فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 ایڈیٹرکی میزسے

ذمہ دارعلما کی خاموشی دین کے لیے خطرے کا الارم

منظرالاسلام ازہری

’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ حال ہی میں بیک وقت ہندوپاک سے ایک ساتھ چھپ کر منظر عام پر آئی ہے۔اس کتاب کے مصنف اپنے عہد کے اہم حنفی عالم دین مولانا سید محمد حسین بدایونی(ف۱۹۱۸ء) ہیں ۔ اس نایاب مخطوطے اور مستند علمی ذخیرے کوممتازناقدو محقق ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب نے علمی دنیا کے سامنے پیش کیاہے۔اس مخطوطے کی تحقیق، تدوین اور تحشیہ پرانھیں ہندوستان کی سینٹرل یونیورسٹی ’’دہلی یونیورسٹی‘‘ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی ہے۔ میں ڈاکٹر نورانی کو اس اہم تحقیقی کارنامے پر مبارک باد پیش کرتا ہوںکہ انھوں نے اپنی محققانہ لگن اورقابل رشک صلاحیت سے تذکارو تراجم کی دنیامیں ایک نئے ماخذکا اضافہ کردیا ہے۔

تدوین کے جدید اصول کی روشنی میں متن کی تحقیق کی اہمیت کا بیان تحقیق کار نے بڑی جامعیت کے ساتھ مقدمے میں  ذکر کردیا ہے ، اس لیے اصل کتاب، اس کی اہمیت، اس کے متن کی جامعیت سے متعلق میں کچھ نہیںکہوں گا، کیوں کہ متن کی قرارواقعی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مبسوط مقالہ تحریرکرناہوگا ۔ بس اتنا سمجھ لیا جائے کہ اس کی زلف برہم کو سنوارنے میں ڈاکٹر نورانی صاحب نے برسوں آبلہ پائی کی ہے ۔پوری کتاب ۹۴۴؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں سے اگر ۳۷۰؍ صفحات کو نکال دیا جائے جو کہ اصل کتاب ہے تو ۵۷۴ صفحات بچتے ہیں،جس پر خوشترصاحب نے دادتحقیق دی ہے ۔ یہ حجم اصل کتاب کے متن سے زیادہ ہے۔پوری کتاب تو ڈاکٹر نورانی کا تحقیقی شاہکار ہے ہی مگر متن کی تحقیق کے علاوہ ۵۷۴؍ صفحات ان کی ذاتی محنت ، علمی برتری اور فکری کاوش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان اضافی صفحات میں تحقیق کار نے حواشی اور تعلیقات کے ذریعے معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ تیار کردیا ہے۔ بعض تذکروں پر حواشی کے ضمن میں ہمارے زمانے تک کے حالات کا بڑا معلوماتی بیان بھی ہے ۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے علما و دانشوروں کے ان تفصیلی حالات  سے جہاں عام طور پر اہل علم و دانش کو اس عہد کے مزاج کو سمجھنے کا موقع ملے گا وہیں خصوصیت کے ساتھ علم سماجیات (انتھروپولوجی)، نفسیات (سائیکلوجی)، معاشرت (سوشیالوجی) سیاسیات اور معاشیات کے متخصصین کے لیے متن اور اس پر ڈاکٹر نورانی کا اضافہ بڑی دلچسپی کا باعث ہوگا  ۔

کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے منظر عام پر آتے ہی  برصغیر ہند و پاک کے اہل علم ذاتی فون ، دستی خط ، اور سوشل میڈیا کے ذریعے ڈاکٹر نورانی کو مبارک باد دے رہے ہیں، اہل دانش کتاب پر اخبارات میں کالمز لکھ رہے ہیں، اہل تحقیق، تدوین و تحقیق پر نقد کررہے ہیں ،سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کی محفلیں گرم ہیں اور خوشتر صاحب کے حاسدین اس کے کتاب کے منفی پروپیگنڈے میں خاصے مصروف ہیں۔لوگ اس پورے منظر نامے کوکس طرح دیکھ رہے ہیں وہ تو مجھے نہیں معلوم،مگر ذاتی طور پر میں خوشتر صاحب اور ان کی تحقیق پر رشک کررہا ہوں کہ جس عہد میں علم اور انفارمیشن ہر لمحے تغیر پذیر ہو،سوشل میڈیا کے اس عہد میں لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے بیٹھنے کی فرصت نہ ہو،چہ جائے کہ کسی کتاب کا مطالعہ۔اردوکتابوں کی اشاعت،فروخت اور پڑھنے پڑھانے کا مزاج و کلچر زوال و ادبار سے گزررہا ہو۔ایسے ماحول میں ایک سو پچیس برس قدیم متن کی تحقیق و تدوین سے آراستہ ایک ہزار صفحات کی کتاب پر برصغیر میں بحث و مباحثے کی محفل گرم ہو،یہ خوشتر صاحب کی مقناطیسی شخصیت اور ان کے تحقیقی کام کا ہی کمال ہوسکتا ہے ۔ گویا خوشتر صاحب کے حاسدین  ان کی بے بنیاد مخالفت تو کرسکتے ہیں  انھیں نظرانداز نہیں کرسکتے۔

کتاب کی اہمیت اورخوشترصاحب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ کتا ب کی اوچھی مخالفت کے ساتھ مسلکی جھنڈابرداروں نے لاہورکے سیشن کورٹ میں اس پر خلاف مقدمہ دائرکردیا اور پاکستان میں اس پر پابندی کا مطالبہ کیاجانے لگا۔مگر دو مہینے کے اندر کورٹ نے اس مقدمے کوخارج کردیا،فالحمدللہ علی ذالک۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب وقتی ابال ہے،اس سے قبل بھی نامورمحققین اور اہل علم و قلم کے ساتھ یہ سب ہوتا رہاہے۔آج اُن  حاسد ین اور جاہل مخالفین کا ٹولہ مرکھپ کربے نام و نشان ہوگیاہے ، تاہم وہ کتابیں اور ان کے مصنفین آج بھی زندہ ہیں۔ ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ اور اس کے مخالفین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔آج جس طرح علمی دنیا نے اس کتاب کا والہانہ خیرمقدم کیا ہے،مستقبل میں بھی یہ اسی طرح حوالہ بنتی رہے گی(ان شاء اللہ)۔

لیکن اس پورے ایپی سوڈ میں سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہندو پاک کے ذمہ دار علمانے (جن کی تعداد بہت کم ہے) خاموشی اختیار کررکھی ہےاور کم علم اور غیرسنجیدہ حضرات جن کاعلم فقہ و کلام سے کوئی لینا دینا نہیں،شرعی امور میں فیصلے صادر کررہے ہیں،کفرو شرک کے فتوے داغ رہے ہیں،دین کے کلامی مسئلے پرحرف زنی کررہے ہیںاور دینی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔جس جماعت میں یہ صورت حال پیداہوجائے تو پھر خطرے کا الارم ہے۔مگر آج دین و مسلک کی کس کو پرواہ ہے(الاماشاء اللہ)، ہر شخص دین و مسلک کا استعمال اپنی دوستی،دشمنی اورمفادات کے لیے کررہا ہے۔یہاں مسئلہ ایک کتاب کا نہیں ہے بلکہ دینی و شرعی امور میں جسارتِ بے جا کا ہے، جس پر ہمارے علما کوسنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔آج اگر وہ یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ ہمیں اس مسئلے سے کیا لینا دینا،انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آندھی ان کے گھروں تک بھی پہنچ رہی ہے، بس دستک دینا باقی ہے۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

منظرالاسلام ازہری

مضمون نگارمعروف اسلامی اسکالراورالبہیج انسٹی ٹیوٹ ،نارتھ کیرولینا،امریکا کے ڈائرکٹرہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment