فیس بک پیج کولائیک کریں

فیس بک پیج کولائیک کریں

ویڈیو

March 2019 انٹرویو

مظہرالعلماءاپنے عہد کابے مثال تذکرہ ہے:مولانامحمدعطیف قادری بدایونی

مولاناعبدالغنی محمد عطیف قادری بدایونی ہندوستان کی مشہور اور قدیم خانقاہ قادریہ، بدایوں کے چشم و چراغ،ولی عہد اور خانقاہ کے موجودہ صاحب ِسجادہ حضرت شیخ عبدالحمید محمد سالم قادری بدایونی مد ظلہ کے صاحب زادے ہیں، موصوف نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں میں حاصل کی، بعد میں دارالعلوم نور الحق ،چرہ، محمد پورجا کر امام علم و فن حضرت خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ کے ہاتھوں درسیات کی تکمیل کی، پھر وہاں سے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی سے عربی زبان میں ایم اے کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مستقل طور پر مدرسہ قادریہ کی مسند تدریس سنبھالی، جب کہ دوران تدریس اپنے بڑے بھائی عالم ربانی مولانا اسید الحق قادری بدایونی علیہ الرحمہ کے ساتھ اپنے آبا و اجداد کی کتب کی جدید اشاعت و تحقیق میں اہم رول ادا کیا۔ مولانا بدایونی بر صغیر ہند وستان میں ایک بڑے داعی اور خطیب کی حیثیت سے بھی متعارف ہیں اور اپنے اسلاف کے سچے جانشین اور ان کی علمی وراثت کے امین ہیں۔ فی الوقت مولانا موصوف دنیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی ‘‘الازہر ’’  میں تخصص فی التفسیر کے آخری مرحلے میں ہیں۔ رب قادر و مقتدر ان کے مقاصد کی تکمیل فرمائے ۔ادارہ ’’جام نور‘‘ کی خواہش پر ہم نے تذکرہ علمائے ہندوستان(مظہر العلماء فی تراجم العلماء و الکملاء) کے حوالے سے مولانا بدایونی کا ایک مختصر انٹرویو لیا ہے، جس کو قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر کیا جارہا ہے۔ (عبدالعلیم قادری مجیدی)۔

 

جام نور(۱): جام نور آن لائن میں آپ کا استقبال ہے ، آپ نے انٹرویو کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا ، جس کا بہت شکریہ۔

مولانا محمدعطیف قادری: بہت شکریہ ۔جام نور کاممنون ہوں کہ اس نے مجھے اس لائق سمجھا۔

جام نور(۲):حالیہ دنوں معروف ناقد و محقق ڈاکٹرخوشتر نورانی کی تحقیق،تدوین اور تحشیہ کے ساتھ ایک اہم تذکرہ ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘بیک وقت ہندوپاک سے شائع ہوکر منظرعام پر آیا ہے۔اس تذکرے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

مولانامحمدعطیف قادری: یہ بہت ہی اہم،مستنداورجامع تذکرہ ہےاس کی تاریخی حیثیت مسلم ہے،یہی وجہ ہے کہ اپنے عہدکے نامورمحققین اور اہل علم و قلم نے اس تذکرے کا بڑا والہانہ ذکرکیا ہے ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ’’مظہرالعلماء(تذکرۂ علمائے ہندوستان)کے علاوہ برصغیر کے علما پر مشتمل اردو زبان میں ایساکوئی بھی دوسراقدیم، ضخیم،مستند،عمومی اور جامع تذکرہ نہیں ملتا۔اس نوعیت کے جامع تذکرے یا تو عربی میں لکھے گئے، جیسے ’’نزہۃ الخواطر‘‘ یا پھر فارسی میں لکھے گئے،جیسے’’تذکرۂ علمائے ہند‘‘ وغیرہ۔علمی دنیا کو ڈاکٹرخوشتر نورانی صاحب کا ممنون ہونا چاہیے بلکہ انھیں اعزازات سے نوازنا چاہیے کہ انھوں نے انھیں ایک بڑا قیمتی تحفہ دیا ہے،جس سے ہزاروں اسکالرزاور محققین استفادہ کرتے رہیں گے۔

جام نور(۳):تذکرے کے مصنف مولاناسیدمحمدحسین بدایو نی کےتعلق سے پروفیسرمحمدایوب قادری مرحوم نے لکھا ہے کہ وہ اعلیٰ حضرت تاج الفحول علامہ شاہ عبدالقادربدایونی قدس سرہ سے بیعت تھے ،کیایہ صحیح ہے؟

مولانا محمدعطیف قادری:پروفیسرمحمدایوب قادری صاحب کو سہو ہوا ہے،جس کوکتاب کے محقق ڈاکٹرنورانی صاحب نے بھی واضح کیا ہے ۔  مصنف علیہ الرحمہ حضرت تاج الفحول کے مرید تو نہیں تھے،البتہ خانقاہ عالیہ قادریہ کے حاضر باش اورنیاز مند تھے،انھوں نے ہمارے خاندان کے کئ بزرگوں کو دیکھا  اور ان سے علمی استفادہ کیا ہے۔ ’’مظہرالعلماء‘‘ کی تصنیف کے وقت خانقاہ قادریہ بدایوں شریف کے سجادہ نشین حضرت سرکار صاحب الاقتدار مولانا عبدالمقتدر بدایونی علیہ الرحمہ تھے،(جو حضرت تاج الفحول کے صاحبزادے تھے)،جب کہ نورالعارفین حضر ت سیدنا شاہ ابوالحسین احمدنوری میاںقدس سرہ خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ کی مسند سجادگی کو رونق بخش رہے تھے۔خانوادۂ عثمانیہ اور خانوادۂ برکات کے تمام بزرگوں کے احوال لکھنے میں مذکورہ دونوں شخصیات نے براہ راست مصنف کا تعاون کیا اور انھیں دونوں مستند بزرگوں کی مدد سے خانوادۂ عثمانیہ اور خانوادۂ برکات کے تذکرے مکمل ہوئے۔

ویسے مصنف کتاب مولانا سید محمدحسین بدایونی علیہ الرحمہ خو د ایک اہم روحانی خانوداے سے تعلق رکھتے تھے،حسنی و حسینی سید ،سلسلۂ نقش بندیہ کے بزرگ اور اپنے عہد کے فعال اور خداتر س حنفی سنی عالم دین اور مؤرخ و مصنف تھے۔

جام نور(۴): مظہرالعلماء(تذکرۂ علمائے ہندوستان) کا یہ مخطوطہ خانقاہ قادریہ بدایوں شریف کی نادرلائبریری کتب خانہ قادریہ کی زینت ہے۔یہ مخطوطہ وہاں کیسے پہنچا؟اس کی رسم اجراکے موقع پر آپ نے بتایاتھا کہ اس کتاب کو عالم ربانی حضرت شیخ اسیدالحق قادری محد ث بدایونی علیہ الرحمہ مرتب کرنا چاہتے تھے۔کچھ تفصیل بتائیں؟

مولانا محمدعطیف قادری: کتب خانہ قادریہ خانقاہ کی دو سوسالہ قدیم اورنادرلائبریری ہے،جو نایاب کتابوں اورنادرمخطوطات سے مالامال ہے۔ معروف محقق پروفیسر محمد ایوب قادری جس زمانے میں ’’تذکرۂ علمائے ہند‘‘کے ترجمہ، ترتیب اورحاشیے کا کام کررہے تھے تو قدیم تذکروں کی تلاش میں۱۹۶۰ء  میں بدایوں بھی پہنچے اور کتب خانہ قادریہ دیکھا۔پھر تذکرۂ علمائے ہند کے پیش لفظ میں ذکرکیاکہ اس لائبریری میں تقریبا ً چار ہزار مخطوطات موجودہیں۔

خانقاہ قادریہ کو علمی اورمسلکی و مذہبی اعتبارسےمرکزی حیثیت حاصل تھی،اس لیے اہل علم اپنی اہم کتابوں کی نقلیں تیار کرکے خانقاہ میں پیش کرتے تھے اور خود خانقاہ میں بھی اہم کتابوں کی نقلیں تیارکی جاتی تھیں۔اندازہ ہے کہ’’ مظہرالعلماء‘‘کی اہمیت کے پیش نظراس کا بھی ایک قلمی نسخہ نقل کرکے خانقاہ کو پیش کیاگیاہوگا۔

یہ بالکل درست ہے کہ عالم ربانی علامہ اسیدالحق قادری علیہ الرحمہ اس مخطوطے پر کام کرناچاہتے تھے، کیوں کہ یہ ایک بےحد اہم اور مستندتذکرہ تھا،مگرمارچ ۲۰۱۴ء میں ان کی شہادت کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔ڈاکٹرخوشترنورانی صاحب عالم ربانی حضرت شیخ صاحب کے نہ صرف گہرے دوست، رازدار بلکہ ان کے علمی وتحقیقی ہم سفر تھے،اس لیے ان کی شہادت کے بعدخوشترصاحب کی خواہش پر یہ کام انھیں سونپا گیا۔حق بحق داررسید۔مجھے خوشی ہے کہ کتاب ایسے ہاتھوں میں پہنچی جس نے اس مہارت کے ساتھ اس کی تدوین وتحقیق کی ہے کہ اہل علم رشک کررہے ہیں ۔حالیہ دنوں اس کتاب پر ماہرمخطوطہ شناس ڈاکٹرعارف نوشاہی (پاکستان)نے جو ریمارک دیے ہیں وہ خوشتر صاحب کی علمی وتحقیقی صلاحیت کی حیثیت متعین کردیتاہے۔

رہی بات تحقیق کے دوران چندعلمی فروگزاشتوں کی تو قرآن کے علاوہ کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کی کتاب بشری خامیوں سے مبراہے ۔ کوئی اگر اس بنیاد پر کتاب کی اہمیت کو کم کرنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کودماغی علاج کی ضرورت ہے۔کتاب کی ا ہمیت و ثقاہت اس سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کےمحاسن و معائب کو اجاگر کرنے والاکس اہمیت کاحامل ہے۔ورنہ سیکڑوں کتابیں شائع ہوتی ہیں اورغائب ہوجاتی ہیں،انھیں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ پر آج اگربرصغیر کے مستندمحققین کچھ لکھ رہےہیں تو یقیناً اس سےکتاب کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ادبی حلقے میں توبعض مصنفین خوشامدکرکے اپنی کتاب پرنقدکرواتے ہیں تاکہ وہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بنے۔ خوشتر صاحب کوبے حد مبارک باد کہ ان کے حاسدین حسد میں اس کتاب کا چرچا کررہے ہیں اور محققین کتاب کی اہمیت کے پیش نظر۔

جام نور(۵): آپ کے علم میں ہوگا کہ جب سے ’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘شائع ہوکر منظرعام پر آئی ہے،بعض لوگ اس بات پر واویلا مچائے ہوئے ہیں کہ کتاب میں قادیانیوں کا ذکرشامل کیوں کیا گیااور ایسا کرکے قادیانیوں کو علمائے اسلام میں شامل کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔آپ کا کیا خیال ہے؟

مولانا محمدعطیف قادری:اس مضحکہ خیز اعتراض کا میں کوئی جواب نہیں دینا چاہتا، مگر آپ نے یہ سوال کرلیا ہے تو ایک لطیفہ سن لیجیے: ایک بار ایک مولانا صاحب کسی شخص کے یہاں کھانے پر گئے،میزبان نے اپنے بچوں کوبلایااور مولاناصاحب سے انھیں ملواکران سے دعا کی درخواست کی۔مولانا صاحب نے ان کا نام پوچھا تواس نے ایک بچے کا نام ’’تبّت یدا خاں‘‘ بتایا۔مولانانام سن کرہنس پڑےاورکہا کہ یہ کیسا واہیات نام ہے؟میزبان یہ سن کر تلملااٹھا اور غصے سے کہا کہ مولانا! آپ نام کا مذاق اڑارہے ہیں،جب کہ یہ لفظ قرآن میں ذکرہے، میں نے قرآن سے یہ نام رکھاہے۔مولاناصاحب کے لیے اب تو اپنی ہنسی پرقابو پانا مشکل ہوگیا،بڑی مشکل سے جب قابو پایا تو فرمایا کہ قرآن میں تو لفظ’’ مشرکین‘،’’کافرین‘‘،’’شیطان‘‘اور’’فرعون ‘‘بھی ہے، ان ہی میں سے کچھ رکھ لیتے۔قرآن میں کو ن سی بات کس حیثیت سے آئی  ہے،اس کا محل کیا ہےاورکیوں ذکرکی گئی ہے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ اس کوجانے بغیراستدلال کرنا،یا یہ کہنا کہ قرآن میں یہ موجود ہے اس لیے ہم نے بھی اس کواستعمال کیاہے یا یہ کہنا کہ قرآن میں ’’ مشرکین‘‘ ، ’’کافر ین ‘‘ ، ’’شیطا ن‘‘اور’’فرعون ‘‘کا ذکرکیوں گیاہے،اپنی جہالت کا اشتہار کرنا ہے۔ اب میزبان سٹپٹایا اوراسے کچھ غور و فکر کے بعد بات سمجھ میں آئی۔

’’تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘پر مذکورہ اعتراض کی حیثیت بھی اس لطیفے سے کم نہیں ہے۔اس میں قادیانی کا ذکر ہے تو کس حیثیت سے ہے ، اس کے متن میں کیالکھا گیا ہےاورحاشیہ میں کیا لکھا ہے،فن تاریخ اور تراجم کے موضوعات کیا ہوتے ہیں،یہ سمجھے بغیر واویلا مچانا کہ قادیانی کاذکر شامل کرکے اسے علمائے اسلام میں شامل کرلیاگیا ہے،ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآن میں  ’’مشرکین ‘‘ اور ’’کافرین‘‘،’’شیطان‘‘اور’’فرعون ‘‘کا ذکرکرکے انھیں زمرۂ مومنین میں شامل کرلیاگیاہے۔اگرتاریخ و تراجم کی کتابوں پر اس طرح اعتراض وارد کیاجانے لگے تو پھر بہت سے مستندائمہ دین اور ان کی کتابوں کی حرمت و توقیر سلامت نہیں رہے گی۔ اب کوئی مسلکی سرپھرا اٹھے اور یہ کہنے لگے کہ امام ذہبی (جو کہ اہل سنت و جماعت کے ثقہ ، مستند اور معتمدعلیہ عالم اورامام ہیں) نے اپنے تذکرے کی کتاب’’سیراعلام النبلاء‘‘میںابوداؤدظاہری جیسے گمراہ کن فرقے کے بانی،زمخشری اورجاحظ جیسے بڑے معتزلی،ابوطاہرسلیمان جیسے زندیق،عطا ساحر جیسے مدعی ربوبیہ کواپنی کتاب میں کیوں شامل کیا؟  ’’نبلاء‘‘میں ان کا کیا کام؟تو اس کی عقل اورمبلغ علمی پر فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔اس کومزیدسمجھنے کے لیے خوشتر صاحب کی ’’وضا حت‘ ‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ’’مظہرالعلماء‘‘ کے مصنف  حضرت مولانا سید محمدحسین بدایونی قادری نقش بندی علیہ الرحمہ اپنے اس تذکرے کو لکھنے کے بعد اٹھارہ سال تک با حیات رہے،اہل سنت کے وہ متدین اور معتمد عالم تھے،کبار علمائے اہل سنت سے ان کے دوستانہ مراسم تھے ، اس طویل مدت میں انھوں نے یقینا اہل سنت کے بہت سے علما کواپنی کتاب دکھائی ہوگی،مگر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا اور نہ اس کتاب کو لکھنے کے بعد ان کے عقائدو نظریات پر انگلی اٹھائی۔ مصنف کی توقیر دیکھنا ہو تو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی زیرسرپرستی نکلنے والا رسالہ’’تحفۂ حنفیہ‘‘ پٹنہ کے شمارے دیکھیں ،جس میں متعدد مقامات پر انھیں ’’ماحی بدعت ‘‘اور’’حامی سنن‘‘لکھا گیا ہے۔

میں نے یہ بھی سنا کہ پاکستان کے دوچارسرپھروں نے حضرت مصنف کے تعلق سے بڑی بدزبانی کی اور یہ لکھا کہ کتاب مشکوک تھی اس لیے شائع نہیں ہوئی۔اس جماعت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کے دینی ،مذہبی اور عقائد و کلام سے متعلق مباحث کو اخبار فروشوں،پولس حوالداروں اوران جیسی اہلیت کے لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے اور علماان کے خوف سے گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ کسی مخطوطے کے شائع نہ ہونے کی اگر یہی وجہ ہوتی ہے تو پھر بےشمار اکابر علمائے اہل سنت کی کتابیں(جو ،اب تک شائع نہیں ہوسکی ہیں یا جو ان کے وصال کے پچاس، سو،دو سو برسوں کے بعد شائع ہوئی ہیں)ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کتاب شائع نہ ہونے کی بہت سی دوسری وجوہات ہوسکتی ہیں۔

یہ اپنے عہد کا بے مثال تذکرہ ہے، ہمیں اس کی قدرکرنی چاہیے کہ تذکروں کی دنیا میں ایک اہم اور مستندتذکرے کااضافہ ہوا ہے۔ مصنف و مرتب کا احسان مندہونا چاہیے تاکہ محققین کو علمی کا موں کا حوصلہ ملتا رہے۔

جام نور(۶):کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ کتاب کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے اس کی اہمیت کو مجروح کیاگیاہے؟

مولانا محمدعطیف قادری:میں ایسا بالکل محسوس نہیں کرتا۔ نامور محققین نے ہمیشہ اسے بہت اہمیت دی ہے۔پروفیسر محمدایوب قادری ، نورالحسن راشد کاندھلوی اور ماہرالقادری جیسے لوگوں نے اس کا والہانہ ذکر کیا ہے اور اس کے حوالے دیے ہیں،اشاعت کے بعد برصغیر میں علمی دنیا نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا،اس پر اخبارات میں کالمز لکھے جارے ہیں، ناقدین اس پر مقالے لکھ رہے ہیں جو ریسرچ جرنلز میں شائع ہورہے ہیں ، اہل علم و دانش کتاب کا تقاضہ کررہے ہیں اور اس کتاب کی وجہ سے ڈاکٹر خوشترنورانی صاحب کو متعددیونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے مقالات کا ممتحن بنادیا گیا اور متعدد ریسرچ جرنلز کا مبصر اور مشیر نامزد کیا گیا۔

دیکھئے کتاب کے علمی وفنی حیثیت اہل علم طے کرتے ہیں۔ اگر کوئی کتاب اہمیت کی حامل اور قابل قدر ہے،آپ خواہ کتنی ہی مخالفت کرلیں،تاریخ میں وہ اپنی جگہ خود بنالیتی ہے۔

(جام نورآن لائن،شمارہ اپریل ۲۰۱۹ء)

 

image_pdfڈاؤن لوڈimage_printپرنٹ کریں

مضمون نگارکے بارے میں

mm

ایڈمن

تبصرہ لکھیے‎

Click here to post a comment