فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 جہان ادب

سندی تحقیق کا مثالی شاہکار

پروفیسرخواجہ محمداکرام الدین

 فلوریڈا ( امریکا) میں مقیم ڈاکٹر خوشتر نورانی  یوں تو اپنے علمی اور روحانی خانوادے سے بھی پہچانے جاتے ہیں ،مگر ایسے خانوادے سے تعلق رکھنے والی ذات اگر خود اپنے کمالات اور علمی فتوحات سے نہ صرف جانی پہچانی جائے بلکہ عالمی علمی برادری میں قدر کی نگاہوں سے دیکھی جائے تو کمال اسے کہتے ہیں ۔

خوشتر نورانی انتہائی ذہین اور فطین شخص ہیں، اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی انھیں پڑھنے لکھنے کا شوق رہا ہے، اب تک درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں اور ہر کتاب اپنے آپ میں اہم ہے ، لیکن نطقۂ عروج ’’ تذکرہ علمائے ہندستان ‘‘ ہے ۔ میں اسے اعلیٰ اورسندی تحقیق کا مثالی شاہکار اس لیے کہتا ہوں کیونکہ یونیورسٹیز کی تحقیق میں بہت سی پابندیاں اور حد بندیاں ہوتی ہیں ،اساتذہ ، طلبہ اور اہل علم بخوبی اسے جانتے ہیں ، لیکن ان تمام حد بندیوں اور حصار کو توڑ کر آگے نکل جانا واقعی کمالِ تحقیق ہے ۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ڈاکٹر خوشتر نورانی کا تحقیقی مقالہ ہے جو پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے مکمل کیاگیا ۔ (ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے کے بعد یہ کتابی صورت میں سامنے آئی ہے ) متعینہ وقت اور دیگر پابندیوں کے باوجود جس طرح یہ کام کیا گیا ہےوہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔عموماً آج کل متنی تحقیق اور تدوین کی جانب بہت کم ریسر چ اسکالر متوجہ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ دشوار گزار کام ہے ۔ اس طرح کے تحقیقی کام کے لیے بیک وقت اردو، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور ہونا ضروری ہے ، لیکن صرف زبان جاننے سے بھی تدوین کاکام نہیں کیا جاسکتا ،اس کے لیے مخطوطہ شناسی کاعلم ہونا اور مخطوطات پڑھنے کی صلاحیت بہت ضروری ہوتی ہے۔

یہ تذکرہ جس کا اصل نام ’’ مظہر العلماء فی تراجم العلماء والکملاء‘‘ ہے ۔یہ ایک صدی سے بھی زیادہ پُرانا نسخہ ہے، ظاہر ہے اس عہد میں جس طرح کی تحریریں ( میری مراد املاہے) لکھی جاتی تھیں وہ آج رائج نہیں ہیں، اسی لیے قدیم مخطوطات کو پڑھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں اور جب تدوین کرتے وقت صرف ایک ہی نسخہ دستیاب ہو تو یہ ایک اور امر دشوار ہے ۔ لیکن مجھے اس کتاب کو دیکھتے ہوئی حیرت ہوئی کہ صرف دو سال کی مدت میں اتنا بڑا اور اتنا اہم کام کیسے مکمل کیا؟ لیکن میں ان کے احوال کا چشم دید شاہد ہوں ۔ جن دنوں یہ اس کام میں مصروف تھے اپنے تمام احباب سے اور یہ کہنا بھی بیجا نہ ہوگا کہ اپنی فیملی سے بھی بیگانہ ہوچکے تھے ، صبح سے شام تک لائبریری میں کام کرنا ، دیر رات گھر آنا اور صبح کو پھر وہی سلسلہ ۔اس لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے دوران تحقیق اسی تذکرے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اور اسی سبب یہ کام پایہٴ تکمیل کو پہنچا ۔ صبح و شام کی دیدہ ریزی کے بعد بھی اتنے کم وقت میں اسے مکمل کرنا ایک عجوبہ ہی ہے ۔

جہاں تک اس علمی اور ادبی تدوین کے تنقیدی تجزیے کی بات ہے تو مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ بہت دنوں کے بعد بلکہ اسلاف کے کارناموں کے بعد عہد حاضر میں یہ جدید اصولوں پر تدوین و تحقیق کی پہلی علمی کاوش ہے ۔ خوشتر صاحب نے اس میں کئی اہم اضافے کیے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تذکرے کے متن کو جدید املا میں لکھا ہے ، جہاں بھی اردو کے علاوہ عربی کے اقتباسات یا متن  موجود تھے ان کا سلیس ارود میں ترجمہ کردیا ہے۔ اصل تذکرے میں مصنف نے الف بائی ترتیب میں علما ، فضلا کاذکر کرنے کا اہتمام کیا تھا جو کسی سب اول سے آخر تک قائم نہیں رہ سکا، اس ترتیب کو مدون نے نئے سرے سے الف بائی ترتیب میں درج کیا ہے اس کے علاوہ صا حب تذکرہ نے ہر نام کے آگے سال ولادت اور تاریخ وفات درج کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن جن کا انھیں معلوم ہوسکا وہ نہیں درج کیا اور کئی کے آگے صرف سال ولادت یا سال وفات ہی لکھا ہے ، مگر خوشتر صاحب نے تحقیق کر کے سال ولادت و وفات اضافے کے طور پر حواشی میں لکھا اور جو یقینا ایک اہم تحقیقی اضافہ ہے ۔ قدیم تذکروں میں رموز اوقاف کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا، اس لیے طویل جملے کو بغیر کسی وقفے اور سکتے کو پڑھنا کارِ دشوار تھا ۔ خوشتر صاحب نےتحقیق کے جدید   اصولوں کو برتتے ہوئے اصل متن کو رموز اوقاف سے مزین کیا ہے ۔ اس تدوین میں تحشیہ ،وضاحتی اشاریہ سب سے اہم ہے ۔

یہ تذکرہ بنیادی طور پر علما اور صاحب کمال شخصیات کے احوال پر مبنی ہے ۔ ماضی میں اگر سو سال قبل کے معاشرے اور علمی ، تعلمی اور تدریس نظام کو دیکھیں تو آج سے بہت منفرد تھا ۔ اس عہد میں مدارس ہی  تدریس کے اہم مراکز تھے اس لیے اس نظام سے فارغین کو مولوی کے لقب سے جاناجاتا تھا ۔ ان مراکز میں غیر مسلم افراد بھی حصول علم کے لیے جایا کرتے تھے اور فراغت کے بعد انھیں بھی مولوی کہاجاتا تھا ، جیسے مولوی مہیش پرساد ( اس تذکرے میں یہ موجود نہیں، کیونکہ یہ اس تذکرے کے سال تکمیل کے بعد کے ہیں )جو اردو کے اہم ادیب ہیں ۔ اسی طرح اس عہد کے کے جتنے بھی نامور ادیب گزرے ہیں سب کے سب مولوی تھے مثلاً مولوی نذیر احمد ، مولانا شبلی ، مولانا حالی ، آزاد ۔ پوری ایک کہکشاں ہے ۔ اس کتاب میں بھی اس عہد کے فارغین کا ذکر ہے ، اس لیے اس کتاب کو کسی اور نقطہٴ نظر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں صرف ایک اہم علمی ، تدوینی اور تحقیقی کام کے نقطہٴ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ کام متنی تنقید، تدوین اور تحقیق  میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

زیرنظرمضمون شمالی ہندکے روزنامہ’’سچ کی آواز‘‘نئی دہلی میں ۱۰؍جنوری ۲۰۱۹ء کو شائع ہوا(ادارہ)۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

مضمون نگارشعبہ اردو،جواہرلعل یونیورسٹی نئی دہلی میں پروفیسرہیں۔

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment