فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 پس منظروپیش منظر

تذکرۂ علمائے ہندوستان:چندمعروضات

ڈاکٹرخوشترنورانی

یہ کتاب ہے کیا؟

یہ دراصل برصغیرمیں اٹھارویں اورانیس ویں صدی کے اُن ایک ہزارمشاہیرعلما ،مشائخ،ادبا اور اہل علم وقلم کا ۱۲۵؍برس قدیم اور مستند قلمی تذکرہ ہے،جو ’’مدعیا ن کلمۂ اسلام ‘‘ہیں۔اس کتاب کا تاریخی نام ’’مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاء‘‘ہے،جس کا ذکر متعدد نامور جدیدوقدیم محققین نے کیاہے۔اس کے مصنف مولانا سید محمد حسین بدایو نی (ف:۱۹۱۸ء)اپنے عہد کے قابل قدرعالم،تاریخ گو، صاحب تصانیف کثیرہ اورنسباً حسنی و حسینی سید تھے۔ آپ سلسلۂ نقش بندیہ میں بیعت و ارادت رکھتے تھے اور اجازت حدیث مولاناقاضی علی احمد بدایونی (ف:۱۹۱۱ء)سے حاصل تھی۔یہ سلسلۂ اسانید ایک واسطے سے خاتم الاکا بر مولاناسیدشاہ آل رسول مارہروی (ف:۱۸۷۹ء)سے ہوتے ہوئے مسندالہندشاہ ولی اللہ محدث دہلوی (ف:۱۷۶۲ء) تک پہنچتا ہے۔

۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء کے اس مستندمخطوطے کو راقم نے خانقاہ عالیہ قادریہ ،بدایوں (انڈیا)کی دوسوسالہ قدیم لائبریری سے حاصل کیااور جدید متنی اصول پر مدون کیااور اس کے متن پر ۴۰۰؍سوسے زائد صفحا ت پر حواشی و تعلیقات تحریرکیا ۔اس طرح یہ اردو کا پہلا باضابطہ ، عمومی ، غیر مطبوعہ تذکرہ ہے،جومتنی اور تدوینی اصول پر مدون ہوکرتقریباًایک ہزارصفحات میںہندوپاک دونوں جگہوں سے شائع ہوا ۔چارسال کے اس تحقیقی پروجیکٹ پر۲۰۱۷ءمیں شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی نے راقم کو ڈاکٹر یٹ کی ڈگری تفویض کی،فالحمدللہ علی ذالک۔

پروپیگنڈہ اور اعتراضات:

’’دارالنعمان پبلی شرز‘‘ لاہورنے آج سے دویا ڈھائی سال قبل جب اپنے احباب کے ذریعے’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘کی اشاعت کا اعلان کیا تو پاکستان کے ہمارے چندایک نامعلوم کرم فرماؤں نے (جنھیں ہم سے خصوصی لگاؤ ہے)،کتاب کے مندرجات اور مشمولات دیکھے بغیرہی پبلی شر پر دباؤ بناناشروع کردیاکہ وہ اس کو ہرگز نہ شائع کریں۔تاہم جب شایان شان طریقے سے کتاب چھپ کر منظرعام پر آئی اورنامور اہل علم و تحقیق و ماہرین فن اس کی بے پناہ پذیرائی کرتے ہوئے اس تذکرے کوناگزیرماخذ، اپنی نوعیت کی منفردتحقیق اورانتہائی اہم کام قراردینے لگے تو ہمارے انہی کرم فرماؤں نے باقا عدہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس کتاب کے خلاف مہم چھیڑ دی۔اس مہم کے ساتھ پبلی شرکے ساتھ گالی گلوچ،جان سے مارنے کی دھمکی اور کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا،یہاں تک کہ ’’دعوت اسلامی ‘‘ کے ایک مفتی نے اس کتاب کو شائع کرنے کے جرم کی پاداش میں پبلی شرکوتجدیدایمان اور تجدیدنکاح کی فکرکرنے کی دھمکی دی اورکتاب کی فروخت بندکروانے کے لیے تمام تر ہتھکنڈوں کے استعمال سے گریز نہیں کیا۔اس تحریک کے کارکنان کی جس طرح خارجی مسائل میں دلچسپی اورغیرضروری دخل اندازی بڑھ رہی ہے،تحر یک کے اخلاص ، تقوی اور سادہ لوحی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہورہے ہیں۔نیزبے شمارارباب علم و دانش جوکبھی اس کے پرزورحامی تھے وہ آج اپنے موقف پر نظرثانی کے لیے مجبور ہیں ۔

پہلے مرحلے میںان حضرات نے تین اعتراضات اٹھائے اور اپنے پروپیگنڈہ مہم کا آغاز کیا۔وہ تین اعتراضات یہ تھے:

(۱)۔اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا حامدرضاخاں بریلوی صاحب کے لیےشایان شان زبان استعمال نہیں کی گئی اوران کے نام کے ساتھ القا ب وآداب کیوں نہیں لگائے گئے؟

(۲)۔جن لوگوںپر کفروگمراہی کافتویٰ ہے ان کے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘لکھاگیاہے،یہاں تک کہ بعض جگہ ان کے علم و فضل کی تعریف کیوں کی گئی؟

(۳)۔مر زاغلام احمدقادیانی کو علما میں شامل کیوں کیاگیا؟

ابتدامیں اس مہم کو زیادہ کامیابی نہیں مل پارہی تھی،اس لیے کچھ دنوں کے بعدپہلے دواعتراضات کا پروپیگنڈہ چھوڑدیاگیا،کیوں کہ پہلے دو اعتراضات کی وجہ سے قادیانیوں والا مقدمہ(اعتراض) کمزور ہورہاتھااورعمومی حمایت بھی نہیں مل پا رہی تھی۔پاکستان میں چوں کہ قادیانیت کا مسئلہ بڑاحساس اورنازک ہے،ہونا بھی چاہیے،اس نام پر بلا اختلاف مسلک امت کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جاسکتا ہے اور قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے۔مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مملکت خداداد میں بعض لوگوں نے اپنے ذاتی مفاد اور دشمنی کے لیےاپنے حریفوں کی پیشانی پر قادیانیت کا لیبل لگاکر متہم وبدنام کیا اور اپنے مفادات حاصل کیے۔اس کتاب کے ساتھ بھی یہی ہتکنڈہ اپنایا گیااور اس مہم کے تحت لاہورکے ایک غیرمعروف ہفتہ وار اخبار(جس کو عام طورپر انہی سب معاملات کے لیے استعمال کیاجاتا ہے) کے ذریعے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے یہ ہیڈنگ لگائی گئی: ’’کتاب تذکرۂ علمائے ہندوستان میں مرزاقادیانی کو علما میں شامل کردیا گیا‘‘۔لطف کی بات یہ ہے کہ خود اخبار کے ایڈیٹرنے کتاب پرحکومت سے ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پابندی کی فریاد لگائی۔سوشل میڈیا کے ذریعے اس اخبارکی کٹنگ وسیع حلقے تک پہنچائی گئی اور سادہ لوح مخلصین اور عام مسلمانوں کو کتاب کے تعلق سے بدگمان کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ ’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ اصلاً ایک تذکرے اورتاریخ کی کتاب ہے،عقائد کی نہیں۔بعض لوگوں کی طرف سے خالص ایک علمی و تحقیقی کام پرجس طرح قادیانیت نوازی کا لیبل چڑھایاگیا،ان کے اس غیر معتدل رویے نے لبرل طبقے کے اُس موقف کوتقویت پہنچادی ہے کہ مذہبی انتہا پسند قادیانیت کی آڑ میں اپنے مفادات کی روٹیاں سینکتے ہیںاوروہ مثال میں اس کتاب کے ساتھ ہونے والے متعصبانہ رویے کو پیش کرسکتے ہیں۔اس طرح ہمارا ’’ختم نبوت ‘‘ کامقدمہ کمزورپڑرہاہے۔

بنیادی اعتراض:َ

’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘پر پہلے دو اعتراضات کا پروپیگنڈہ ترک کرکے تیسرے کی زیادہ تشہیر کی گئی ہے،اس لیے اس کو ان کا بنیاد ی اعتراض سمجھتے ہوئے اس پراختصار کے ساتھ چندمعروضات پیش ہیں۔اس ضمن میں دوسرے اعتراض کے جوابات بھی آجائیں گے۔

مرزاقادیانی کو علما میں کیوں شامل کیا گیا؟

اس سوال پر راست کچھ کہنے سے پہلے مقدمے کے طورپر ہمار ے دومعروضات کا مطالعہ مفید ہوگا۔
(۱):معروضہ

اہل علم واقف ہیں کہ علوم و فنون اور تحقیق و تفتیش کے مختلف موضوعات ہوتے ہیںاور ہرموضوع کے اپنے تقاضے،اسلوب اور منہج ۔ موضوع کے تقاضے ، اسلوب اور منہج کو جانے بغیراگرکوئی تحقیقی کام کیاجاتا ہے تو اسے دنیائے علم یکسر مستردکردیتی ہے۔تذکرے و تراجم کے بھی اپنے تقاضے ، اسلوب اور منہج ہیں، اسی اسلوب اور منہج کی روشنی میں تذکرے و تراجم مختلف جہتوں سے لکھے جاتے ہیں۔ایسے کسی بھی تذکرے کو پڑھنے اور اس پر سوال قائم کرنے سے پہلے اس کی جہت اور نوعیت کو دیکھنا ناگزیر ہوتا ہے کہ وہ کس عہد کاہے؟کس ریاست و ملک کا ہے؟کس فن کا ہے؟ اورکس طبقے کاتذکرہ ہے؟شعرا کا تذکرہ ہے یا محدثین کا۔ناقدین کاہے یا مفسرین کا۔ ادبا کا تذکرہ ہے یا مفتیان کرام کا۔ مشاہیر کا عمومی تذکرہ ہے(جس میں مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر مذہب و مسلک کے لوگ شامل ہیں)،یاتمام علمائے اسلام کا۔ خاص کسی مسلک کے علما کا تذکرہ ہے،یا ایسے علما کا جو مدعیان کلمۂ اسلام تو ہیں لیکن دوسرے مسالک کے لوگ ان کی تکفیر کرتے ہیں، وغیرہ۔

اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھاجاسکتا ہے۔اگرکوئی دہلی کے نعت گو شعراکاتذکرہ لکھ رہا ہوتو اس میں دہلی کے اُن تمام نعت گوشعرا کو شامل کیاجائے گا، جنھوں نے نعت رسول ﷺ کہی ہو،خواہ وہ کوئی ہندوہو،مسلمان ہو،سکھ ہو،سنی ہو یاپھر شیعہ۔کسی نعت گوشاعر کو اس تذکرے میں شامل کرنے میں اس کامذہب ، عقیدہ یا مسلک و مشرب حائل نہیں ہو گا۔اگرکسی ہندویاسکھ نے نعت کہی ہے تواس کا نام بھی ’’تذکرۂ نعت گویان دہلی‘‘میں شامل ہوگا،کیوں کہ اس تذکرے کا موضوع نعت گویان دہلی ہے ،نہ کہ ’’مسلم نعت گویان دہلی‘‘۔یہاں یہ اعتراض کرنا فن تذکرہ و تراجم سے اپنی ناواقفی اور جہل کا اشتہار ہوگا کہ ایک ہندو کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صف میں کیوں کھڑا کردیا گیا؟ اسی طرح دوسرے تراجم و تذکرے کے بھی مطالعےیا اس میں کسی سازش کی بوسونگھنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس جہت ، کس نوعیت اور کس عنوان سے مرتب کیا گیا ہے۔

(۲):معروضہ

اہل علم جانتے ہیں کہ جوشخص بھی مروجہ دینی نصاب ِتعلیم کو مدارس سے پڑھ کرنکلتا ہے،اسے برصغیر کی سطح پرعرف میں’’مولوی‘‘، ’’عالم‘‘ یا ’’مولانا‘‘کہا جاتا ہے ۔ جس طرح میڈیکل سائنس کی تعلیم پانے وا لے کو’’ ڈاکٹر ‘‘،انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے کو’’انجینئر‘‘ اور ہندو کی مقدس کتابیں وید اور پُران کو پڑھ کر مہارت حاصل کرنے والے کو ’’دیویدی‘‘،’’تری ویدی ‘‘یا’’ چترویدی‘‘کہا جاتا ہے۔ہمارے ہندوستا ن میں بہت سے بریلوی علما نے ہندوؤں کی مقدس کتابیں وید اور پُران میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنے نام کے ساتھ  ’’چترویدی‘‘لگایااورشاید اب بھی ایسے خطبا اور علما ہوں، جو لگارہے ہوں گے۔اس حیثیت میں وہ اپنے مراکز کے اسٹیج سے لے کر ملک کے دیگر مذہبی جلسوں کو خطاب کرتے رہے،مگر ان کو کسی نے نہیں کہا کہ ’’چترویدی‘‘ہونے کے لیے’’ہندو‘‘ہونا شرط ہے اورتم مسلمان اور اسلام کے داعی و مبلغ ہوکر یہ ٹائٹل استعمال کررہے ہو؟وجہ ظاہر ہے کہ ان القاب کا تعلق مروجہ تعلیم سے ہے،مذہب یا مسلک سے نہیں ہے۔کوئی شخص اگر مروجہ اسلامی نصابِ تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد بدعقیدہ،کافر،یابدمذہب ہوجائے تو ہم اس کے کفر و گمراہی کا اعلان تو کرسکتے ہیں ،مگراس کی’’مولویت‘‘اور’’عالمیت ‘‘ کاانکار نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام کے تمام ثقہ علما اور محدثین بشمول کبارعلمائے بریلویہ بعض علماکی تکفیر و تضلیل کرنے کے باوجود اپنےاپنے عہد میں اپنے زمانے کے عرف کالحاظ کرتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ ’’مولوی‘‘ یا ’’مولانا‘‘بھی لکھتے رہے۔کیوں کہ مولوی،مولانایا عالم کہلا نے کے لیے’’سنی مسلمان‘‘ہونا شرط نہیں ہے۔ چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

وقعات السنان:(ازمولانامحمدمصطفی رضاخاں بریلوی)۔

مولوی اشرف علی صاحب تھانوی، مولوی نانوتوی صاحب (ٹائٹل کور)۔

الصوارم الہندیہ: (از مولاناحشمت علی خاں لکھنوی)۔

مولوی اشرف علی تھانوی،مولوی رشید احمدگنگوہی،مولوی قاسم نانوتوی (ص:۱۰۰،۱۰۱)۔

حیات اعلی حضرت :(ازمولانامحمدظفرالدین بہاری)۔

مولوی خرم علی صاحب بلہوری مشہور وہابی ہیں(۲۴۲)۔

مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی نے اپنے خیالات کا آئینہ ایک رسالہ لکھا (ص:۲۴۴)۔

جاء الحق:(ازمفتی احمدیارخاں نعیمی)۔

’’مولوی محمودحسن صاحب،مولوی رشید احمدصاحب،مولوی

قاسم صاحب (ص:۲۰۱)۔

زلزلہ:(ازعلامہ ارشدالقادری)۔

وسیع الالقاب جناب مولاناعامرعثمانی،مدیر تجلی زید کرمہ(ص:۳۳)۔

امام احمدرضااورردبدعات ومنکرات:(مولانایٰسین اختر مصباحی)۔

مولانانذیرحسین دہلوی (ص: ۸۰) ،مولانامحمدقاسم نانوتو ی ، مولانارشید احمد گنگوہی،شیخ الہندمحمود الحسن دیوبندی، مولانا اشرف علی تھانوی،مولاناخلیل احمدانبیٹھوی‘‘(ص:۸۲)۔

اب تو’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘میں’’ مولانا‘‘لکھنے پرسیخ پاہونے والے ہی بتاپائیں گے کہ مذکورہ تمام حضرات کی تکفیرکلامی یا تضلیل کرنے کے بعد انھیں ’’مولوی‘‘ ، ’’صاحب‘‘ ،’’مولانا‘‘،’’وسیع الالقاب‘‘اور’’زیدکرمہ‘‘کس حیثیت سے اورکیوں لکھا گیا ہے؟عالم سمجھ کر؟یا دھوبی،نائی یا حوالدار؟

مرزاقادیانی کو مقتدرعلما نے ’’زمرۂ علما‘‘میں شامل کیاہے:

مفتی محمدامین قادری رحمہ اللہ نے (جو تحریک دعوت اسلامی سے بھی وابستہ رہے)، ’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘کے عنوان سے قادیانیت کے رد اور ختم نبوت کے دلائل میں ایک درجن سے زائدضخیم جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلو پیڈیا تیارکیا ہے،جس میں موصوف نے تمام اکابر علما کے رسائل اور مضامین کویکجا کردیا ہے۔ان رسائل میں اکابر علما نے یہ اعترا ف کیاہے کہ مرزا’’ زمرۂ علما‘‘میں شامل ہے۔تفصیل سے گریز کرتے ہوئے دو تین حوالے ملاحظہ ہوں:۔

مولاناغلام دستگیر قصوری:۔

’’واضح ہو کہ مرزاغلام احمدقادیانی پنجابی،جو علماے غیرمقلد ین سے ہے‘‘۔

(تحقیقات دستگیریہ فی ردّ ہفوات براہینیہ،مشمولہ عقیدۃ ختم النبوۃ، جلد: اول،ص:۱۴۵)

مولانا غلام دستگیر قصوری اپنے دوسرے رسالے’’رجم الشیا طین بردّ اُغلوطات البراھین‘‘میں اسی بات کو عربی میں بھی لکھتے ہیں:

فان مرزاغلام احمدالقادیانی الفنجابی من العلماء الغیرالمقلدین (ایضاً،ص:۲۲۹)۔

مولانامحمدحیدراللہ خان درانی نقش بندی:۔

مرزاقادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین قادیانی کے لیے لکھتے ہیں:’’جناب حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی جو مشہو ر غیر مقلدہیں‘‘۔

۔(دِرّۃ الدرّانی علی ردّۃ القادیانی،مشمولہ عقیدۃ ختم النبوۃ، جلد: سوم ، ص:۳۲)

 بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی:۔

عالم اسلام کے بیشتر مقتدرعلمابشمول اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے شیخ ابن تیمیہ( وفات : ۷۲۸ھ) کو ضال ومضل کہا ہے:۔(دیکھئے:المستندالمعتمد،حاشیہ علی المعتقدالمنتقد،ص:۹۰، المقطم للنشروالتوزیع قاہرہ)۔ اور بعض نے تکفیر بھی کی ہے۔امام سخاوی نے اپنی معروف کتا ب ’’الضوء اللامع ‘‘ میں نویں صدی ہجر ی کے معروف حنفی محقق اصولی اور عالم دین علامہ علاء الدین بخاری (ف: ۸۴۱ ھ) کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’جو شخص ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے گا وہ کافر ہے‘‘۔ مَن أطلق على ابن تيمية لقب شيخ الإسلام فهو بهذا الاطلاق كافر۔ (ج:۹ ،ص:۲۹۲) ۔اس کے باوجود عالم اسلام اور اہل سنت وجما عت کے ثقہ ،مستند اور معتمد علمااورائمہ نےکن القاب آداب اور کیسے پرشکوہ الفاظ و جملوں کے ساتھ شیخ ابن تیمیہ کا ذکر کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:۔

امام ذہبی:۔

’’هو شيخنا ، وشيخ الإسلام ، وفريد العصر ، علماً ، ومعرفة ، وشجاعة ، وذكاء ، وتنويراً إلهيّاً ، وكرماً ، ونصحاللأمَّة ، وأمراً بالمعروف ، ونهياً عن المنكر‘‘۔

۔ (ذيل طبقات الحنابلة لابن رجب الحنبلي،ج ۴ ،ص: ۳۸۷)

امام جلال الدین سیوطی:۔

ابن تيمية ، الشيخ ، الإمام ، العلامة ، الحافظ ، الناقد ، الفقيه ، المجتهد ، المفسر البارع ، شيخ الإسلام ، علَم الزهاد ، نادرة العصر۔‘‘

(طبقات الحفاظ ، ص:۵۲۰ )

ملاعلی قاری:۔

وهو شيخ الإسلام عند الصوفية : تبيَّن له أنهما كانا من أهل السنة والجماعة ، بل ومن أولياء هذه الأمة

(مرقاة المفاتيح لملا علي القاري ، ج : ۸ص :۲۱۶)

’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کس نوعیت کا تذکرہ ہے؟

مقدمے کے طور پر مذکورہ دونوں معروضات کے مطالعے کے بعد اب دو باتیں دیکھنی ہیں،پہلی یہ کہ ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘کس نوعیت کا تذکرہ ہے؟اور دوسری مرزاقادیانی نے اساتذۂ فن سے مرو جہ اسلامی نصاب پڑھاتھا یا نہیں؟اگر یہ تذکرہ واقعی صرف اُن علما کاہے جن کو مصنف مسلمان سمجھتے ہیں اور مرزاقادیانی مروجہ اسلامی نصاب پڑھنے کے بجائے پولیس میں’’ حوالدار‘‘تھا ،یا’’ انجینئر‘‘یابے پڑھا لکھا نرا’’جاہل‘‘ تو پھر یہ الزام اور اعتراض درست ہوگا کہ ’’علما کے اس تذکرے میں مرزاقادیانی کو کیوں شامل کیا گیا‘‘؟

تاہم یہ جان کر معترضین کو افسوس ہوگا کہ یہ تذکرہ اُن علما کا نہیں ہے جن کا اسلام اورجن کی سنیت امت مسلمہ کے ہرطبقے میں شکوک و شبہات سے بالاتر ہے، بلکہ برصغیر کے ان علما کا ہے جو’’مدعیان کلمۂ اسلام ‘‘تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس میں بریلوی،دیوبندی،اہل حدیث ، اہل قرآن،اہل تشیع کے ساتھ قادیانی مولویوں کا بھی ذکر ہے اوران میں سے ہر ایک طبقہ اپنے آپ میں مدعی کلمۂ اسلام ہے۔ہم ان میں سے کس کو دائرۂ اسلام میں رکھتے ہیں اور کسے خارج کرتے ہیں،یہ نہ تو تذکرے کا موضوع ہے اور نہ جہت۔

رہا مسئلہ مرزاقادیانی کا تو وہ کوئی ’’ حوالدار‘‘ ،یا’’ انجینئر‘‘ نہیں تھا بلکہ مروجہ اسلامی نصاب کا پڑھا ہوا ’’مولوی‘‘اور’’ مولانا ‘‘ تھا۔اس تعلق سے یہاں کسی دلیل کی ضرورت نہیں،کیوں کہ یہ بات مسلّم ہے اوراس حوالے سے متعدد معاصرمآخذمیں تفصیل موجودہے،جسے پچھلے صفحات میں پیش کردیاگیا۔

’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کی جہت اورموضوع کی تعیین کے لیے اسی کتاب سے مزید کچھ شواہد پیش کیے جارہے ہیں تاکہ بات اور صاف ہوجائے۔

  • جب ہم’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کے مخطوطے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کے ٹائٹل کور پرمصنف کی یہ وضاحت ملتی ہے جسے ہم نے مطبوعہ کتاب کے صفحہ نمبر ۷۶؍پر نقل بھی کیا ہے:۔

یہ تاریخ العلماء بلاقیدخصوصیت و خصومت کے ہر طرح پر مفید خاص و عام ہے- (ص:۷۶)۔

یہ وضاحت تذکرے کی نوعیت اورجہت کو متعین کردیتی ہے کہ اس تذکرے میں کسی تعصب اور دشمنی کے بغیر اپنے عہد کے اُن تمام مشاہیر کو شامل کیاگیا ہے ،جو مروجہ اسلامی نصاب کے تعلیم یافتہ اورمدعیان کلمۂ اسلام تھے۔تذکرے میںکسی کے نام کی شمولیت میں اس کے مذہب،مسلک یا فرقے کو نہیں دیکھا گیا ہے بلکہ تار یخی حیثیت سے اس کا’’عالم‘‘یا ’’مولوی‘‘ہونا دیکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مصنف نے تذکرے کی اس جہت اور عموم کی رعایت کرتے ہوئے اس کا تاریخی نام ’’مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاء ‘‘ رکھا ہے ۔پھربحیثیت محقق و محشی ہم نے بھی اس کا عرفی نام ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘رکھا،تذکرۂ علمائے اسلام نہیں۔

  • مصنف نے اپنے مقدمے میں یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہ بحیثیت مؤرخ ایک تاریخ لکھ رہے ہیں ’’علم الکلام ‘‘پر کوئی عقیدے کی کتاب نہیں۔تاریخ لکھنے کے تقاضے اور ہیں اورکتاب العقائدکے اور۔کسی کا مبلغ علم اس فرق مراتب کو ملحوظ نہیں رکھتا ہے تو یہ اس کا قصور ہے۔مصنف فرماتے ہیں:۔

’’تاریخی حالات،تحقیقی راست،بلا کم و کاست ،من و عن لکھنا مؤرخ کا فرض منصبی ہے -‘‘(مخطوطہ ص:۸،مطبوعہ ص:۷۶)۔

  • تذکرے کے موضوع اور نوعیت و جہت کی مزید وضاحت مصنف نے مخطوطے کے صفحہ نمبر۹؍پر بھی کی ہے کہ وہ خود تو مذھباً حنفی، مسلکاً سنی اور مشرباً نقش بند ی ہیں،مگر اس تذکرے کا تعلق کسی خاص فرقے سے نہیں،بلکہ یہ مدعیان کلمۂ اسلام کی عمومی تاریخ ہے۔فرماتے ہیں:۔

’’یہ تذکرہ کسی خاص فرقے سے تعلق نہیں رکھتا ہے- صاحب ترجمہ(یعنی جس کاتذکرہ لکھا جارہا ہے) کا عقیدہ اور حتی الامکا ن تحریرات سے مطلع کر دیا گیا ہے اور یہی مجھ کو مناسب بھی تھا – میں نے موافقت و مخالفت کا کچھ بھی خیال نہیں کیا ہے‘‘۔

(مخطوطہ ص:۹،مطبوعہ ص:۷۷)

تذکرے کی اس عمومی حیثیت کومیں نے بھی اپنے’’پیش لفظ‘‘ اور’’تعارف مخطوطہ‘‘کے ضمن میں واضح کردیا تھا،ملاحظہ ہو:۔

’’یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ اس تذکرے میں ہر مسلک و مشرب کے مشاہیر فاضلین کے احوال درج کیے گئے ہیں،جوتذکرے کی وسعت و جامعیت کی بڑی دلیل ہے- اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف کا ایک مخصوص مذہبی مسلک و مشرب سے تعلق ہونے کے باوجودانھوں نے نہایت وسعت قلبی کے ساتھ ہر مسلک کی اہم شخصیات کو نہ صرف اپنی کتاب میں شامل کیا ہے بلکہ ہر ایک کا ذکر ،ان کے القاب و آداب،ذاتی احوال اورعلمی و ادبی خدمات کوحسب حیثیت پوری دیانت کے ساتھ لکھا ہے،اس کے درمیان مصنف کا مسلک و نظریہ حائل نہیں ہوسکا ہے-تاریخ اور تذکرہ نگاری کی یہ بنیادی شرط ہے،جس کا مصنف کو بخوبی ادراک تھا- راقم نے بھی اس کی تدوین وترتیب اور حواشی وتعلیقات تحریرکرنے میں مصنف کی اس علمی و تحقیقی اسپرٹ کو برقراررکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے،امید ہے کہ اس علمی تذکرے کا مطالعہ بھی اسی اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے گا ‘‘-(ص:۵۱،۷۶)۔

اس تفصیل کے بعد بھی کوئی معترض ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کوعلما میں کیوں شامل کردیا گیاتو اس کے لیے دعاہی کی جاسکتی ہے۔

کتاب میں مرزاقادیانی کے کفری عقائد اورتکفیر کی وضاحت:۔

مصنف نے اپنے مقدے میں یہ وضاحت کردی تھی کہ تذکر ے کے لکھنے کے دوران ’’حتی الامکان ہرایک کے عقیدے کو واضح کردیا گیاہے‘‘۔ مرزاقادیانی کے ذکرمیں بھی انھوں نے نہایت وضا حت کے ساتھ (کسی تعریف و توصیف کے بغیر)اس کے کفری عقائد و نظریات کو واضح کردیا تاکہ امت مسلمہ کسی مغالطے میں نہ رہے۔مگر جس طبقے کی طرف سے شوروغوغا مچایا جارہا ہے،اُس نے نہایت بددیا نتی کے ساتھ اس بات کو لوگوں سے نہ صرف چھپائے رکھا بلکہ اس کے برخلاف یہ پروپیگنڈہ بھی کرتا رہاکہ مرزاکی تعریف و توصیف کرکے اسے اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔لاہور کے ایک وکیل صاحب نے تو ساری حد پار کرتے ہوئےپاکستان کی تفتیشی ایجنسی ’’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘(ایف آئی اے)کوشکایتی خط لکھ دیا کہ پبلی شرکوقانونِ توہین رسالت (295-C)کے تحت گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جائے ،کیوں کہ اس کتاب میں مرزاقادیانی کو’’ولی اللہ‘‘ لکھاگیاہے۔یہ بدترین خیانت اوربددیانتی صرف اس لیے کی جارہی ہے تاکہ کتاب ،  محقق اور پبلی شر کو متہم اور مطعون کیا جاسکے۔اب مصنف کا من وعن متن ملاحظہ فرمائیں:۔

متن مصنف:

’’مرزا غلام احمدقادیانی ابن غلام مرتضیٰ ( ضلع گورداس پور)، آپ نامی گرامی، شہرۂ آفاق، فرقۂ مرزائی احمدی کے بانی [اور] امام مہدی و مسیح موعود کے مدعی ،بحالت بروزی ہوئے – آریہ اور عیسائی وغیرہ ،مخالفین اسلام سے مباحثے و مناظرے رہے- ان کے خلیفہ مولوی حکیم نور الدین( جموں) ہوئے- ’’البدر‘‘ اور’’ الحکم‘‘ اخبار جاری ہوئے- پنڈت دیا نند سرسوتی ، لیکھ رام( آریائی) اور عبداللہ اتھم( عیسائی) سے تحریری و تقریری مذہبی مکالمے و مباحثے رہے- علمائے اہل اسلام سے خلاف عقائد پر گفتگو رہی، آخرپرنزول وحی کے مدعی ہوئے- ابتدائی حالت میں اہل اسلام[ان کے] موافق رہے ، جب[ان سے] خلافِ احکامِ شرعی امور سرزد ہوئے، مخا لف ہو گئے- ان کے مقابلے پر ان کے شاگرد اور مرید مولوی چراغ دین( ساکن جموں) بھی مدعی ،رسالت کے ہو ئے – [اپنی] کتاب’’ براہین احمدیہ‘‘ کے جواب لکھنے والے کو دس ہزار روپے انعام کا اقرار کیا- شحنۂ حق، سرمۂ چشم آریہ اور بہت کتابیں و رسالے چھپے ہیں- حضرت مولاناسید شاہ مہر علی ( زیب آرائے مسند سجادہ، گولڑہ ،ضلع راول پنڈی) سے چھیڑ چھاڑ رہتی ہے- مولوی بشیر الدین محمود احمد آپ کے صاحبزاد ے ہیں- مرزاصاحب نے بتاریخ ۲۲؍شہر صفر المظفر ،یوم پنج شنبہ، وقت ساڑھے دس بجے دن، ۱۳۲۶ھ مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں وفات پائی- ‘‘(ص:۲۸۶)۔

اس متن میں مرزاقادیانی کے تمام کفری عقائد و نظریات کے ساتھ اس سے علمائے اسلام کی مخالفت کوبھی بیان کردیا گیا ،لیکن جمہور علمائے اسلام نے اس کی تکفیر بھی کی ہے یا نہیں،اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا-ممکن ہے بشری نسیان کے تحت مصنف کو اس کا خیال نہ رہاکہ وہ مرزاقادیانی کے ذکر میں اس کی تکفیر کا بھی اضافہ کردیتے ۔ تاہم بحیثیت محقق و محشی ہم نے اس کی تکمیل کردی اورمصنف کے متن کےتحت اپنے حاشیے میں صاف صاف لکھ دیا کہ’’ جمہو رعلمائے اسلام نے اس گروہ کو کافرقراردیا ہے‘‘ ۔ راقم کا پوراحاشیہ ملاحظہ ہو:۔

متن مصنف پر حاشیہ:۔

’’مرزا غلام احمدابن غلام مرتضیٰ ابن عطا محمدبرلاس ۱۳؍فرور ی ۱۸۳۵ء کو پیداہوئے اور اپنے گاؤں قادیان میں ہی تعلیم پائی،اس کے بعدکچھ عرصے سیالکوٹ میں عدالت میں کام کیا – اس زمانے میں عیسائی مبلغین اور آریہ سماجی اسلام پر نظریاتی حملے کررہے تھے اور ان کے رد میں اسلام کے نمائندہ علما برسرپیکارتھے-مرزاصاحب نے بھی اس میدان میں قدم رکھااور عیسائیوں اورآریہ سماجیوںکےمشہور مذہبی رہنماؤں سے مباحثے کیے اور ان کو مقابلے کی دعوت دی،اور اس موضو ع پر مختلف رسائل اور کتابیں لکھیں-آگے چل کرمرزاصاحب نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح موعود، مہدی آخر الزماں ہیں اورنبی ہیں ،نیزاعلان کیا کہ انہیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے ، اس طرح ۲۳؍ مارچ،۱۸۸۹ء کو لدھیانہ (پنجا ب ) میں بیعت لے کر’’ جماعت احمدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی-مرزا صا حب کے مذکور ہ دعوے کے پیش نظر جمہو ر علمائے اسلام نے اس گروہ کو کافرقراردیا ہے‘‘- (ص: ۶۸۸)۔

اس کے علاوہ بھی تین چار قادیانی علما کا ذکر اس میں شامل ہے، جن کی قادیانیت کو یاتو متن یاپھرحاشیے میں واضح کردیا گیا ہے تاکہ امت مسلمہ کسی قسم کے مغا لطے  میں نہ رہے،کیوں کہ بحیثیت محقق و محشی راقم کا ماننا بھی یہی ہے کہ یہ گروہ منکرختم نبوت اور کافر ہے اور ان کے عقیدے کے ساتھ کسی طرح کاکمپرومائز نہیں کیاجاسکتا۔

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘میں ایسا نیا اورانوکھا کیا ہے جس پر ہنگامہ کھڑاکیاگیا؟اس تذکرے میں قادیانیوں اور دیگرمسالک کے علما (جن کی تکفیر و تضلیل کی گئی ہے)کی شمولیت پر اس طرح شور مچایا جارہا ہے،جیسے تاریخ اسلام کے اندرتذکرے و تراجم کی دنیا میں ایساپہلی بار ہواہے۔یہ اعتراـض جب میں نے سنا تو حیرت کے سمندرمیں ڈوب گیا کہ معترضین ،تذکارو تراجم کے منہج اورروایت سے اس قدرناواقف کیسے ہو سکتے ہیں؟

اب آئیے عالم اسلام کے اُن معروف اور مستند تراجم و تذکروں کو دیکھتے ہیں،جن میں اُن لوگوں کا بھی والہانہ ،پورے القاب و آداب کے ساتھ ذکر ہے،جن کی تکفیر کی گئی ہے یا جنھیں ضال مضل کہا گیا اور اُن کا بھی جو کافرومشرک ٹھہرے۔لطف کی بات یہ ہے کہ اِن تذکاروتراجم کو ہر طبقے کے علمائے کرام اور مفتیان ذوی الاحترا م اپنی اپنی الماریوں اور کمپیوٹرز کی زینت بھی بناتے ہیں ،شوق سے جابجااپنی کتابوں اور مضا مین میں ان کے حوالے بھی دیتے ہیں اور یہ اعتراض بھی نہیں کرتے کہ ان میں کافر و مشرک،زندیق و ملحد ،مدعی مہدویت اور گمراہ و گمراہ گرلوگوں کا ذکر کیوں کیا گیا۔

سیرأعلام النبلاء:۔

یہ عربی تذکرہ چودھویں صدی عیسویں میں لکھا گیا، اہل سنت و جماعت کے ثقہ ، مستند اور معتمدعلیہ عالم اورامام ،امام ذہبی (ف:۱۳۷۴ء) اس کے مصنف ہیں۔ اس تذکرے میں انھوں نے ہر طرح کے لوگوں کا ذکرشامل کرکے بتادیا کہ تاریخ و تذکرےکے تقاضے الگ ہوتے ہیں ۔ اس کتاب سے چند مثالیں ملاحظہ کریں:۔

ابوداؤدظاہری(ف:۲۷۰ھ)

یہ فرقۂ ظاہریہ کے بانیوں میں سے ہیں ،جو اہل سنت کے نزدیک ایک گمراہ کن فرقہ ہے۔ امام ذہبی نے اپنے تذکرے میں نہ صرف ان کا ذکر شامل کیا بلکہ ان کے علم و فضل کی جو تعریف و توصیف کی ہے وہ انتہاپسندوں کے لیے دیدۂ عبرت ہے۔فرماتے ہیں:۔

الإمامُ ، البحرُ ، العلامة، عالمُ الوقت ……رئيس أهل الظاهر ….. بصيرٌ بالفقه ، عالمٌ بالقرآن ،حافظٌ للأثر ، رأسٌ في معرفة الخلاف ، من أوعيةِ العلمِ ، له ذكاءٌ خارقٌ ، وفيه دِينٌ متينٌ .

( سير أعلام النبلاء ،ج ۱۳ ص۹۷)

زمخشری(ف:۵۳۸ھ)

یہ بہت بڑے معتزلی تھے۔فرقۂ اعتزال اہل سنت کے نزدیک گمراہ کن فرقہ ہے۔امام ذہبی اپنے تذکرے میں نہ صرف ان کا ذکر کررہے ہیں،بلکہ انھیں ’’علامہ‘‘ سے بھی خطاب فرمارہے ہیں:۔

الزمخشری،العلامۃ،کبیرالمعتزلۃ

(سیر اعلام النبلاء،ج:۲۰،ص:۱۵۱)

جاحظ(ف۲۵۰ھ یا۲۵۵ھ)۔

یہ بھی اپنے وقت کے بڑے معتزلی تھے۔امام ذہبی، جاحظ کا ذکر شامل کرکے ایک طرف ان کے اعتزال کوظاہرکررہے ہیں دوسری طرف ان کے علم و فضل کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں، علامہ، متبحر اور ذوالفنون(علوم و فنون والے)بھی لکھ رہے ہیں:۔

العَلاَّمَةُ المُتَبَحِّرُ، ذُوْ الفُنُوْن، أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بنُ بَحْرِ بنِ مَحْبُوْبٍ البَصْرِيُّ، المُعْتَزِلِيُّ، صَاحِبُ التَّصَانِيْفِ. أَخَذَ عَنِ: النَّظَّامِ. (سير أعلام النبلاء ،ج:۱۱ ،ص: ۵۲۶)۔

ألاعلام:۔

یہ عربی تذکرہ چودھویں صدی ہجری کا ہے،اس کے مصنف خیرالدین الزرکلی( ۱۳۹۶ھ)ہیں،ان کی لکھی ہوئی تاریخ اورتذکرے عالم اسلام میں استناد کا درجہ رکھتے ہیں،عالم اسلام میں علم و تحقیق سے شغف رکھنے والاشایدہی کوئی عالم و محقق ہو جو اس کتاب کی طرف رجوع نہ کرتا ہو ۔اس تذکرے میں بھی ہر مسلک و عقیدے کے لوگوں کو پورے القاب آداب کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔تفصیل سے گریز کرتے ہوئے صرف ایک حوالہ دیا جاتاہے،ملاحظہ ہو:۔

محمدبن علی الشوکانی(ف۱۲۵۰ھ)۔

قاضی شوکانی کا تعلق یمن سے ہے اور علمائے وہابیہ میں ایک بڑا اور معرو ف نام ہے ۔خیرالدین زرکلی نے اپنے تذکرے میں نہ صرف ان کا نام شامل کیا بلکہ ان کاشایان شان الفاظ میں تعارف بھی کرایا،یہ ذکرکرتے ہوئے کہ وہ تقلید کو حرام سمجھتے ہیں۔

فقيه مجتهد من كبار علماء اليمن ، من أهل صنعاء … وكان يرى تحريم التقليد

(الأعلام :ج:۶ ص:۲۹۸)

تذکرۂ علمائے ہند:۔

یہ برصغیر میں فارسی زبان کا مقبول ترین اورمستند تذکرہ ہے،جسے مولوی رحمن علی ناروی(ف:۱۹۰۷ء) جیسے خوش عقیدہ عالم دین نے ۱۸۹۱ء میں لکھااور اس کا پہلا ایڈیشن ۱۸۹۴ء میں نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوا۔اس میں مختلف عہد کے ساڑھے چھ سو علماکا تذکرہ شامل ہے ۔ ۱۹۶۱ء میں پروفیسرایوب قادری مرحوم نے پاکستان میں اس کا اردو ترجمہ بھی کردیا،جب سے وہاں یہ کتاب شائع ہورہی ہے ۔ہندوپاک میں تحقیق کا ذوق رکھنے والا ہر مفتی اورعالم اس تذکرے کا حوالہ دیتا ہے ،جب کہ اس میں ہر فرقے اور مکتب فکر کے علما کاذکر بڑی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے،مگرانھیں اس تذکرے سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ان تمام لوگوں کی تفصیل فردافردا پیش کروںتو یہ مضمون کافی طویل ہوجائے گا،یہاں صرف چند نام پر اکتفا کرتاہوں۔تفصیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ملاقاسم کاہی(ملحد وزندیق،ص:۴۱۲)،سیدمحمدجون پوری(مدعی مہدویت،ص:۴۴۹)،مولوی دلدار علی (مجتہد شیعہ،ص:)،میرفتح اللہ شیرازی (شیعہ ،۳۸۸)، صدیق حسن خاں قنوجی(اہل حدیث، ص: ۲۷۸) ،شاہ اسماعیل دہلوی(اہل حدیث،ص:۴۱۲)۔

نزھۃ الخوطروبہجۃ المسامع والنواظر:۔

یہ عربی زبان میں آٹھ جلدوں پر مشتمل تذکرہ ہے،جودیوبندی مکتب فکر کے بڑے عالم اورمؤرخ مولاناسید عبدالحی حسنی رائے بریلوی (ف:۱۹۲۳ء) کی تصنیف ہے ، اس کا بھی زمانۂ تصنیف انیس ویں صدی کا ربع اخیرہے،اس میں پہلی صدی ہجری سے لے کر چودہویں صدی تک ساڑھے چار ہزارعلما،مشائخ ، ادبا اور مصنفین کا ذکر ہے۔یہ تذکرہ بھی ان چند تذکروں میں سے ایک ہے ،جس سے استفادہ کرنے اورریفرنس دینے میں ہمارے علما اورمفتیان کرام کوکوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔بریلوی مکتب فکر کے درجنوں علما و محققین کی کتابوں اور مضامین سے اس تذکرے کے سیکڑوں حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں، جب کہ اس میں اُن کے  علما کے خلاف کافی کچھ لکھابھی گیاہے۔ اس کے علاوہ اس میں بھی ہرفرقے اور ہرعقید ے کے علما(خواہ وہ ملحدوزندیق ہو،رافضی و شیعہ ہو،اہل حدیث ہویا پھرقادیانی)کا ذکران کی مذہبی و سماجی حیثیت عرفی کے ساتھ شامل ہے۔ تفصیل سے گریز کرتے ہوئے چند علما کا ذکرکیاجاتاہے:۔

مرزاقادیانی(ص:۱۳۱۷)۔

عبدالماجدبھاگل پوری قادیانی (ص:۱۳۰۲)۔

بانی فرقہ اہل قرآن عبداللہ چکڑالوی (ص: ۱۲۹۳)۔

شیعہ مجتہد دلدارعلی لکھنوی  (ص:۹۶۶)۔

مدعی مہدو یت سیدمحمدیوسف جون پوری(ص:۴۱۸) ،وغیرہ

تطیب الاخوان بذکر علماء الزمان

تذکرۂ علمائے حال:۔

مولانا محمد ادریس نگرا می (ف:۱۹۱۲ء)نے ۱۸۹۵ء میں اس تذکرے کو اردوزبان میں لکھا،جس پراہل سنت کے کئی جلیل القدر علما مثلا مولاناوکیل احمدسکندرپوری (ف:۱۹۰۴ء) وغیرہ نے انھیں مبارک بادی بھیجی۔لطف کی بات یہ ہے کہ یہ تذکرہ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے نئی سج دھج کے ساتھ پاکستان سے شائع ہواہے،مگر کسی کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔ جب کہ اس تذکرے کا حال بھی یہی ہے،چندنام ملاحظہ ہوں:

عبدالماجدبھاگل پوری قادیانی(ص:۵۴)۔

محمدحسین بٹالوی (اہل حدیث،ص:۷۷)۔

ذوالفقاردیوبندی(ص: ۲۵)  وغیرہ ۔

یہ وہ چندتذکرے اورتراجم ہیں جن کی تفصیل یہاں پیش کردی گئی ہے،لیکن میرے پیش نظراس وقت مزید دودرجن سے زائد تذکرے ہیں،جن کی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے،بلکہ بعض تذکروں اورتراجم میں مسلم علماکے ساتھ غیرمسلموں کو بھی شامل کیاگیا ہے ۔

(دیکھئے :قاموس المشاہیرازنظامی بدایونی/ وفیات اعیان الہند از ڈاکٹر ابوالنصر محمدخالدی، وغیرہ )۔

اگرتفصیل میں جاؤں تو ایک ضخیم دفترتیارہوجائے گا۔مذکورہ تفصیل کے بعدقارئین کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ تذکروں اورتراجم کی روایت اور منہج کیا رہا ہے اوراسی روایت و منہج کی ہی ایک کڑی ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘بھی ہے۔

 آخری بات:۔

ہندوپاک میں حمایت و مخالفت کا پیمانہ عموماً فکری انتہا پسندی پر استوار ہے-ہم جب کسی کی حمایت کرتے ہیں تو اس کی تمام خامیوں اور عیوب کو نہ صرف نظر اندازکردیتے ہیں بلکہ انھیں صحیح ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں-یوں ہی ذاتی پسندوناپسند کی بنیادپر جب کسی کی مخالفت پر اترتے ہیں تو اس کی خوبیوں کو پس پشت ڈال کر اس کی خامیو ں کی اشاعت ہی اپنی زندگی کا ہدف بنالیتے ہیں-برصغیر ہندوپا ک میں حمایت و مخالفت کے یہ مظاہر عام ہیں، جو بلاشبہ معاشرے پر سیاسی تغلب کی نشاندہی کرتے ہیں-یہ انداز فکر و نظرسراسر غیر علمی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ علم و فن اورخدمات کا اعترا ف اور عقیدہ و عمل کا احتساب دو الگ الگ چیزیں ہیں- رسول اللہ ﷺ نے جاہلی شاعر امرء القیس کو اشعر شعراء العر ب بھی فرمایا ہے اورحامل لوائہم الی الناربھی- پہلا جملہ امرء القیس کی فنی عظمت کا تعارف ہے اور دوسرا جملہ اس کی گمراہی فکر و عمل پر مہر۔

اُس کو’’مولانا‘‘کیوں لکھ دیا؟اِس کی تعریف کیسے کردی ؟ فلاں کو عالم کیوں کہہ دیا؟فلاں کا نام اس میں کیوں شامل کردیا گیا؟ جہالت و سفاہت کا یہ کلچر اسلام و سنیت کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔

میں نے پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ دلائل و براہین کی روشنی میں اپنی بات رکھ دی ہے،پھربھی اگر کسی قسم کی کوتاہی رہ گئی ہے تو رب کریم کی بارگاہ میں مغفرت کاطالب ہوں۔اللہ کریم مزیداس طرح کے علمی وتحقیقی کام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ڈاکٹرخوشترنورانی

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment