فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 حالاتحاضرہ

تذکرۂ علمائے ہندوستان میں سرسیدکاترجمہ

ڈاکٹرشمس بدایونی

خوشتر نورانی میری بعد کی نسل کے ہونہار ،ذہین،طباع اور صاحب قلم عالم ہیں۔انہوںنے اور مولانا اسید الحق قادری (ف۲۰۱۴ء) نے ایک ساتھ علمی سفر شروع کیا تھا اور اپنے اپنے میدانوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کیاتھا۔ماہ نامہ’’ جام نور‘‘ دہلی ان کی علمی فتوحات کاآرگن بنا۔ انہوںنے شاہ اسماعیل شہید کی توحید خالص اور سید احمد شہید کی تحریک جہاد پر بعض علمی سوالات قائم کیے اور متعدد کتابوں کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ۔

زیر نظر تذکرہ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے،جو ستمبر ۲۰۱۸ء میں ۹۴۴؍ صفحات پر چھپ کر شائع ہوا۔اسے ان کے اپنے ادارے مکتبہ جام نور دہلی نے شائع کیا ہے۔یہ تذکرہ در اصل ایک قدیم مخطوطے کی تدو ین ہے،جو ایک غیر معروف عالم مولانا سید محمد حسین بدایونی (ف ۱۹۱۸ء) نے باسم’ ’مظہر العلماء  فی تراجم العلما والکملاء‘‘ مرتب کیا تھا ، اس میں مختلف مسالک کے ۶۷۷؍ علما کے تراجم ہیں ؛ جس کی تکمیل ۱۸۹۹ء میں ہو گئی تھی اور یہ نسخہ خانقاہ عالیہ قادریہ کے کتب خانے کا حصہ تھا۔ موصوف نے اسے جدید اصول تحقیق و تدوین پر باسم’’ تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ مرتب وشائع کیا۔

مرتب موصوف اپنی ہر کتاب مجھے بھیجتے ہیں ،سال گزشتہ یہ تذکرہ بھی انہوںنے مجھے بھیجا تھا اور میں نے اپنے معمول کے مطابق اسی دن اور رات میں اس کا مطالعہ کر لیاتھا۔ فوری طور پر مؤلف تذکرہ کے لیے کلمات خیر زبان پر جاری ہوئے اور مرتب و مدون کے محنت کی داد کو ایک تبصرے پر اٹھا رکھا ،لیکن اس کی نوبت ابھی تک نہیں آسکی۔

اس تذکرے کے مؤلف مولا نا سید محمد حسین ،سر سید احمد خاں کے معاصر ہیں اور ان کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سر سید کی تعلیمی تحریک سے بھی خاصی واقفیت رکھتے ہیں ۔اُن علما کے بر خلاف جو سر سید کو کافر ،ملحد یا نیچری کہتے تھے، ان کا رویہ روا دارانہ ہے؛ جب کہ اسی بدایوں کے ایک اور معاصر سر سید مولوی علی بخش خاں شرر (ف۱۸۸۵ء)کے سرسید کے رد میں رسائل موجود ہیں ۔ ایک ہی عہد میں، ایک ہی جگہ ،ایک فرد کے بارےمیں دو قسم کے خیالات [مثبت و منفی] اس فرد کی عظمت کا ثبوت ہیں۔

یہ تذکرہ ضخیم ہےاور اس کا موضوع علما ہیں،اس لیے خیال گزرا کہ سر سید کے احوال اور ان سے متعلق صاحب تذکرہ نے جو رائے دی ہے اسے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے ذریعے علی گڑھ دوستوں کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مؤلف تذکرہ نے سر سید کے سفر انگلستان کے ضمن میں یہ اطلاع بھی دی ہے کہ سر سید نے وہاں ایک مسجد بھی تعمیر کرائی ۔اس کا سر سید کے اپنے بیانات و دوسرے معاصر مآخذ سے تائید نہیں ہوتی۔اس بیان کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک ہی عہد میں دو متضاد آرا ہر بڑے شخص کا مقدر ہیں۔حالی نے سر سید کے اسی سفر انگستان پر ،قوم کی متعدد پھبتیوں کو نقل کیا ہے۔ (مکہ کے بدلے لندن کے حج کو جاتے ہیں، لندن جا کر ٹکسالی کرسٹان ہوکر آئیں گے ۔[حیات جاوید ؛۵۳۹، دہلی ۱۹۱۲ء]) ان ہی پھبتیوں  کے دوران یہ اطلاع بھی گشت کرتی ہے کہ سر سید نے انگلینڈ میں مسجد تعمیر کرا دی۔دو انتہائیں ہر بڑے انسان کا تعاقب کیا کرتی ہیں ۔غالب و سر سید دونوں کے احوال میں اس طرح کی مثالیں مل جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ مؤلف تذکرہ نے ایک اہم بات کی طرف بھی متوجہ کیا ہے، جو آج بھی مسلم علما کے درمیان گشت کرتی رہتی ہے کہ

’’ اس میں بڑا بھاری اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا سید صاحب نے اپنے خیالات سے (جو زمانے کی رفتار پر بہ نیت بہبودی و ترقی قوم کی خاطر تھے)توبہ کی یا نہیں ، لیکن میری تحقیقات سے یہی امر بخوبی پائے ثبوت کو پہنچا ہے کہ بہ صدق دل ، بہ گریہ و زاری توبہ کی و کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بآواز بلند پڑھا۔‘‘ (ص:۹۵)۔

بہر کیف،اس تذکرے میں شامل سر سید کے احوال ایک معاصر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں؛یہی جواز ہے اس ترجمہ کو یہاں نقل کرنے کا ۔

سرسیداحمدخاں دہلوی:۔

نجم الہندسید احمد خاں دہلوی ثم علی گڑھی، ابن سیدمحمد متقی ابن سید محمد ہادی، ۱۷؍اکتوبر ۱۸۱۷ء کو آپ کی ولادت باسعادت ہوئی- ابتدائی تعلیم بچپن میں ہی اپنی والدہ ماجدہ سے پائی، بعد ازاں مولوی عنا یت رسول  چریاکوٹی سے فراغ حاصل کیا- عالم ،عاقل، مدبر، منتظم، بالخصوص مسلمانوں کے ہمدرد و خیر خواہ، مونس و جاں نثار [تھے]- ہندوستان میں مسلمانوں کو انگریزی عمل داری میں[جو کچھ] بیتی ، آپ کے سبب مالی یا ملکی ترقی ہوئی، وہ ایسی نہیں جو قابل فروگزاشت ہو۱۔

غدر ۱۸۵۷ء سے جو دلی نفرت اور بدظنی انگریز وں کو مسلمانوں سے تھی، اُس کا دور کرنا آپ کا ہی کام تھا- جو کام کیا، زمانے کی رفتار پر کیا- ۱۸۶۲ء میں ایک جلسہ غازی پور میں کیا، جس سے انگریز بھی متفق ہوئے- ۱۸۶۴ء میں ۳۰؍ نومبر کو علی گڑھ میں ایک مکان علمی جلسے کے واسطے بنایا، جہاں سے ایک اخبار اُردو رومن میں جاری کیا، مطبع ہوا- انگریزی (رومن) اُردو میں، فلسفہ، تاریخ، حکمت، قانون، تہذیب اخلاق وغیرہ میں کتابیں چھپنا شروع ہوئیں- ۱۸۷۰ء میں جب آپ کا تبادلہ جوڈیشلی بنارس کو ہوا تو وہاں ایک جلسہ منعقد کیا اور اہل اِسلام کے دلوں میں یہ امر جاگزیں کیا کہ ضرور ہم کو عربی، فارسی، اُردو کے ساتھ انگریزی بھی حاصل کرنا چاہیے، بغیر اس کے انگریز ی عمل داری میں رہ کر ہماری قوم ترقی کے زینے پر نہیں چڑھ سکتی، چناں چہ اِس بارے میں’’ تہذیب الاخلاق‘‘ رسالہ جاری کیا- اس وقت تک مسلمانو ں کو انگریزی زبان سے دلی نفرت تھی- ۱۸۷۴ء میں ایک جلسہ بنام ’’محمڈن انگلو‘‘ قائم کیا اور اس میں ایک مدرسہ جاری کرنے کی رائے قرار پائی، جس میں گورنمنٹی طور پر تعلیم نہ ہو، بلکہ انگریزی تعلیم دینیات کے ساتھ ہو اور اُس کو انگریزی ملازمت بھی حاصل ہو سکے، چناں چہ باتفاق اہل الرا ئے ، یہ مدرسہ ۲۴؍مئی ۱۸۷۴ء کو علی گڑھ میں بنام ’’مدرسۃ العلوم علی گڑھ‘‘ جاری کیا گیا۔

اول ہی مرتبہ کارل آف لارڈ نارتھ بروک صاحب نے اِس مدرسے کی اعانت میں دس ہزار روپے دیے- ہندوستان میں اول یہی شخص[سرسیداحمد خاں] ہے، جس نے مخالفین کو موافقین میں کر لیا- سب سے زر چندہ لیا، مسلمانوں میں انگریزی زبان کا حاصل کرنا لازمی قرار پایا۔

۱۴؍مارچ ۱۸۹۶ء کے گزٹ، جلد اول، نمبر ۷؍ سے[مدرسۃ العلوم کا] آمد و خرچ ظاہر کیا جاتا ہے۔

آمد

عطیۂ نظام حیدرآباد                                   ۲۴۰۰۰

عطیہ گورنمنٹ                           ۱۳؍۱۲۸۳

عطیۂ ریاستہائے ہند                                 ۳۰۴۹

فیس داخلہ                                               ۱۳؍۱۱۲۷۰

کرایۂ مکانات از طلبہ                               ۲۹۹۶

کرایۂ مکانات مدرسین وغیرہ                       ۱۴؍۵۰۰۳

نوٹ: و دیگر ذرائع مستقل              ۱۹۶۰

میزان کل                                               ۱؍۶۴۳۶۴

خرچ

خرچ تنخواہ مدرسین                                  ۵؍۳۱۹۳۵

تنخواہ مدرسین قانونی مع اخراجات               ۳۹۰۰

تنخواہ پروفیسران ہندوستانی            ۴۷۸۰

تنخواہ دیگر ملازمین                                ۳۶۰

وظائف و انعام                             ۱۳۰۰

تنخواہ ٹیچران                              ۷۳۰۵

تنخواہ ادنیٰ ملازمین                                  ۴۰۰

دیگر اخراجات موسمی و کرایہ وغیرہ                      ۱۷۹۳

اخراجات دفتر سکریٹری                             ۱۲۷۶

ادائی اقساط قرضہ گورنمنٹ                        ۵۳۵۲

تعلیم مذہبی مع

(تنخواہ مولوی عبداللہ ،واعظ و امام مسجد )    ۱۳۸۳

اخراجات متعلق دارالطلبہ مدرسہ                 ۱۷۸۷

غرض اور اخراجات بھی منہا کرنے کے بعد تقریباً دو ہزار روپیہ سالانہ کی بچت ہے-

مسجد میں سنی، شیعہ، اہل حدیث سب نماز پڑھتے ہیں- مسجد کی تعمیر میں والیہ بھوپال نے دس ہزار روپے دیا – سید صاحب اپنے دونوں لڑکوں (حامد، محمود) کو لندن اعلیٰ درجے کی تعلیم انگریزی حاصل کرنے کی غرض سے لندن تشریف لے گئے اور وہاں ایک مسجد تعمیر کرادی- اس میں بڑا بھاری اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا سید صاحب نے اپنے خیالات سے (جو زمانے کی رفتار پر بہ نیت بہبودی و ترقی قوم کی خاطر تھے) توبہ کی یا نہیں، لیکن میری تحقیقات سے یہی امر بخوبی پایۂ ثبوت کو پہنچا ہے کہ آپ نے بصدق دل بگریہ و زاری توبہ کی اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ بآواز بلند پڑھا-نیت پر کل اعمال کا دارومدار ہے ،جس میں ننانوے باتیں خلاف ہوں اور ایک بات بھی اسلام کی پائی جائے، پس وہ مسلمان ہی ہے- احاطۂ اسلام وسیع ہے ،خدا مالک اور قادر ہے- ہم کو کل مومن اخوۃ پر عمل کرنا چاہیے -وہاں اکثر ضروریات دین کے منکر تھے اور اِسی باعث تفسیر بالرائے لکھی، جس سے آخر میں تائب ہوئے ، خدا اُن کی توبہ قبول کرے-

مذہب اسلام ہی بیشک (فطرت یا نیچر) کے مطابق ہے- کوئی اہل مذہب، اپنے مذہب کی صداقت، مذہب اسلام کے مقابل ثابت نہیں کر سکتا-’’ خطبات احمدیہ‘‘ میں سید صاحب نے یہ امر بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ جو سلوک جملہ اہل مذاہب پر اہل اسلام نے کیا ،وہ کسی اور سے ظاہر نہیں ہوا، بالخصوص انگریز مسلمانوں کے بارِ احسان سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہو سکتے-علمائے اسلام نے ازروئے عقائد اگرچہ آپ پر تضلیل و تفسیق اور تکفیر تک کے فتاویٰ جاری کیے، مگر آپ قومی بہبودی وخیرخواہی سے،جس طور ممکن ہوا،سرمو نہ پھرے،دینیات کے ہمراہ دنیاوی ترقی و بہبودی اہل اسلام کے دل و جان سے ساعی و کوشاں رہے-

بتاریخ ۴؍ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ۲۷؍مارچ ۱۸۹۸ء ،بروز یک شنبہ،۱۰؍بجے رات آپ کا وصال ہوا-

آپ کا نام فہرست حکمائے ہند میں اول نمبر پر ہے- اگر زمانے کی رفتار پر قرآن شریف کی تفسیر بالرائے نہ لکھتے تو اسلامی بہبودی بھی مد نظر رہتی- یہ ازروئے تحقیق ثابت ہے کہ آپ کے جنازے کی نماز علما ئے کرام و مفتیان عظام نے پڑھی-آپ کے دوستوں نے سید صاحب کی یادگار میں یونیورسٹی قائم کرنے کا ارادہ کیا ہے، جو آکسفورڈ اورکیمبرج کے ہم پایہ ہو- آپ کی تعزیت میں ہندو، مسلمان، عیسائی، یوروپین انگریز سب شریک ہوئے- ہر ایک نے پیغام، تعزیت کے بھیجے ،اخباروں میں قطعات تاریخ شائع ہوئے-

یوں تو سید صاحب کے مضامین مختلف اخبارات ورسائل میں بکثرت پائے جاتے ہیں، یہاں مطبوعہ کتابوں اور رسالوں کے نام لکھے جاتے ہیں:۔

احکام طعام اہل کتاب (اُردو)۔ تصانیف احمدیہ، جلد اول( جس میں آٹھ کتابیں ہیں)۔تصانیف احمد یہ جلد دوم( خطبات)۔ ترقیم فی قصہ اصحاب کہف والرقیم۔ ازالۃ الغین عن ذی القرنین۔النظر فی بعض مسائل امام الہمام[الغزالی]۔ تفاسیر (چھ جلد)۔ تفسیر توراۃ والانجیل۔ تفسیر الجن والجان علیٰ ما فی القرآن۔ تبریۃ الاسلام عن شیون امتہ والغلام[معروف بہ رسالہ ابطال غلامی]۔ مضامین تہذیب الاخلاق۔ مجموعہ مضامین سرسید۔ ازوا ج مطہرات بجواب امہات المومنین(عیسائی کا رد)-

مذہب کے اعتبار سے سید صاحب کی کل تحریرات علما کی نظروں سے گری ہوئی ہیں-

سید صاحب کے دلی دوست اور مددگار خاص الخاص حضرات ذیل رہے :

مولوی سید الطاف حسین حالیؔ( قومی مرثیہ خواں)، محسن الملک نواب مہدی علی خاں، شمس العلما ،خان بہادر مولوی محمد ذکا اللہ خاں دہلوی( پروفیسر ورنیکیولر سائنس یونیورسٹی الہ آباد)،مولوی محمد شبلی[نعمانی] ،شمس العلما مولوی حافظ نذیر احمد دہلوی، نواب مزمل اللہ خان –

قطعہ تاریخ وفات از منشی محمد مشتاق اللہ (ٹھیکہ دارنہر گنگ، ضلع میرٹھ)

رباعی

ہستی سے ہوا جو سید احمد آزاد

تو قوم نے رو کے یہ مچا دی فریاد

اِس ضرب ستم سے قوم × آزاد تری

برباد ہوئے بنا کے تیرے اعداد

قوم × آزاد = ۱۴۶ ×۱۳ = ۱۸۹۸ عیسوی

نہ کیا اُلٹا تری رحلت نے اے سرسید احمد خان

نصیب قوم اور ہم اور زمین اور آسمان اُلٹا

اعداد مستوی :  نصیب قوم = ۲۹۸ وہم ۴۵ وزمین = ۱۰۷ و آسمان = ۱۵۲

اعداد مقلوب مجموعہ:  ۸۹۲ + ۵۴ + ۷۰۱ +۲۵۱ = ۱۸۹۸  عیسوی

 

  معروف محقق وادیب ڈاکٹرشمس بدایونی کا یہ مضمون ہندوستان کے معروف علمی مجلہ ماہ نامہ’’تہذیب الاخلاق‘‘ علی گڑھ کے شمارہ مارچ ۲۰۱۹ء میں بھی شائع ہوا۔ (ادارہ)

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ڈاکٹرشمس بدایونی

نیوآزادپورم کالونی،عزت نگر،بریلی(یوپی)

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment