فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 سوشل میڈیا

مرزاقادیانی کوعلمائے اسلام میں شامل کرنے کاالزام سراسرغلط

لاہور(پاکستان )کے نوجوان محقق جناب ثاقب رضا قادری نے ختم نبوت اورقادیانیت کے حوالے سے متعدد کتابیں تالیف و ترتیب دی ہیں، تحفظ ختم نبوت ان کا اوڑھنابچھوناہے۔’’تذکرۂ علمائے ہندوستان ‘‘کے حوالے سے انھوں نے ایک مختصر تحریر ’’فیس بک ‘‘پر شائع کی، جس پر اہل علم و دانش نے ان کی تائید کی۔مضمون نگارکی اجازت سے یہاں ان کی تحریراور اس پر علمااوراہل دانش کے کمنٹس شائع کیے جارہے ہیں۔(ادارہ)۔

محمدثاقب رضاقادری(مرکزالاولیا،لاہور،پاکستان)

گذشتہ دو ماہ سے ایک ہفتہ وار اخبار پنجاب پوسٹ کے مدیرکاشف رضا نے کتاب ’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ مولفہ مولوی سید محمد حسین بدایونی (متوفی ۱۹۱۸ء)، مرتبہ ڈاکٹر خوشتر نورانی (امریکہ) کے متعلق جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے اور پاکستان میں اس کتاب کے ناشر مقصود احمد قادری اور ان کے ادارہ دارالنعمان پبلشرز کو ہدف تنقید بنا رکھا ہے ۔ اور روز فتنہ سامانیوں، بدتہذیبی کا نیا دَر وا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان حالات میںیہ ضروری ہے کہ اہل علم حضرات اس مسئلہ کی حساسیت پر توجہ کریں اور اس بارے کھل کر اپنے موقف کی نشرواشاعت کرنی چاہیے۔ چناں چہ تحریک ختم نبوت کے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے اخبار پنجاب پوسٹ میں شائع ہونے والے الزام پر میں اپنا موقف سطور ذیل میں پیش کرتا ہوں:

’’میں نے کتاب کے وہ صفحات ملاحظہ کیے جہاں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلیفہ حکیم نورالدین بھیروی ثم قادیانی کا تذکرہ تحریر کیا گیا ہے نیزاس ضمن میں مرتب کتاب ڈاکٹر خوشتر نورانی کے حواشی بھی بغور ملاحظہ کیے ۔میرے نزدیک تذکرہ علمائے ہندوستان مطبوعہ دارالنعمان پبلشرز کے متعلق یہ منفی پراپیگنڈہ مدیر اخبارکاشف رضا اور اس کے حواریوں کی کم علمی، جہالت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ مولف کتاب نے مرزا قادیانی کے تذکرہ میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ اس نے امام مہدی، مسیح موعود، اور رسول ہونے کا دعوی کیا اور اہل اسلام اس دعوی سے قبل مرزا قادیانی کے موافق تھے بعد اَزاں مخالف ہو گئے۔(ملخصاً،دیکھئے صفحہ نمبر ۲۸۶)۔

معروف محقق و تاریخ دان پروفیسر محمد اقبال مجددی کے بقول یہ کتاب مرزا قادیانی کے دعویٔ نبوت پر ایک معاصرمورخ کی شہادت فراہم کرتی ہے۔تذکرہ علمائے ہندوستان کے مرتب و محشی ڈاکٹر خوشتر نورانی نے حاشیہ میں واضح طور پر لکھ دیا کہ علماء نے قادیانی گروہ کو کافر قرار دیا ہے۔(دیکھئے صفحہ نمبر ۶۸۸)۔

نیز ڈاکٹر خوشتر نورانی نے پنجاب پوسٹ کے اس الزام کی تردید میں الگ سے آٹھ صفحہ کی وضاحت بھی سوشل میڈیا پر شائع کی ۔لہذااس قدر وضاحت کے بعد مذکورہ کتاب اور اس کے مصنف و محقق اور ناشر پرمرزا قادیانی کو علمائے اسلام میں شامل کرنے اور ختم نبوت کے خلاف سازش کرنے کا الزام سراسر ناانصافی ، بددیانتی، تعصب اور جہالت و نفسانیت پر دال ہے۔ نیزجو لوگ کتاب کے نام سے مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے اہل سنت کے جیّد عالم دین مفتی غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تحقیقات دستگیریہ رد ہفوات براہینیہ اور رجم الشیاطین براغلوطات البراھین کا پہلا جملہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، آپ لکھتے ہیں:

امابعد فان مرزا غلام احمد القادیانی الفنجابی من العلماء الغیر المقلدین

’’حمد و صلوٰۃ کے بعد واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی پنجابی جو علماء غیر مقلدین سے ہے‘‘۔

یاد رہے کہ مفتی غلام دستگیر قصوری نے سب سے قبل ۱۸۸۳ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر بہ سبب دعویٔ نبوت کی اور علمائے پنجاب و حرمین شریفین سے تصدیقات حاصل کیں۔ اسی فتوی کی پہلی سطر میں وہ مرزا قادیانی کو ’’علماء غیر مقلدین‘‘ میں شمار کر رہے ہیں۔ لہذا میرا عقیدہ و نظریہ بھی یہی ہے کہ مرزا کا شمار علماء غیر مقلدین میں ہوتا تھا اور دعویٔ نبوت کے سبب وہ گمراہ و بددین ، کافر و مرتد ہو گیا۔

کتب تواریخ ایسے علمائے سُوء کے تذکروں سے بھری ہوئی ہیں، یہاں تک کہ منکرین نبوت مُلّا مبارک ناگوری، ابوالفیض فیضی اور ابوالفضل علامی کے حالات بھی علماء و صوفیا کے تذکرہ پر مشتمل مشہور کتب مثلاً منتخب التواریخ مولفہ عبدالقادربدایونی، تذکرہ علمائے ہند مولفہ مولوی رحمان علی اور نزھۃ الخواطر مولفہ مولوی عبدالحئی ندوی میں ملتے ہیں۔ نزھۃ الخواطر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا تذکرہ بھی نہایت تفصیل سے علماء کے ذیل میں ملتا ہے۔ نزھۃ الخواطر پر اس جگہ حاشیہ لکھتے ہوئے فاضل مولف کے بیٹے ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

ترجمہ’’مصنف نزھۃ الخواطر (مولانا عبدالحئی ندوی) نے کتاب میں ان (مرزا غلام احمد قادیانی) کے تذکرہ کو اس لیے شامل کیا ہے کہ وہ داعی اور اسلام کے نام سے منسوب ایک جماعت کے بانی ومؤسس کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ جس جماعت کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے اسلام کے تعارف اور اس کی دعوت کا بڑے پیمانے پر کام کیا ہے خصوصاً برطانیہ (انگلینڈ) میں۔

مصنف نے کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ذکر کو تفصیل سے اس لیے بیان کیا ہے تاکہ عرب قارئین بیرون ہند کے محققین کے سامنے ان کے تعلق سے صحیح اور مصدقہ معلومات پہنچا سکیں۔نیز اس (مرزا قادیانی) کی فکری تبدیلی اور دعاوی کی واضح اور حقیقی تصویربھی ان کے سامنے آ سکے۔‘‘(نزھۃ الخواطر، جلد ۸ ، ص ۱۳۱۷)

کتاب نثرالجواھر والدرر فی علماء القرن الرابع عشرمولفہ استاذ الحدیث ڈاکٹر یوسف المرعسلی جلد دوم ص ۹۵۶ پر بھی مرزا قادیانی کو علماء کے تذکرہ میں شامل رکھا اور اس کا عنوان ’’الدجال القادیانی‘‘بھی لکھا ہے اور اس کو شامل کرنے کی بعینہٖ وہی وجہ بیان کی ہے جو نزھۃ الخواطر کے حاشیہ میں ابوالحسن علی ندوی نے پیش کی اور جس کا ترجمہ اوپر تحریر کیا گیا ہے۔

لہذا تذکرہ علمائے ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلیفہ حکیم نورالدین بھیروی کا ذکر کرتے ہوئے جب مولف و مرتب نے مرزا قادیانی اوراس کی ذریّت کے عقائد واضح طور پر بیان کر دیے نیز ان کے متعلق علمائے اسلام کافتویٔ کفر بھی ذکر کر دیا تو کتاب میں مرزا قادیانی یا اس کے خلیفہ کا ذکر باقی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ لہذا یوں کہنا کہ اس کتاب میں مرزا قادیانی کا تذکرہ شامل رکھ کر مرزا قادیانی کو علمائے اسلام میں شمار کرنے کی سازش کی گئی ہے -بالکل لغو اور بے بنیاد ہے۔

یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کتاب میں ترمیم و تبدیل یا حذف کا حق مصنف کو حاصل تھا جو ۱۹۱۸ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔محققین نے مخطوطات کی ترتیب و تدوین اور تحقیق کے لیے جو قواعد و ضوابط مقرر کیے ہیں اُن کے مطابق مرتب /مدوّن/محقق کو کتاب میں حذف و ترمیم کا اختیار حاصل نہیں اور اہل علم کے ہاں اس کو سرقہ اور خیانت تصور کیا جاتا ہے۔محقق کی ذمہ داری اتنی ہی تھی کہ وہ مرزا قادیانی کے متعلق شرعی حکم اپنے حاشیہ میں تحریر کردیتااور تذکرہ علماے ہندوستان کے محقق ڈاکٹر خوشتر نورانی نے اس ذمہ داری کو پورا کیاہے۔

اخبار پنجاب پوسٹ اور اس کے مدیر کاشف رضا نے باطل پراپیگنڈہ کرتے ہوئے اپنے اخبار اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام وخواص کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کی اور اس کے لیے ختم نبوت جیسے مقدس عقیدہ کو آڑ بنایا۔نیزلعن طعن، گالی گلوچ ،جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی اشاعت سے انتہا پسندی ،اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی مذموم سعی کی۔ مسلک حق اہل سنت کی نشرو اشاعت بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں جناب مقصود احمد قادری کو مختلف ہتھکنڈوں سے کورٹ کچہری اورتھانے وغیرہ میں اُلجھاکر اہل سنت کے ایک وقف اشاعتی ادارے دارالنعمان پبلشرز کی ساکھ کو مجروح کرنے کی ناپاک کوشش کی جس سے دل برداشتہ ہو کر مقصود صاحب نے اس ادارے کو بند کر دیا ۔ بلاشبہ ایسے اداروں کا بند ہونا اہل سنت کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے–یہ تمام مکروہ و قبیح اور قابل مذمت حرکات ہیں۔اللہ تعالیٰ مفسدوں اور حاسدوں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔

نوٹ: آئندہ صفحات  میں اس تحریرپراہل علم کے تاثرات ملاحظہ ہوں(ادارہ)۔

محمد احمدترازی(کراچی،پاکستان)۔

محترم ثاقب رضا قادری صاحب اور پروفیسر اقبال مجددی صاحب کے بیان کے بعد حقیقت اور بھی نکھر کر سامنے آگئی ہے اوریہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ سب ایک شر انگیز مہم کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے، لہٰذا ہم آپ کی رائے سے متفق ہیں اور تائید کرتے ہیں۔

خرم تانش(کراچی،پاکستان)۔

جی بالکل صحیح، بات سیدھی سی ہے، اس پر کوئی واویلا نہیں بنتا۔ یہی بات یہاں کچھ دوستوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہمیں اہل سنت کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

علامہ محمدشہزادمجددی(لاہور،پاکستان

آپ نے حق واضح کردیا ھے ،جزاکم اللہ۔اللہ معترضین کو بھی شعورعطا فرمائے،آمین۔ع     ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

فیضان نقوی (لاہور،پاکستان)۔

اس اخبار کو میں کچھ عرصے سے جانتا ہوں، مجھے پہلےمحسوس ہوا کہ یہ شاید اہل سنت کا ترجمان ہے،لیکن بعد ازاں کچھ خبروں کی اشاعت اور کچھ دیگر ایشوز کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہ دھوکے باز ، مکار ،چالاک اور فتنہ انگیزااخبار ہے ،جو بلا وجہ بےبنیاد مسائل پرہنگامہ کر کے اپنی جیب گرم کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

مولاناسیدمحمدعلی ممشادپاشاقادری(حیدرآباد،دکن)۔

بالکل درست، آپ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

سیدمنورشاہ بخاری (نارتھ کیرولینا،امریکا)۔

اس اخبار والے کی غلط بیانی پربہت افسوس ہوا کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کر رہاہے ۔ مجھے پروفیسراقبال مجددی صاحب والی ویڈیو بھی بھیجی  گئی ہے، اس کو مکمل سنا اور’’پنجاب پوسٹ ‘‘والے کی غلط حرکت پر بہت افسوس ہوا ۔کیا اس نے مرنا نہیں ہے؟کیااسے خدا اور اس کے پیارے رسول پاک علیہ السلام کا ڈر خوف نہیں ہے؟اس طرح اخبار میں انتشارپھیلانا اور پھر کسی پر جھوٹے مقدمات اور الزامات لگانا،کتنی بری بات ہے۔ اللہ تعالی اس کو اچھی سوچ کا حامل بنائے اور اس کے دل میں آخرت کا خوف ڈالے کہ وہ ان غلط حرکتوں سے باز آئے۔

مولاناطفیل احمدمصباحی(بہار،انڈیا)۔

آپ کی بات سےمتفق ہوں ۔اکابر علما و محدثین نے اپنے تذکرے کی کتابوں میں ابن تیمیہ اور جار اللہ زمخشری کا ذکر کیا ہے،اس کے بارے میں کاکیا حکم ہے؟

پروفیسرخورشیداحمدسعیدی(اسلام آباد،پاکستان)۔

جھوٹے اور فسادی دماغ والے اپنے انجام کو پہنچیں گے، ان شاء اللہ۔

مولاناجہانگیررضاالمدنی(کراچی،پاکستان)۔

شروع میں مسئلہ سمجھنا کافی دشوار ہورہا تھا ،کیوں کہ کتاب میرے پاس موجود نہیں تھی، مگر مولانا خوشتر نورانی کی ’’وضاحت‘‘ ( جس میں وہ متن اور حاشیہ بھی من و عن تھا ) ،پروفیسر اقبال مجددی صاحب کی ویڈیو اور آج آپ کی وضاحت پڑھ کر اطمینان ہوچکا ہے، بلکہ مجھے پروفیسر صاحب کے اس جملے کہ ’’ مرزا ملعون کے خلاف یہ تو معاصر عالم کی شہادت ہے ،جو آئندہ نسلوں کے لیے موثر ثبوت ہوگا ‘‘ نے اس جانب دھیان مبذول کرایا۔ بہت بہتر ہوا کہ مولاناخوشتر صاحب نے مرزا کا ذکر اس میں سے حذف نہیں کیا اور حاشیہ کے ذریعے اجماع امت کی وضاحت دے کر اپنی ذمہ داری بھی پوری کی ،لیکن قبلہ ! مولانا خوشتر صاحب نے جو حاشیہ میں’’جمہور علما‘‘ کے نزدیک کافر لکھا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ بھلا مرزا ملعون کے ارتداد میں بھی کسی عالم کی تشکیک پائی جاتی ہے ؟ کیوں کہ مرزا ملعون کے ارتداد پر تو اجماع امت ہے، لہٰذا میری رائے ہے کہ اس کے لیے جمہور علماکے بجائے ’’اجماع امت ‘‘کا لفظ مناسب ہے ۔میں ان شاءاللہ اس تنازعے میں کتاب سے متعلق اپنی رائے فیس بک وال پر ضرور شیئر کروں گا ۔اللہ کریم آپ لوگوں کو کامیابی نصیب فرمائے۔ آپ جیسے علمایقیناً تحقیق و تدوین کے ذریعے امت کا فرض کفایہ ادا کررہے ہیں ۔ اللہ کریم آپ کا حامی ہو ۔

مولاناارشادعالم نعمانی(بدایوں ،انڈیا)۔

بہت عمدہ گفتگو، اللہ کریم ہمیں اور آپ سب کو حمایت حق، اظہار حق اور بلاخوف لومۃ لائم اعلان حق کی توفیق ارزانی کرے۔ آپ نے بروقت اپنے موقف کا اظہار کرکے احقاق واعلان حق اور انکشاف وتردید باطل کا جرآت مندانہ مظاہرہ کیاہے، جزاکم اللہ خیرا۔

منصورقادری(بدایوں ،انڈیا)۔

بالکل درست، آپ کے مؤقف سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں اور تائید بھی کرتے ہیں۔

خالدحافظ رضوی(گوجرہ،پاکستان)۔

بے شک ایسے صلح کلی، بظاہر سنی، اندر و باہر سے پلپلے لوگوں کا محاسبہ ہونا چاہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے، بند نہیں ہواہے۔ اخبار کے ایڈیٹر کو دعوت رجوع دینا چاہیے، جہاں ہم سے غلطی ہوئی ہو تو نظر ثانی اور رجوع کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو راہ حق پر استقامت عطا فرما ئے۔

مولانامحمدرضی احمد(لاہور،پاکستان)۔

آج رات یہ (اخبارکا ایڈیٹر)مجھ سے بھڑگیا تھا،میں نے بھی خوب جم کرخبرلی تو دم دباکربھاگ گیا۔

اویس سہروردی(لاہور،پاکستان)۔

مجھے یاد پڑھتا ہے کہ’’ پنجاب پوسٹ ‘‘کا بانی اور مالک خود مرزائی تھا، جو کبھی رائل پارک میں ہوتا تھا۔ ختم نبوت کی خلاف ورزی کی وجہ سے ایک بار بند بھی ہوا تھا، زرا تحقیق فرمائیں۔

محمدثاقب رضاقادری(لاہور،پاکستان)۔

اللہ اکبر!یہ تو بہت بڑا انکشاف ہے،اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔

مولانااخترنور(چریاکوٹ،مئو،انڈیا)۔

بہت اہم انکشاف، فوراً اس کی تحقیق کریں ،یہ بہت ضروری ہے۔

سلطان منیر(لاہور،پاکستان)۔

اللہ حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ دلِ اعدا کو رضا تیزنمک کی دھن ہے۔ اک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تیرا۔

مظہربھدرو(ملتان،پاکستان)۔

السلام علیکم ! ثاقب بھائی نے عمدہ کلام فرمایا، کتاب میں کمی بیشی کا اختیار مؤلف کو تھا، جو دنیا سے رحلت کر چکے۔ محقق اپنی مرضی سے اگر مخطوطہ میں کمی بیشی کرےتو ایک علمی بددیانتی ہوتی ہے۔خوشتر نورانی صاحب نے حاشیہ میں برملا وضاحت بھی کر دی ہے۔ رہی بات اشاعت کی تو ثاقب بھائی نے مختلف کتب کے حوالے دیئے، جہاں علامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ میں نے خوشتر نورانی صاحب کی مفصّل ’’وضاحت‘‘ دیکھی، انہوں نے بڑے مدلل انداز میں اس مسئلے کو سمجھانے کی کوشش کی۔دارالنعمان نے ختم نبوت کے حوالے سے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہے، جن سے رو گردانی کرنا احسان فراموشی کے زمرے میں آتی ہے۔

محمدثاقب رضاقادری(لاہور،پاکستان)۔

بہت نوازش، آپ نے بہت احسن انداز میں مسئلے کی تفہیم فرما دی۔اہل فہم کے لیے اتنا کافی ہے اور فتنہ پروروں کو دفتر بھی ناکافی ۔اللہ کریم انھیں ہدایت دے۔

صغیراحمد(اسلام آباد،پاکستان)۔

کچھ لوگ بال کی بھی تو کھال اتارتے ہیں۔ خواہ مخواہ ایشو بنایا ہوا ہے۔

مولانا رستم علی رضوی(تنجاور،تامل ناڈو،انڈیا)۔

ہمارے یہاںہر دور میں ایسے افراد کثرت ملتے ہیں۔اگر کتاب میں کچھ خامی یا غلطی ہےتو مل بیٹھ کرسلجھا لینا چاہیے تھا اورتنقید برائے اصلاح ہو تو ہمیں رجوع بھی کر لینا چاہیے ۔ویسے بھی ہم کئی جماعتوں میں بٹ چکے ہیں، مزید ضرورت نہیں ہے۔ آخر ہم جھگڑے کی ہی دعوت کیوں دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسلک حق اہلسنت وجماعت پر استقامت عطا فرمائے۔آپ نے جرأت مندانہ قدم اٹھایا ہے ،جس کی ہم تائید کرتے ہیں ۔

ڈاکٹرنوشادعالم چشتی(علی گڑھ،انڈیا)۔

محمد ثاقب قادری صاحب ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے آپ نے، اچھا آئینہ دیکھایا ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضدی اور خود سر لوگ آپ کے دلائل کو تسلیم کر کے ایک مہذب معاشرے کے فرد ہونے کا ثبوت دیں گے۔

مولاناناصررام پوری مصباحی(رام پور،انڈیا)۔

محترم مولانا خوشتر نورانی صاحب نے ایک بہت ہی علمی و تاریخی کام کیا  ہے، جس کی ہم سب کو تحسین کرنا چاہے۔میں روایتی علما کی بات کر رہا ہوں، ورنہ دانش ور طبقہ اور علمی مزاج لوگ تو آج بھی اُن کو مسلسل خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ آئندہ کے لیے بھی خوشتر صاحب نے اپنا نام تاریخ میں درج کرا لیاہے۔ بات روایتی علما کی ہے، مگر افسوس کہ یہ لوگ اپنا ڈھرا بدلنا نہیں چاہتے، ان لوگوں نے خوشتر نورانی صاحب کی ایک اہم تحقیق کی قدر ناشناسی شروع کردی، پھر اس پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے لگے، حالاں کہ یہ بھی ممکن تھا کہ بعض چیزوں سے متعلق وہ تشویشات رکھتے ،ان کی آرا کا بھی ہم بھی احترام کرتے، لیکن ایسا کچھ نہ کر کے بس تماشا شروع کر دیا اور سچ کہوں تو یہ آج تک اپنی اسی تماشا فطرت ہی میں مارے گئے ہیں۔ اب دیکھئے اسی ذوق کے کچھ حاملن جو کہیں نہ کہیں کج فکر علما ہی سے جڑے ہوں گے، دیگر حضرات سے منسوب فرضی باتیں شائع کرنے لگے، جس کی متعلقہ شخصیت نے اب تردید کی ہے، بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر تو بات کا رُخ ہی پلٹ دیا کہ قادیانی کی بدعقیدگی پر یہ معاصر حوالہ ہے۔ پھر محقق نورانی صاحب نے حاشیہ لگا کر مزید حساب برابر کر دیا اور آخری کیل اس طور پر ثبت کردی کہ کئی صفحات پر مشتمل ایک سچی اور اچھی ’’وضاحت ‘‘بھی حوالۂ قارئین کردی۔ بہرحال مخالفین و متعصبین کی یہ سب حرکتیں ہمیں پسند نہیں ۔ ہمیںاس کا کھلے دل سے اعتراف ہے کہ محترم مولانا خوشتر نورانی صاحب نے بے حد اہم و علمی کام کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کے علم و فضل میں برکات نازل فرمائے، آمین۔

مولانامنظرالاسلام ازہری(نارتھ کیرولینا،امریکا)۔

ہمارے زمانے میں اہل سنت کا زوال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔ تجزیہ نگار اور اہل قلم اس کے مختلف اسباب بیا ن کرتے ہیں۔ ان اسباب کے ساتھ میری نگاہ میں ایک بڑا سبب مطالعے کی کمی، کم علمی اور اسلام کے آفاقی پیغام کے مقصد سے نا آشنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماشما تو ایک طرف، علما اور مولوی کہلانے والے بھی شدید تنگ نظری کا شکار رہتے ہیں،اسی میں متذکرہ ’’اخبار‘‘کوبھی آپ شامل کرلیں۔ ڈاکٹر نورانی نے تحقیقی دیانت کا ثبوت دیتے ہوئے ،دینی فریضہ سمجھ کرمختلف فرقوں کےعلما کی شمولیت سے متعلق بہترین وضاحت پیش کردی تھی، جس کے بعد مزید کسی توضیح کی ضرورت نہیں تھی، مگر جب کوئی ہٹ دھرمی پر اتر آئے تو سوچ و فکر رکھنے والے اہل علم و قلم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی اپنی ذمہ دار ی نبھائیں۔ ایسے میں ہندوپاک کے ذمہ دارعلما (جن کی تعداد بہت کم ہے) کی خاموشی بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔اگر وہ ایسے ہی تماشائی بنے رہے تو بچا کھچا کاررواں بھی جلد ہی لٹ جائے گا ۔ آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ کی حمایت میں قلم اٹھا کراپنا دینی اورملی فریضہ ادا کا ہے اور’’پنجاب پوسٹ‘‘ کی حقیقت واضح کردی ہے۔

عبدالرزاق(لاہور،پاکستان)۔

سرجی! شدت پسند خوارج کا طریق اور ابن تیمیہ اینڈ کمپنی کے بعد محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کی صورت میں عالم میں دندناتی پھر رہی ہے، جارج برنارڈ شا بھی تلوار سے اسلام کے پھیلنے کا قائل تھا، لیکن حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک گفتگو کے بعد اسلام کے اخلاص کا قائل ہو گیا تھا۔ آج سے تقریباً پون صدی قبل اُس نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک صدی بعد پُوری دنیا کے لوگوں کا ’’مذہب‘‘ اسلام ہوگا، لیکن پھر چند فرقوں کی صورت میں دہشت گردی، طالبانائزیشن، القاعدہ، الشباب، بوکو حرام اور دیگر ’’فنےٹِک‘‘ جماعتوں نے (ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق) اسلام کا وہ تشخص دُنیا کے سامنے رکھا کہ، ’’وہ لوگ‘‘ مغربی ممالک میں صدیوں سے جو سازش کر رہے تھے کہ اسلام اُجڈ اور گنواروں کا ایک ٹولہ ہے اور درندوں، بربروں کی قوم ہے، اُن کو اپنے میڈیا کے ذریعے عوام الناس کے اذہان و قلوب میں یہ پیغام راسخ کرنے کا بہترین موقع مل گیا کہ مسلمانوں کے متشدد جنونی رویے کے ہاتھوں نہ تو ان کی مسجدیں محفوظ ہیں، نہ چرچ، مندربلکہ ا سکول اور پارک بھی بموں سے اڑا دیے جاتے ہیں ۔ انہی متشدد جنونی جماعتوں کی زد میں کچھ ہمارے اہلسنت کے مولوی اور لیڈ رز بھی آ گئے اور انہوں نے بھی ابنِ تیمیہ کی طرح لٹھ اٹھا لی۔ جوشیلے قسم کے مذہبی کارکنان اپنے قائدین کی آواز پر لبیک کا نعرے مارنے لگے، سیلِ جہالت میں ٹھنڈے دماغ والے ’’مدبرین‘‘بھی بہہ گئے۔یہاں اصل مسئلہ مرزا قادیانی کا نہیں ہے، اصل مسئلہ خوشتر نورانی کی جدید سوچ کا ہے، یا اُن کی فعال قیادت کا ہے کہ وہ چند دقیانوسی اور مخبوط الحواس لوگوں کے بنائے ہوئے دائرۂ اسلام میں فٹ نہیں آتے۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ایڈمن

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment