فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 پیمائش

تذکرۂ علمائے ہندوستان :ایک جائزہ

ارشادعالم نعمانی

نام کتاب:             تذکرۂ علمائے ہندوستان(مظہرالعلماء فی تراجم العلماء والکملاء)۔

مصنف:              مولاناسیدمحمدحسین بدایونی  (وفات:۱۹۱۸ء)۔

تحقیق،تدوین ،تحشیہ:           ڈاکٹرخوشترنورانی

صفحات:             ۹۴۴

پہلی اشاعت:                     ستمبر۲۰۱۸ء

ناشر:                  ادارۂ فکر اسلامی،دہلی،دارالنعمان پبلی شرزلاہور

تقسیم کار:                      مکتبہ جام نور،دہلی

قیمت:                 (1100(انڈیا۔ 2500(پاکستان)۔

متن کی تحقیق وتدوین کس قدر دشوار گزار فن ہےوہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔یہ علمی کام اس وقت اور دشوار ترین اورجاں گسل ہوجاتا ہے جب کسی مخطوطہ کی تحقیق و تنقید اور اس کے متن کی معاصر ماخذسے تصحیح وتنقیح سے متعلق ہو، اس کےلیے جو مطلوبہ صلاحیت ،استعداداور قابلیت مطلوب ہوتی ہے اس کا ہر کس وناکس متحمل نہیں ہوتا۔متن کی تحقیق وتدو ین موجودہ وقت میں باضابطہ ایک مستقل فن کی حیثیت سے اہل علم اور محققین کی دل چسپی کا مرکز ہے ۔اس فن میںبنیادی طور پر متن کے مختلف نسخوں سے بنیادی نسخے کا انتخاب کرنا،متن کو حرف حرف پڑھ کر سمجھنا،معاصر مآخذ کی روشنی میں متن کی تصحیح کرنا،متن کو الحاقا ت سے پاک کرنا،علم و مشاہدے اور داخلی و خارجی شہادتوں کی بنیاد پر متن کے درمیا ن متروک یا ناقابل قراءت حصے کو پُرکرنا،متن کے املا اورصرف و نحو کو درست کرنا،رموزواوقاف کا اضافہ کرناجیسے اہم اور پتہ پانی کردینے والے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔عربی وفارسی میںیہ فن ایک عرصے سے اہل علم کی توجہ کا مرکزرہاہےلیکن اردوزبان میں اس پر بہت خاص توجہ نہیں دی گئی ہے،جن اساطین علم و ادب نے اپنے علمی کاموں کے ذریعے اردو میںمتنی تنقیدوتحقیق کے اعلیٰ نمونے پیش کیے، ان میں مولوی عبدالحق،مولاناامتیازعلی خاں عرشی،رشید حسن خاں ،قاضی عبدالودود، مالک رام ، مختارالدین آرزؔو ، مسعود حسن رضوی، نثاراحمد فاروقی اور ایوب قادری کے نام نمایاں ہیں۔

زیر نظر کتاب ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان ‘‘ہندوپاک کےنامور محقق،ناقد،ادیب اورقلم کار ڈاکٹر خوشتر نورانی (امریکا)کا مقالہ تحقیق ہے، جس پر موصوف کو۲۰۱۷ءمیں شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی ہے ۔تحقیق وتنقید متن پرموصوف کا یہ علمی کارنامہ غیر معمولی قدروقیمت کا حامل ہےاوراردو میںمتنی تنقید کے صف اول کی علمی تحقیقات کے زمرے میں رکھے جانے کی مستحق ہے۔ اس علمی تحقیق کے ذریعےڈاکٹر خوشتر نورانی نےتحقیق کی دنیا میںایک نئی جوت جگائی ہےاور موجودہ عہدمیں ادبی تحقیق کے گرتے معیار کواپنے تحقیقی عمل کے ذریعے ایک نئی توانائی اورروشن جہت عطاکی ہے ۔علمی تحقیق کے تقاضوں کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ہے ۔فریضۂ تحقیق کو صداقت ودیانت کے ساتھ انجام دیاہے ۔موجودہ دور میں تحقیق کی پامالی جس قدر بے دردی کے ساتھ جاری ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں ہے،نقدی مقالات کے ساتھ بزور ثروت ڈگریوںکے کاروبار نے تقاضائے تحقیق کو جس بری طرح مجروح بلکہ قتل کیا ہے اس سے بھلا کس کو انکار ہوسکتاہے ایسی صورت حال میںڈاکٹر صاحب کے اس علمی کام نے ہم جیسے متلاشیان تحقیق کو غیر معمولی حد تک متاثر کیا ہے ۔اس سے پہلے انہوںنے علم وتحقیق کی دنیامیںایسے متعدد علمی وتحقیقی کام انجام دیے ہیں،جس نے موصوف کو برصغیر ہندوپاک کے علمی وتحقیقی حلقے میں غیر معمولی اعتبار واستناد بخشاہے ۔اسی وجہ سےہندوپاک کے علمی حلقو ں میںڈاکٹر خوشتر نورانی کانام بڑے احترام سے لیا جا تاہے،ان کی تحقیقا ت کا علمی حلقوں کو بڑی بےصبری سےانتظار رہتاہے ۔پچھلے کئی سالوں سے جادئہ تحقیق پرکامیابی کے ساتھ گامزن ہیں ۔ اس درمیان انہوں نے کئی ایسے تحقیقی پروجیکٹ کیے ہیں، جس نے اہل علم کےایک بڑے حلقے پرمثبت تحقیقی اثرات مرتب کیے ہیں۔ علامہ فضل حق خیرآبادی : چند عنوانات(سال اشاعت:۲۰۱۱ء)،سرسید کے مذہبی عقائد وافکار: ایک مکالمہ(سال اشاعت:۲۰۱۳ء)،تحریک جہاد اوربرٹش گورنمنٹ : ایک تحقیقی مطالعہ(سال اشاعت :۲۰۱۴ء)،تذکرہ مشائخ رشیدیہ معروف بہ سمات الاخیار:تدوین ،تحقیق ،تحشیہ ( اشاعت :۲۰۱۵ء)، اور اب ’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ معروف بہمظہرالعلماء فی تراجم العلماء والکملاء، ڈاکٹر خوشرنورانی کے ایسے علمی وتحقیقی کارنامے ہیں جن کے ذریعے تحقیقی دنیا میں علمی اضافے اور نئی چیزیں دریافت کی گئیں ہیں۔ ان تحقیقات کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی متعدد جہتیںصاحبان فکر وتحقیق کے سامنے آتی ہیں، مثلااردوادب وتحقیق کے ساتھ عربی وفارسی ادبیات و مصادراور اسلامیات وتاریخ پر گہری بصیرت،عالمانہ مطالعہ ، وسیع معلومات ،اٹھارویں ،انیسویں اور بیسو یںصدی کےافکار وتحریکات پر تحقیقی وتنقیدی اور تجزیاتی نظروغیرہ۔امید ہے کہ موصوف کا یہ تحقیقی سفر آگے بھی پوری توانائی کے ساتھ جاری رہے گا۔

تذکرۂ علمائے ہندوستان۹۴۴؍صفحات پر مشتمل ہے،جس میں ڈاکٹر خوشتر نورانی نےبرصغیر میںاٹھارویں اور انیس ویں  صدی کےایک ہزار مشاہیر علما ،مشائخ اور ادباکا۱۲۵؍برس نادر،قدیم اور مستندقلمی تذکرہ تاریخی نام مظہرالعلماء فی تراجم العلماء والکملاءپرتحقیق ،تدوین اور تحشیہ کا اہم کام کیا ہے ۔جو اپنے عرفی نام تذکرۂ علمائے ہندوستان کے نام سےزیورطبع سے آراستہ ہوکر اہل علم کے نگاہوں کی زینت بنا ہواہے ۔یہ عرفی نام تحقیق کار کا منتخب کردہ ہے، عرفی نام سے موسوم کرنے کے جواز کو بتاتے ہوئے تحقیق کار لکھتے ہیں:۔

’’مصنف نےاپنے عہد کے دستور کے مطابق اس تذکر ے کا عربی نام مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاءرکھا تھا ۔ تذکرے کے نام کا ابتدائی حصہ مظہر العلماء تاریخی ہے، جس سے اس کی تکمیلِ تصنیف کا سنہ ۱۳۱۷ھ(۱۸۹۹ء ) برآمد ہوتا ہے۔موجودہ عہد میں اس نام کی تفہیم اور ادائیگی آسان نہیں ہے،اس لیے راقم نے مذکورہ نام کے ساتھ کتاب کا عرفی نام تذکرۂ علمائے ہندوستان رکھ دیا ہے‘‘(ص:۴۱)۔

اس نایاب علمی تذکرے کی تحقیق وتدوین اور حواشی وتعلیقات لکھنے کی ضرورت کو بتاتے ہوئے تحقیق کار لکھتے ہیں:۔

’’مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاء‘‘جو تقریباً ایک سو پچیس برسوں سے محققین اور اسکالرز کی نگاہوں سے پوشیدہ رہا اور جس سے اصل حالت میں استفادہ نہایت دشوارکن تھا-چوں کہ ایک صدی کے طویل عرصے میں یہ نایاب مخطوطہ کافی بوسیدہ ہوچکاتھا، اس لیے معاصراورمستند تذکروں سے اس کے متن کی تصحیح اور تدوین ضروری تھی،نیز اس کی افادیت کو عام تر کرنے کے لیے علمی حواشی و تعلیقات کی بھی اشد ضرورت تھی، کیوں کہ اپنی قدامت، جامعیت اور ثقاہت کی وجہ سے ’’مظہر العلماء‘‘ کے متن کی حیثیت’’ریفرنس‘‘ (ماخذ)کی ہے، جن کے ذریعے تحقیقاتی عمل کو ایک نئی جہت ملے گی، بہت سے اوجھل گوشوں کا سراغ ملے گا اور ماضی میں بہت سے مشاہیر کے احوال اور ان کے عہد کے سماجی، ادبی اور تہذیبی حالات کے تعلق سے جو کچھ لکھا گیا ہے، ان کی ثقاہت متعین ہوسکے گی یا ان پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوگی‘‘۔(ص:۴۶)۔

کتاب کا انتساب شمالی ہند کی قدیم ترین اور شہرۂ آفاق درس گاہ، مدرسہ عالیہ قادریہ ،بدایوں کے نام کیاگیاہے،جس سے تحقیق کار کی اپنے مادر علمی اور خانقاہ عالیہ قادریہ ،بدایوںسے دلی وابستگی اور قلبی وروحانی لگاؤ کا اظہار ہوتا ہے۔مدرسہ قادریہ کے نام کتاب کے انتساب کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ان کا مادر علمی رہا ہے، جہاں انہوں نے اپنے عزیزازجاں دوست علامہ اسیدالحق قادری بدایو نی قدس سرہ کے ساتھ طالب علمی کے خوش گوار ایام بسر کیے ،دوسری وجہ یہ کہ یہ نایاب علمی مخطوطہ موصوف کو اسی ادارے کی نایاب لائبریری ’’کتب خانہ قادری‘‘ سے دستیاب ہوا۔

انتساب کے بعد تین صفحات میں مخطوطے کے سرورق ،درمیانی صفحےاورآخری صفحے کاعکس دیا گیا ہے، جن سے مخطوطے کی قدامت اور اصل صورت وہیئت کا بخوبی اندازہ ہوتاہے۔اس کےبعدص ۷تا۴۰ مشمولات کتاب کی الف بائی تفصیلی فہرست ہےجو مصنف کا مرتب کردہ ہے، البتہ تحقیق کار کے مطابق بعض مقامات پر یہ ترتیب باقی نہیںرہ سکی تھی، جس کی جہ سے بعض حضرات کےذکر میں تقدیم وتاخیر ہوگئی تھی، جسے تحقیق کار نے الف بائی ترتیب کے مطابق درست کرنے کے ساتھ موجودہ تحقیقی اسلوب کے پیش نظراس تذکرےکی انہوں نے ازسرفہرست مرتب کی ہے ۔ اس کے بعد چارصفحات میں  ’’ملاحظات‘‘ کے زیر عنوان ۲۲؍پوائنٹ میں اس نایاب تذکرے کے متن کی تدوین ،ترتیب ،تحقیق اوران پر حواشی و تعلیقات کے حوالے سےاصولِ تحقیق و تدوین متن کی روشنی میںانجام دیے گئے علمی کاموں کی تفصیل دی ہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ تحقیق کار نے اس علمی سفر کی دشت پیمائی میںکس قدرمشقتیں،عرق ریزی ،محنت ، جدوجہد اورجاںسوزی برداشت کرکے اس علمی و تحقیقی کام کوسر انجام دیاہے ۔یہ ’’ملاحظات ‘‘ مخطوطات اورقدیم کتابوں پر تحقیق کرنے والوں کے لیے رہنماہیں۔

اس کے بعد ’’پیش لفظ‘‘ کے زیر عنوان تحقیق کار نے تحقیق وتنقید متن کی علمی ،فنی اور تاریخی حیثیت پر فاضلانہ گفتگوکی ہے ،اورمخطوطے کی تحقیق وتدوین پرمقالہ تحقیق کے رجسٹریشن سے لے کر تکمیل تک کی سرگذشت کو قلم بند کیاہے ۔پیش لفظ میں تحقیق کار نے ان تمام افراد وشخصیات کا انفرادی اور الگ الگ ذکر کیا ہے جنہوں نے کسی بھی طرح موصوف کے اس علمی وتحقیقی کام میں تعاون کیا ہے ،خیر سے ان خوش نصیبوں میںاس حقیر کا بھی ذکر خیر موجود ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے موضوع کاجامع تعارف کراتے ہوئےاردوکے قدیم مدون تذکروں کے مابین اس علمی تذکرے کی جامعیت ،ثقاہت اور امتیازات واولیا ت پرناقابل تردیدحقائق وانکشافات پیش کیے ہیں ،بعض حیثیتوںسے اس اہم تذکرے کو انہوں نے سرسید کی’’ آثارالصنادید‘‘اور مولوی عبدالباقی سہسوانی کی’’ حیات العلماء‘‘پر فوقیت دی ہے ،جس میں وہ حق بجانب ہیں بلکہ میرے تحقیق ومطالعہ کی حد تک اردوزبان کا یہ اب تک کا سب سے جامع ،وقیع اورعلمی تذکرہ ہے جس میں بر صغیر ہند وپاک کے مختلف علاقے ،بلاد وامصاراور اماکن نیز مختلف افکار ونظریات کی حامل شخصیات کاتذکرہ شامل ہے ۔عربی زبان میںمولانا سید عبدالحی رائے بریلوی اور فارسی زبان میں مولانا رحمن علی کی تذکرہ علمائےہند کے دوش بدوش اردوزبان کا یہ قاموسی تذکرہ استنادی اور علمی حیثیت سے شاہ کار تذکرہ ہے، جو ہر طبقے کے خوان مطالعہ کی زینت بنے گا۔اس تذکرے کی وسعت وجامعیت کو بتاتے ہوئے تحقیق کار لکھتے ہیں:۔

’’اس تذکرے میں ہر مسلک و مشرب کے مشاہیر فاضلین کے احوال درج کیے گئے ہیں،جوتذکرے کی وسعت و جامعیت کی بڑی دلیل ہے- اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف کا ایک مخصوص مذہبی مسلک و مشرب سے تعلق ہونے کے باوجودانھوں نے نہایت وسعت قلبی کے ساتھ ہر مسلک کی اہم شخصیات کو نہ صرف اپنی کتاب میں شامل کیا ہے بلکہ ہر ایک کا ذکر ،ان کے القاب و آداب،ذاتی احوال اورعلمی و ادبی خدمات کوحسب حیثیت پوری دیانت کے ساتھ لکھا ہے،اس کے درمیان مصنف کا مسلک و نظریہ حائل نہیں ہوسکا ہے-تاریخ اور تذکرہ نگاری کی یہ بنیادی شرط ہے،جس کا مصنف کو بخوبی ادراک تھا- راقم نے بھی اس کی تدوین وترتیب اور حواشی وتعلیقات تحریرکرنے میں مصنف کی اس علمی و تحقیقی اسپرٹ کو برقراررکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے،امید ہے کہ اس علمی تذکرے کا مطالعہ بھی اسی اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے گا ۔ ‘‘ (ص:۵۱)۔

تحقیق کارکےپیش لفظ کے بعدمقدمہ مصنف ہوناچاہیے تھا، جس کے اہم اور ضروری اقتباسات کوتحقیق کار نے کتاب کے پہلے اور دوسرے باب تعارف مصنف وتعارف مخطوطہ کے ذیل میں نقل کیا ہے، غالبا اس خیال سے کہ جب اس کے اہم اقتباسات نقل کیے جاچکے ہیںالگ سے مقدمہ مصنف کےشمولیت کی ضرورت نہیں، تحقیق کار نے اسے شامل نہیں کیاہے، لیکن میرے خیال سے اس کی عدم شمولیت اس وجہ سے مناسب نہیںکیوں کہ کتاب مقدمہ ،ابواب اور خاتمہ کے مجموعہ کا نام ہے ۔

پیش لفظ کے بعدموضوع تحقیق کے مطابق بالترتیب۶ ؍ابواب ہیں،ابواب کی ترتیب میں مضامینی ربط کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب تبدیلی کی ہے اور اخیر میں ’’کتابیات ‘‘کے زیرعنوان اردو،عربی اور فارسی کی تقریبا۳۶۸؍کتابوںاور مصادر ومراجع کی تفصیلی فہرست ہے،جواپنے آپ میں تراجم و تذکروں پر تحقیق کارکی گہری نظراور محنت وجستجو کا اشاریہ ہے۔

کتاب میں شامل ابواب کی اجمالی تفصیل اس طرح ہے:۔

تعارف مصنف ،تعارف مخطوطہ،متن مخطوطہ،تکملہ، حواشی وتعلیقا ت، وضاحتی اشاریہ۔

پہلے باب میں مصنف کتاب مولانا سید محمد حسین بدایونی (ف:۱۹۱۸ء) کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا،مصنف کا یہ مفصل تعارف،جو ان کے ذاتی احوال سے لے کر علمی و ادبی خدمات پر مشتمل ہے، تحقیق کار کے مطابق پہلی باراہل علم کے سامنے آرہا ہے،کیوں کہ ان کا تعارف کسی بھی معا صر تذکرے میں نہیں ملتا۔اس میں انھوں نے مصنف کے شجرہ نسب، پیدائش،تعلیم وتربیت،عملی زندگی،بیعت وارادت،خلافت واجازت، اجازت حدیث،نکاح اور اولادیں،شعروسخن اور تاریخ گوئی ، تصانیف وتالیف اوروصال جیسے عناصر پہ قیمتی اور انکشافی مواد کو پیش کیا ہے ۔ تصانیف وتالیف کے ذیل میں تحقیق کار نے خود مصنف کتاب کی ایک تحریر کی روشنی ان کی ۵۲؍تصانیف کی نشاندہی کی ہے۔

دوسرےباب میںقلمی مخطوطہ’’مظہر العلماء‘‘کاتفصیلی تعار ف کرایاگیاہے،جس میں،متن مخطوطہ کا پس منظر،تعارف مخطوطہ، مخطو طےکی ترتیب و مشمولات ، مظہرالعلماء کے مختلف قلمی نسخے، مخطوطے کی خصوصیا ت اورمخطوطے کی استنادی حیثیت جیسے ذیلی عناوین پر محققانہ گفتگو کی گئی ہے۔ان عناوین کے تحت اس  ۱۲۵؍ برس قدیم تذکرے کی استناد ی حیثیت کو اجاگرکرنے کےلیے مختلف جہتوں کوزیر بحث لایا گیاہے۔

تیسراباب’’ متن مخطوطہ ‘‘ ہے،جس میں ۶۷۷؍شخصیات کا تذکر ہ ہے جسےمصنف نےیکم رمضا ن  ۱۳۱۵ھ/۲۴؍جنوری ۱۸۹۷ء کو کیا اور ۱۲؍ربیع الاول۱۳۱۷ھ/۲۱؍جولائی ۱۸۹۹ء کو مکمل کرلیا۔تاہم ۱۳۳۶ھ /۱۹۱۷ء تک اس تذکرے میںاضافے ہوتے رہے،۱۹۱۸ء میں مصنف کا وصال ہوگیا، اس لیے اضافوں کا سلسلہ بندہوگیا۔یہ باب تحقیق کار کے مطابق اس ریسرچ ورک کا بنیادی اور اہم حصہ ہے اس باب کی اصول تدوین وتحقیق کی روشنی میں تدوین و تصحیح کے ساتھ حسب ضرورت تعلیقات وحواشی قلم بند کیے گئے ہیں۔تحقیق کار کے یہ حواشی وتعلیقات ان کے عالمانہ ومحققانہ فکروصلاحیت کا غماز ہونے کے ساتھ ان کے وسعت مطالعہ ، بلند فکر ی اور مصادر وماخذپر گہری نظر کا اشاریہ ہے ۔ یہ تعلیقات وحواشی اس قدر جامع ،محقق،مفصل اور بسیط ہیں کہ بجائے خود مستقل تصنیف کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ،اسی وجہ سے ان تعلیقات وحواشی کو متعلقہ صفحات پر دینے کے بجائے ایک علیحدہ ومستقل پانچواںباب’ ’حواشی وتعلیقات ‘‘ کے تحت رکھاگیاہے ۔متن مخطو طہ کی اہمیت اورانفرادیت کو بتانے اور واضح کرنے کے لیے دوسرے باب تعارف مخطوطہ کے ذیل میںتحقیق کار نےخود ہی آٹھ اہم اور توجہ طلب نکات میں تفصیلی گفتگو کی ہے، جس سے متن مخطوطہ کی اہمیت ، انفرادیت ،جامعیت اور وسعت کے اہم گوشے قارئین کے سامنے آجاتے ہیں ۔ تحقیق کار کی یہ تجزیاتی گفتگو۳ ۷تا ۷۷مخطوطے کی خصوصیات کےذیلی عنوان سےشامل ہے۔

تیسرے باب میںمتن مخطوطہ کی تدوین وتصحیح میںجدید تدوینی وتحقیقی اصول کے تحت درج ذیل امور کا خصوصی خیال رکھا ہےتاکہ دوران مطالعہ قاری کسی طرح کے ذہنی خلجان کا شکار نہ ہواوران کے لیے متن کی قراءت آسان سے آسان تر ہو۔

ہرشخصیت کے تذکرے کے آغاز سے قبل، تحقیق کارنے جدید تذکرہ نگاری کے مروجہ اسلوب کے پیش نظر بطور عنوان(ہیڈنگ) ان کا نام اوراس کے نیچے ان کا سنہ ولادت ووفات کا اضافہ کیا ہے ، جب کہ مخطوطے میں مصنف نے صرف ان کے نام کے ذکر پر اکتفا کیا تھا۔ مصنف کے متن میں ہرشخصیت کے تذکرے کے آغازمیں نمبرشماردیا گیا ہے۔قارئین کےلیے متن کی قراءت کی آسانی اورجدید رسم الخط واملا کے اصول کے پیش نظررموز اوقاف کا اہتمام کیا گیاہے۔موجودہ عہد کے اسلوب کی رعایت کرتے ہوئےمصنف کتاب نےسلسلہ کلام کے درمیان جہاں کہیں مختصر یا طویل جملہ معترضہ استعمال کیاتھا،ان سارے مقامات پرتحقیق کار نےجملہ معترضہ کوبین القوسین کردیاہے ۔ اسی طرح جن مقامات پرانہوں نے متن کے تسلسل وربط کو قائم رکھنے،یاتصحیح متن کےلیے عبارت یاالفاظ کا اضافہ کیا ہے انہیں بھی ایک علاحدہ مخصوص بریکٹ میں دیا ہے ۔اس باب میںتحقیق کار نے ایک اہم کام یہ بھی کیا ہے کہ مصنف نے اپنے زمانے کے عام مزاج واسلو ب کے مطابق شخصیات کے تاریخ وسنین ولادت ووصال میں صرف سنہ ہجری کے ذکر پر اکتفا کیا تھا، ہرجگہ تحقیق کار نےرائج اسلوب نگارش کے پیش نظر ان کا سنہ عیسوی سے مطابقت کرکے عیسوی تواریخ وسنین کو بھی درج کردیا ہے ۔

ان تفصیلات کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکے کہ تحقیق کار نے متن کی تدوین وتصحیح میں اصول تدوین وتحقیق کاکس قدر دیانت دارانہ خیال رکھاہےاور سواصدی پرانےاور ضخیم مخطوطے کے متن کوموجودہ عہد کےرائج اسلوب واملا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کس قدر فنی وعلمی مہارت کاثبوت پیش کیاہے۔اس عمل میںتحقیق کار کی جاں فشانی اور دماغ سوزی کا صحیح اندازہ وہی کرسکتے ہیںجنہیں اس طرح کے کاموں سے سابقہ پڑا ہو۔تدوین وتصحیح متن کا یہ کام بجائے خود اتنادشوارگزار اور دقت طلب تھاکہ اسی کے لیے خاصا وقت اور محنت مطلوب تھی،اس پر مستزاد یہ کہ تحقیق کار نے تیسرے باب میںمتن مخطوطہ کی تدوین وتصحیح کے ساتھ اس طویل وضخیم متن پر حواشی وتعلیقات بھی قلم بند کیے جو تحقیق کار کے میدان تحقیق سے خصوصی دل چسپی اور جوکھم بھری طبیعت کا غماز ہے۔

متن مخطوطہ کے بعد چوتھا باب تکملہ کے زیر عنوان ہے۔یہ بھی دراصل متن مخطوطہ کا ایک حصہ ہے،جس کی وجہ سے اسے متن مخطوطہ کے باب سے متصلا رکھا گیا ہے ،اس باب میںتحقیق کار کے مطابق ان۳۶۸ ؍شخصیات کے اسما، جائےسکونت کے ساتھ درج ہیں،جن کا تذکرہ مصنف کتاب لکھنا چاہتے تھے، لیکن ان علما اور ادبا کا تذکرہ وہ نہ لکھ سکے، البتہ کچھ ناموں کے ساتھ چند سطری کوائف تحریر کیے،جسے تحقیق کار نے علی حالہ متن کے ساتھ ہی باقی رکھا ہے،اس باب میں بھی تحقیق کار نے بہت سی مشاہیر شخصیات، جن کا ذکر انہیںتلاش وتتبع کے بعد معاصرتذکروں میں دستیاب ہوسکا ،اسے متعلقہ صفحہ ہی پر حواشی کے تحت تحریر کردیا ہے۔اس باب پر مزید محنت کی ضرورت ہے تاکہ جن شخصیات کا صرف نام درج ہے، ان کے احوال بھی سامنے آجائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ سبھی حضرات کا تذکرہ ملنا تو بہت مشکل ہے ،لیکن راقم کے خیال میںجتنے حضرات کے نام تکملہ کے تحت درج ہیں، ان میں سے بہت سی شخصیات کا تذکرہ تھوڑی بہت تلاش وجستجو کے بعد مرتب کیا جاسکتاہے ۔

تکملہ کے بعد پانچواں باب تعلیقات وحواشی کے زیر عنوان ہے، جس میں متن مخطوطہ پر طویل حواشی اورتعلیقا ت ہیں،یہ صفحہ ۴۵۵؍ سے۸۳۵؍صفحہ تک درج ہے ۔  تدوین متن کی طرح حواشی وتعلیقات کو تحقیق کار نے کس قدر محنت،جاں فشانی اور عرق ریزی سے تحریر کیا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ انہوںنے اسے قلم بند کرنے میں اردو،عربی اور فارسی کی تقریباً ۳۰۰؍سو سے زائد مطبوعہ کتابوں ، تذکروں اور مخطوطات سے استفادہ کیاہے،جن کی تفصیلی فہرست ’’کتابیا ت‘‘ کے تحت درج ہے۔ان حواشی وتعلیقات کی ترتیب وتکمیل میں تحقیق کار نے جن امور کا خصوصی خیال رکھاہےوہ حسب ذیل ہیں:۔

۱۔متن میں جن مقامات پرمصنف نے عربی یا فارسی کے اقتباسا ت نقل کیے ہیں،ان کا حواشی و تعلیقات کے ذیل میںاردو ترجمہ کردیاگیا ہے ۔

۲۔متن میں جہاں کہیں قرآنی آ یت یا حدیث مذکور ہے،ان کی تخریج کردی گئی ہے۔

۳۔حواشی و تعلیقات میںہر شخصیت کے ذیل میں جن اردو،عربی اور فارسی کے معاصراور مستندتذکروں اور مخطوطات میں ان کے احوال شامل ہیں،اُن تمام اہم اور بنیادی مطبوعہ کتب اور قلمی مخطوطے کا ذکرصفحہ نمبراورجلد کی تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔

۴۔متن میںجن شخصیات کی تاریخ ولادت و وصال کا ذکر نہیں ہے ،مختلف مصادر ومراجع کی جانب رجوع کرکے اس کی تحقیق کی گئی ہے ۔

۵۔متن میں شخصیات سے متعلق کوئی قابل ذکر بات رہ گئی ہے، یا کسی بات کی وضاحت مطلوب ہے تو اسے بھی اختصار کے ساتھ حواشی میں درج کیاگیا ہے۔

۶۔متن میں بہت سے ایسے مشاہیرجن کے احوال مصنف کو نہ مل سکےتھے،جس کی وجہ سے صرف چندجملوں میں ان کے احوال مرقوم تھے، ایسے تمام مشاہیر کاتحقیق کارنےحواشی میں اجمالاًمگر جامع تعارف کرایاہے۔

۷۔شخصیات کے ذکر میںاحوال ،خدمات ،یاسنین وتواریخ ولاد ت ووصال کے ضمن میںمصنف کےتسامحات اور فروگذاشت کوبھی دور کیا گیا ہے ۔

۸۔جہاں کہیں مصنف کی عبارت یارائے کومعاصر ماخذ سے تقویت کی ضرورت تھی اسے محقق وموکد کیا گیاہے۔

۹۔جہاں کہیں مصنف کی رائے سے دیگر اولین ماخذاور مستند ماخذکی روشنی میں اختلاف کیاگیا ہےوہاں مصنف کی رائے کی نادرستی وعدم صحت کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور صحیح موقف کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

۱۰۔جہاں کہیںتذکرئہ شخصیات کے ذیل میںتاریخ وسنین کے ذکر میںمصنف اور دیگر تذکرہ نگاروں کے درمیاںاختلاف رائے موجو د ہے،وہاں تحقیق کار نے اختلاف رائے کو ذکر کرنے کے ساتھ درست رائے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

۱۱۔جن مقامات پر تذکرہ نگاری میں مصنف سےسہو ہوا ہے یا خلا ف واقعہ بات کا اندراج ہواہے تو ایسے مقامات پرمعاصر ماخذ سے مصنف کی خطاکی نشاندہی کے ساتھ اصل حقائق کو دلائل سے ذکر کیا گیا ہے ۔

۱۲۔شخصیات کے ذکر میںاحوال کے ساتھ بطور خاص علمی خدما ت ذکر کیا گیا ہے ۔

راقم کے پاس ان سارے پہلوئوںپر بطور نمونہ نظائر وشواہد موجو د ہیںجو تذکرۂ ہذا کے بالاستیعاب مطالعے کے بعد سامنے آئے،اگر نظائر کی روشنی میں درج بالاخصوصیات پرگفتگو کی جائےتوبات بہت طویل ہوجائے، اس لیے شواہد سے دانستہ صرف نظر کیاگیاہے۔ درج بالا امور کی رعایت کے ساتھ تحقیق کار کے حاشیہ نگاری اور تعلیقات کاسب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے متن میںمصنف کے ذکر کردہ احوال کا اپنے حواشی وتعلیقات میں بالکل اعادہ نہیں کیاہے، بلکہ متن میں مذکور احوال و علمی خدمات کے علاوہ اضافی احوال وخدمات کو حیطۂ تحریرمیں لایا گیاہے ۔اس طرح تعلیقات وحواشی تحریر کرنے میںحاشیہ نگاری وتعلیقات کےعلمی وفنی اصول کی بھرپور پاس داری کی گئی ہے اور کتاب کی ضخامت وحجم بڑھانےکے بجائے متن کے ساتھ حواشی کے مواد کی قدر وقیمت پر خصوصی توجہ مبذول کی گئی ہے۔

چھٹا باب ’’وضاحتی اشاریہ‘‘پرمشتمل ہے،اس باب میں متن مخطوطہ،تکملہ اور حواشی و تعلیقات میں جتنی بھی شخصیات،اماکن اورکتابیں مذکورہوئی ہیں ، ان کا اشاریہ مرتب کیا گیا ہے،جس کی ترتیب میں مولا نا عبدالعلیم قادری مجیدی (فاضل مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں)نے خصوصی تعاون کیا ہے۔

اخیر میں’’کتابیات‘‘کے عنوان سے متن مخطوطہ،تکملہ اور حواشی و تعلیقات میں راقم کے ذریعے دیے گئے حوالوں کی تفصیل،مصنف،سنہ طباعت اور مطبع وناشر کی تفصیلات کے ساتھ درج کردی گئی ہیں۔

اس طرح تدوین ،تحقیق اورعلمی حواشی وتعلیقات کے ذریعےاس ایک صدی پرانے تذکرے کوتحقیق کارنےحیات جاودانی بخش دی ہے۔ راقم کا اپنا خیال ہے کہ مصنف نے ہرطرح کی عصبیت سے اوپراٹھ کرجس اخلاص وللہیت سےاس تذکرےکومرتب کیا تھااسی کا نتیجہ ہے کہ اس موسوعی تذکرے کی تحقیق وتدوین اورترتیب کی ذمہ داری ’’دیر آید درست آید‘‘کے مطابق دورحاضرکے نامور اورغیر متعصب محقق ومورخ کے ذریعے انجام پائی اور سواسوسال بعدیہ علمی اثاثہ قوم کے حوالے ہوا۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ارشادعالم نعمانی

تبصرہ نگارشعبہ اسلامک سٹڈیز،ہمدردیونیورسٹی نئی دہلی کے ریسرچ اسکالرہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment