کی کمی نہیں۔ پرنسٹن اور ہارو رڈ یونیورسٹیوں کے علاوہ نیویارک پبلک لائبریری بھی ہمارے مطلب کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ Asia and Oceana کے عنوان سے ایک ضخیم کیٹیلاگ سے بھی امریکا میں موجود کچھ منتشر ذخائر اور ہمارے لیے مفید مطلب مواد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یقیناً مزید علمی منصوبے آپ کے پیش نظر ہوں گے، ہمیں انتظار رہے گا۔

معیاری تدوین کا یہ گذشتہ نصف صدی میں واحد نمونہ ہے

ڈاکٹرعارف نوشاہی

ادارۂ معارف نوشاہیہ، ماڈل ٹاؤن، اسلام آباد( پاکستان)

مکرمی ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب۔۔۔۔السلام علیکم

آپ کی تحقیقی کاوش تذکرۂ علماے ہندوستان دیکھ کر آپ سے براہ راست رابطے کی خواہش اور کوشش تھی، الحمد للہ آج آپ نے خود ہی پہل کی اور کرم فرمائی کی اور اتنی دور سے فون کیا۔امید ہے آپ سے آئندہ بھی رابطہ رہے گا اور استفادے کا موقع نکلتا رہے گا۔

بہت عرصے بعد برّصغیر پاک و ہند میں رجال سے متعلق کسی قدیم متن پر اس نہج سے کام ہوا ہے جیسے آپ نے کیا ہے۔ جب ہمارے ہاں مرحوم محمد ایوب قادری نے مولوی رحمان علی کا ’’تذکرہ علماے ہند‘‘ترجمہ و تعلیق کے بعد شائع کیا (کراچی ، ۱۹۶۱ء)تو میری عمر ۶ برس تھی۔ میں نے اپنی نوجوانی اور طالب علمی کے زمانے میں یہ ترجمہ دیکھا تھا اور ہمیشہ اسے ایک نمونہ قرار دیا کہ اگر کوئی تذکرہ مرتب و مدون کرے تو اس طرح کرے۔ اب ۲۰۱۸ ءآتے آتے میری عمر ۶۳ سال ہوگئی ہے۔ ۱۹۶۱ ء اور۲۰۱۸ء کے درمیانی ۵۷ سالوں میں اگرچہ علما کے کئی تذکرے چھپے اور مرتب ہوئے ، لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ جیسا کام آپ نے انجام دیا ہے میں نے دیکھا ہو۔اس پر ایزاد کتاب کا طباعتی معیار اور صوری حُسن۔ اس کی بھی داد دینا چاہیے ۔ہمارے ہاں اب یہ ایک عمومی تاثر بن چکا ہے کہ خانقاہوں اور مدرسوں کا پس منظر رکھنے والےحضرات ( دوسرے لفظوں میں پیران عظام یا مولویان کرام)ٹھوس علمی کام نہیں کرسکتے۔آپ نے اس تاثر کو نہ صرف زائل کیا ہے بلکہ ضمنی طور پر ایک اور تاثر کی بھی نفی کی ہے، جو ہندوستان میں ادبیات اور علوم انسانی کے موضوعات پر ’’ بانٹی‘‘جانے والی پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے بارے میں قائم ہے۔جامعاتی سطح پر بھی آپ کا یہ ایک آبرومندا نہ کام ہے۔میں اس پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

میرا ارادہ آپ کے مرتّبہ اس تذکرے پر ایک تبصراتی مقالہ لکھ کر ’’معارف‘‘ ،اعظم گڑھ میں چھپوانے کا بھی ہے(۱)۔ان شاء اللہ جوں ہی یہ ارادہ  عملی صورت اختیار کرے گا آپ کو نہ صرف مطلع کروں گا بلکہ اس مقالے کی ایک نقل آپ کی خدمت میں بھی روانہ کروں گا۔

)۱-(نوٹ: یہ مقالہ’’معارف‘‘اعظم گڑھ کے شمارہ فروری ۲۰۱۹ء میں شائع ہوگیاہے،کالم ’’دیوان عام‘‘میں ملاحظہ کریں(ادارہ)۔

آپ کاکام بلاشبہ قابل قدر و ستائش ہے

پروفیسر محمد اسحاق

پروفیسر و صدر: شعبہ اسلامک اسٹڈیز

اعزازی ڈائریکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

محترمی ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب —-السلام علیکم و رحمۃ الله

امید کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔آپ کی ارسا ل کردہ کتاب’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ ملی ۔ اس کے لیے میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں ۔ مولانا سید محمد حسین بدایونی کی تصنیف ’’مظہرالعلماء فی تراجم العلماء والکملاء‘‘ کی تحقیق، تدو ین اور تحشیہ کا کام آپ نے جس خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے، وہ بلاشبہ قابل قدر و ستائش ہے ۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے بر صغیر کےعلما و مشائخ پر مشتمل یہ تذکرہ مصنف اور محقق دونوں کی علم و دانش سے گہری دلچسپی اور وابستگی کی واضح شہادت ہے ۔اس کتاب کی ایڈیٹنگ میں فاضل محقق نے اصول تحقیق و تدوین متن کی تمام لازمی شرائط ممکن حد تک پوری کی ہیں ،اس کے لیے وہ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ساتھ ہی جن اہم اساتذۂ فن نے ان کے علمی کام میں ان کا تعاون کیا ،بالخصوص خانقاہ قادریہ بدایوں کے ارباب حل وعقد اور ان کے سپروائزر ڈاکٹر محمد کاظم بھی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

ہندوستان کے علما کے تذکروں میں ایک وقیع اضافہ ہوا ہے

مولانانورالحسن راشدکاندھلوی

مفتی الہی بخش اکیڈمی،کاندھلہ،ضلع مظفرنگر(انڈیا)۔

مکرم محترم جناب ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب۔۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

پرسوں رجسٹرڈ پیکٹ سے آں مکرم کا مرسلہ،گراں بہا،قیمتی اورلائق استفادہ علمی تحفہ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘موصول ہوکرموجب صد امتنان و تشکر ہوا،بہت بہت شکریہ،جزاک اللہ۔میں نے اس کے بارے میں کئی مرتبہ سنا تھا،آں مکرم نے اس سے نوازا،بے حدخوشی ہوئی۔یہ بڑا قابل قدر،کثیرالاستفادہ اورصدابہارتحفہ ہے،اس کے ذریعے سے ہندوستان کے علما کے تذکروں میں ایک وقیع اضافہ ہوا ہے اورامیدہے کہ یہ اس موضوع کے علمی مراجع میں ہمیشہ شامل رہے گااور ا س سےہمیشہ فائدہ اٹھایاجائے گا۔

لیکن یہ بات محسوس ہوئی کہ سنین ولادت و وفات میںہجری سنین اورتاریخوں کا اہتمام نہیں ہے،حالاں کہ علمائے اسلام کے تذکروں اور احوال و سوانح میں یہی اصل ہےاور اسی پراعتماد ہونا چاہیے۔یہ کمی بہت زیادہ محسوس ہوئی،عیسوی سنین ضمنی طورپردرج ہوں،ہجری اسلامی تاریخوں  خصوصاً علمائے کرام کے تذکرے میںبہرحال ترجیح اوراولیت دینی چاہیے،یہ اسلامی ،علمی روایت نہیں،بنیادی طورپریہی صحیح بھی ہوتے ہیں۔

میں نے اس قیمتی کتاب کے دوسوسے زائد صفحات بالاستیعاب پڑھ لیے ہیںاورخاصے حصے پرایک نظرڈال لی ہے۔بعض موضوعات پر اختلاف رائے کے حق کے ساتھ ،موقع ہوا تو میں ان شاء اللہ اس پر تفصیل سے لکھوں گا۔اس کے لیے بھی ممنون ہوں کہ آں مکرم نے میری بعض تالیفات کو بھی پیش نظررکھااوران کا حوالہ دے کرعزت افزائی کی۔بہت بہت شکریہ۔امیدہے مزاج بخیرہوگا۔

اس کام کو دیکھ کر ڈاکٹرایوب قادری ،افسر صدیقی امروھوی اورمشفق خواجہ جیسے محققین کی یادتازہ ہوگئی

سیدصبیح الدین صبیح رحمانی

مدیر:مجلہ’’نعت رنگ‘‘کراچی(پاکستان)۔

نعت پر بعض تحقیقی ضرورتوں کے تحت تذکروں کو دیکھنے کی اکثر ضرورت پڑھ جاتی ہے سو ایک عام قاری کی طرح میں بھی توجہ اور دلچسپی سے تذکروں کا مطالعہ کرتا رھا ہوں ۔مگر آج ‘‘تذکرہ علمائے ہندوستان ’’دیکھ کر مجھے بے حد مسرت ہوئی ۔مولانا سید محمد حسین بدایونی کا یہ تذکرہ ایک قلمی مخطوطہ تھا، جو خانقاہ قادریہ بدایوں کے کتب خانے میں ایک صدی سے محفوظ تھا ،میرے فاضل دوست ڈاکٹر خوشتر نورانی نے اس مخطوطے کو جدید اصول تحقیق وتدوین کے مطابق اس کمال کے ساتھ مرتب کردیاہے کہ اس میں مخطوطۂ متن کے برابر ہی تعلیقات کا اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ بالکل درست ہے کہ یہ اردو کا پہلا باضابطہ،تفصیلی،عمومی،غیرمطبوعہ تذکرہ ہے،جوپہلی بار متنی اصول پر مدون ہوکر سا منے آیا ہے۔اپنی ضخامت ،استناداورتدوین کی وجہ سے یہ اپنے معاصر تمام اردو تذکروں میں ممتازوفائق ہے۔ڈاکٹرنورانی کے اس کام کو دیکھ کر ڈاکٹرایوب قادری ،افسر صدیقی امروھوی اورمشفق خواجہ جیسے محققین کی یادتازہ ہوگئی۔جس محنت،لگن،شعوراورتحقیق کے ساتھ اس کام کو ڈاکٹرنورانی نے انجام دیا ہے دورحاضرمیں اس کی مثال عنقاہے۔ میں نورانی صاحب کو ان کی دیگر علمی و تحقیقی کتب کے ساتھ اس اہم اور نادر و نایاب کتاب کی تدوین و اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

تاریخ وسوانح سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے ایک ناگزیر ماخذ ہے

مولانامحمدعمارخان ناصر

ڈپٹی ڈائرکٹر:الشریعہ اکادمی،گوجرانوالہ(پاکستان)۔

ڈاکٹر خوشتر نورانی، انڈیا کے معروف مورخ اور محقق ہیں جو آج کل فلوریڈا، امریکا میں مقیم ہیں۔ کچھ سال پہلے سید احمد شہید پر ان کی کتاب علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔ اب ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’تذکرہ علمائے ہندوستان’’ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جو دراصل مولانا سید محمد حسین بدایونی (وفات ۱۹۱۸) کی تصنیف ’’مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاء’’ کی تحقیق وتدوین پر مبنی ہے۔ یہ تصنیف اس سے پہلے مخطوطہ تھی، فاضل محقق نے اس کی تحقیق وتدوین کے ساتھ ساتھ کم وبیش اتنے ہی حجم کی تعلیقات کتاب کے آخر میں شامل کی ہیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان کے طول وعرض میں دینی وعلمی شہرت رکھنے والے ایک ہزار کے قریب اہل علم کا یہ تذکرہ، جو ساڑھے نو سو صفحات پر مشتمل ہے، تاریخ وسوانح سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے ایک ناگزیر ماخذ ہے۔(فیس بک پوسٹ)۔

مولانا خوشتر نورانی صاحب کی تحقیق وتدوین سے شائع ہونے والی کتاب ’’تذکرہ علمائے ہندوستان’’ کا ذکر ایک پوسٹ میں کیا تھا جو پاکستان میں بھی چھپی ہے۔ اس پر ہمارے ہاں کے بعض بیمار ذہن رکھنے والے مذہبی عناصر نے یہ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ احمدیوں کے حوالے سے ان حضرات کی نفسیاتی کیفیت اس طرح کی ہو چکی ہے کہ اس کے بیان کے لیے علم نفسیات کی اصطلاحات بھی ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ ان احمقوں کو بالکل معلوم نہیں کہ تاریخ وتذکرہ کی کتابیں مرتب کرنے کا اصول کیا ہوتا ہے اور یہ کہ اس میں شخصیات کے انتخاب کا معیار مذہب وعقیدہ نہیں، بلکہ کسی خاص دور میں تاریخی شہرت ہوتی ہے۔ کتاب کا عنوان ’’علمائے ہندوستان’’ عمومی نوعیت کا ہے اور اس میں اس طرح کی بعض شخصیات کا ذکر ضمنا ہوتا ہے، نہ کہ انھیں مستند علماء کی صف میں شمار کرنے یا ان کے مذہبی عقائد کی تائید کے لیے۔

مثلا مولانا ابو الحسن علی ندوی کے والد علامہ عبد الحی الحسنی نے’’ نزھۃ الخواطر‘‘ کے نام سے برصغیر کے علما کا ایک مبسوط اور مستند تذکرہ مرتب کیا ہے، جسے تمام دینی وعلمی حلقوں میں ایک بنیادی مصدر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مولانا علی میاں کے مقدمے کے ساتھ شائع ہواہے۔ اس میں بھی چودھویں صدی ہجری کے مشاہیر کے تذکرے میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے دست راست حکیم نور الدین بھیروی کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس پر اپنی تعلیق میں اس کا جواز بتایا ہے کہ عالم عرب کے لوگ بھی اس تحریک سے متعلق صحیح معلومات سے واقف ہو سکیں۔ ان احمقوں کو چاہیے کہ ُاس کتاب پر بھی پابندی کا مطالبہ کریں اور اپنی حماقت کا مزید ثبوت فراہم کریں۔(فیس بک کی دوسری پوسٹ)۔

محققـ ومحشی نے فی زمانہ ذہبی، زرکلی ،اورالعراقی کی یاد تازہ کردی ہے

مفتی محمد ہاشم

ڈائر کٹر: دی اسلامک ریسرچ سینٹر ، کراچی(حال مقیم: بغداد شریف ،عراق)۔

محترم ڈاکٹر خوشتر نورانی زید مجدہ  ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعدسلام عرض یہ ہے کہ جناب مقصود احمد ’’دارالنعمان پبلی شرز،لاہور‘‘کی جانب سے بطور ہدیہ تحقیقی کتاب بنام ــ’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘  موصول ہوئی،جو کہ دراصل مولانا سیدمحمد حسین بدایونی نقش بندی (متوفی :۱۹۱۸ء)علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف ہے ،جو اب تک بصورتِ مخطوطہ موجود تھی ، آپ نے اس مخطوطہ پر بین الاقوامی قوانین ِتحقیق برائے پی ایچ ڈی کو مدنظر رکھ کر ایک عمدہ واعلیٰ تحقیقی مقالہ دنیائے تحقیق کو پیش کیا ،جو اپنی مثال آپ ہے ۔عاجز نے جب اس کا چیدہ چیدہ مقامات سے مطالعہ کیا تو اس تحقیقی مقالہ کو قارئین وطلبۂ تحقیق کے لیے ایک مشعل راہ کی عملی و مجسم صورت میں پایا ہے ،کیونکہ ہمارے معاشرے میں زبانی جمع وخرچ پر زیادہ قیل وقال ہوتاہے نہ کہ عملی صورت میں کچھ کیاجائے۔یقینا آپ نے عملی کارنامہ انجام دیاہے اس لیے دادِ تحقیق آپ کا حق ہے اور تنقید برائے تنقید بھی اس کارنامہ تحقیق کا ایک معاشرتی انجام ہے ۔جیساکہ عربی کہاوت ہے:۔

من صنف فقد استھدف یا  من الف کتاباطعن۔ یعنی جوکتاب تصنیف کرتاہے وہ لعن طعن کا شکار ہوتاہے۔

عاجز سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کی علامت ہے کہ ہم اہل تحقیق کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں (جیسا کہ پاک وہند میں کتاب ہذا کے خلاف بھر پور منظم طریقے کے ساتھ منفی پروپیگنڈاکیاگیا) جو ہمارے معاشرے کے منفی رویے کی ایک بدنما شکل ہے۔

جہاں تک بات مسئلہ ختم نبوت جیسے حساس مسئلے کو اس میں منفی انداز میں استعمال کیاجارہاہے،یہ سراسر غلط ہے، کیونکہ مصنف ومحقق نے جابجا حاشیہ میں مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت فرمادی ہے۔یہ ہمارے لیے من جملہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک اعتقادی مسئلہ ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر کو کافر جانتے ہیں۔بفضلہ تعالیٰ! آپ کی جانب سے جواس طرح کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ،وہ بھی آپ نے ایک عمدہ مثال قائم فرمائی جو کہ ہمارے اسلاف کا طریقہ کارہے ۔ جس سے خود ساختہ اسلامی ٹھیکیدار وں کی پول کھل جاتی ہے۔یہی وہ عناصر ہیں جو ہمارے معاشرے میں اسلام کے نام پر مذہبی جنونیت، عصبیت،لسانیت، سفاہت وجہالت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں، جس کے سبب معاشرے میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے حکومت وقت کو چاہیے کہ اس طرح کی مذہبی انتہا پسندی کو کنٹرول کرے کیونکہ یہ ہر معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔

یہ امر بھی قابل تحسین ہے کہ ادارہ ’’دارالنعمان پبلی شرز‘‘کی جانب سے اب تک مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزائیت ،قادیانیت کی تردید میں تین اہم کتب ’’ قادیانت ،ایک تنقیدی مطالعہ‘‘۔ ’’ختم نبوت اور نوائے وقت ‘‘۔ ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء‘‘ شائع ہوچکی ہیں ۔ہم امید رکھتے ہیں کہ ادارہ ہذا اسی طرح قوم وملت کے اعتقادی و نظریاتی مسائل میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔آخر میں اُن علم دوست احباب سے عرض ہے کہ ہم اکثر گلہ کرتے ہیں کہ اب سلف وصالحین اور متقدمین کی طرز پر تحقیقی وفکر ی کوئی کام نہیں ہورہا ہے، ان سے عرض ہے کہ کتاب ہذا کے مصنف ومحققـ اور محشی نے فی زمانہ ذہبی، زرکلی ،العراقی کی یاد کو تازہ کردیا ہے۔ اس لیے اس کو افادہ عامہ کے تحت جتنا ہوسکے، اپنے اپنے حلقہ میں عام کریں۔

تحقیق،تدوین اور تحشیہ کا نہایت عمدہ اور اہم کارنامہ

شیخ مولاناشاہ محمدآیت اللہ قادری

زیب سجادہ:خانقاہ مجیبیہ،پھلواری شریف،پٹنہ،بہار

مکرمی جناب مولاناخوشترنورانی صاحب زاداللہ لطفہ۔۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مکتبہ جام نوردہلی کی جانب سے مولاناسیدمحمدحسین بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف لطیف’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘بذریعہ ڈاک موصول ہوئی،یہ کتاب صوری و معنوی خوبیوں سے مزین ،ضخیم اوردیدہ زیب دستاویز کی شکل میں آپ کی مستحسن کاوش سے منصہ شہود پر آئی ہے،آپ انتہائی شکریےاور مبارک بادکے مستحق ہیں،میں اس علمی تحفۂ مبارکہ پر سراپا سپاس ہوں،امید کہ اللہ کی رحمت اور مددآپ کی شامل حال رہے گی اور آپ کا علمی و تحقیقی ذوق پروان چڑھتا رہے گا،اللھم زدفزد۔مطالعہ تو اہل علم و فضل کا خاصہ ہے،ناچیز ان شاء اللہ بالاستیعاب استفادہ کی کوشش کرے گا۔ ابھی جابہ جا چندنورپارے مشاہدے میں آئے ہیں،الحمدللہ تحقیق،تدوین اور تحشیہ کا نہایت عمدہ اور اہم کارنامہ آپ کے ہاتھوں انجام پایا ہے۔اللہ تعالیٰ شرف قبولیت عطاکرے،مزید زورقلم موہبت فرمائے،آمین۔

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ایڈمن

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment