فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 تذکار

تذکرۂ علمائے ہندوستان:ایک دائرۃ المعارف

ڈاکٹروارث مظہری

اردو میں تذکرہ نگاری کی روایت پختہ نہیں ہے۔ہوبھی نہیں سکتی، کیوںکہ دوسری مشرقی زبانوں ، جن میں عربی اور فارسی زبانیں سرفہر ست ہیں،قدیم زبانیں ہیں۔ ان کا ادبی سرمایہ زیادہ وسیع اورمتمول ہے۔ خاص طور پر عربی میں طبقات وتراجم کے عنوان سے جو کتابیں لکھی گئیں ، ان کے تحت تمام میادین علم وادب سے تعلق رکھنے والے اہم علما وافاضل روزگار کا تذکرہ تاریخ کے صفحات پرثبت ہوگیا۔مختلف ادوار تاریخ میں علم وادب کی رفتار اور عروج وزوال کے مشاہدے کے لیے یہ کتابیں آئینہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اردو میں اس کی مثالیں معدودے چند ہیں۔

اس لحاظ سے زیر نظر کتاب’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔یہ تذکرہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مشاہیر علما وادبا کے تذکروں پر مشتمل ہے۔اس میں تقریباً ایک ہزار شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔جن کا ذکر آٹھ سوسے زیادہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ کتاب پر تمام پہلوؤں سے گفتگو کا یہ موقع نہیں کہ اس کے لیے تفصیلی مقالے کی ضرورت ہے۔اس کے دو خاص اور قابل ذکر پہلووں کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہوگا۔

اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی نظر ی وفکری اور مسلکی انتساب کو راہ نہیں دی گئی ہے اور ہر حلقے کی نمائندہ شخصیات اور ان کی علمی کاوشوں اور کمالات کا بغیر کسی ذہنی تحفظ کے تعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔دوسری اہم خصوصیت اس کی جامعیت اور اس کا جچا تلا انداز ہے۔کہیں چند سطروں اور کہیں چند پیراگرافوں میں متعلقہ شخصیت کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے۔اور اس کی خدمات کے اہم پہلو نمایاں ہوجاتے ہیں۔کتاب کی ایک خوبی اور وصف یہ ہے کہ اس میںبہت سی ایسی معلومات بھی مل جاتی ہیں جودوسری کتابوں میں نہیں ملتیں۔ اس لحاظ سے بھی یہ کتاب تحقیق کارو ں کے لیے خصوصی اہمیت حامل ہے۔ مثال کے طور پر مصنف نے سرسید احمد خاں کے باب میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے آخری ایام حیات میں اپنے ان نظریات سے رجوع کرلیاتھا جو راسخ العقیدگی پر مبنی اسلامی فکری روایت کے خلاف تھے۔( ص،۹۵) اس سے مصنف کی معتدل اور شمولیت پسندانہ فکر پرروشنی پڑتی ہے۔ اپنے عہد کی سرگرمیوں اور ان کے نمائندگان کے حوالے سے یہ کتاب ایک مستند مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

کتاب کے محقق،مدون اورتحشیہ نگار ڈاکٹرخوشتر نورانی نے اس دفینۂ علمی کوجس جانکاہی اور محنت سے منظر عام پرلانے کی کوشش کی اس کی مثالیں فی زمانہ کم ہوتی جارہی ہیں۔محقق نے متنی اور تدوینی اصولوں کو بروئے کار لا کر کتاب کو مرتب کیا ہے۔کتاب کا نصف حصہ محقق کے حواشی وتعلیقات اور مقدمے پر مشتمل ہے۔ جس کے تحت انہوںنے اپنی محققانہ دیدہ وری سے کتاب کوگوناگوں افادیت کا حامل بنا دیا ہے۔ ایک ضخیم کتاب کو جدید اصول تحقیق وتدوین پرمرتب کرپانا ، صرف انہی لوگوں کا کام ہے جو حوصلہ مند طبیعت کے ساتھ اس کا م کی اہمیت ونزاکت کا گہرائی کے ساتھ شعور رکھتے ہیں۔ ڈاکٹرخوشتر نورانی کی سابقہ تحریریں جن کی نگاہوںسے گزری ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ موصوف اس دشت کی سیاحی کا خصوصی ذوق اور تجربہ رکھتے ہیںاور انہوں نے اسی کے لیے اپنے قلم کو وقف کررکھا ہے۔ امیدہے کہ اس کتاب کو، جو اس موضوع پر دائرۃ المعارف کی خصوصیت اپنے اندر رکھتی ہے، علم وتحقیق کے حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوگی۔ ہمیںمحقق موصوف کا ممنون ہونا چاہیے کہ انہوں نے صلہ وستائش کی پروا کیے بغیر علمی دنیا کو ایک گراں مایہ علمی تحفے سے نوازا ۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ڈاکٹروارث مظہری

مضمون نگارشعبہ علوم اسلامیہ ،جامعہ ہمدرد نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment